کیا یمن میں تاریخ انسانی کا سب سے بڑا سانحہ ہونے کو ہے؟

عاصم اعجاز

جمال خاشقجی خوش نصیب آدمی ہے؟ خوش نصیب ان معنوں میں کہ اس کے لاپتہ ہونے اور قتل ہونے کو دنیا بھر کے میڈیا میں بھر پور کوریج ملی۔جمال خاشقجی دنیا بھر کے تمام بڑے اخبارات اور میڈیا کی ہیڈلائنز تھا اور یہ میڈیا کا دباؤ تھا کہ پولیس نے دنوں میں اس معمہ کو حل کر لیا۔

جن دنوں میں جمال خاشقجی کی خبر ہیڈلائن تھی تقریبا انہی دنوں میں نیویارک ٹائمز میں ایک تصویر اور ایک خبر شائع ہوئی لیکن اس کو وہ اہمیت نہ ملی۔ یہ تصویر امل حسین کی تھی اور خبر ڈیکلن واش نے دی تھی۔ ہڈیوں کا ڈھانچہ یہ بچی خوراک کی کمی کی وجہ سے پہلے ہڈیوں کا ڈھانچہ بنی اور پھر موت کا شکار ہوگئی۔
ایک خبر کے مطابق یمن میں تقریبا ڈیڑھ کروڑ لوگ قحط کا شکار ہیں اور بدنصیبی کی بات یہ ہے کہ ان ڈیڑھ کروڑ لوگوں میں قحط کا شکار امل حسین جیسے بچوں کی تعداد پچاس لاکھ ہے جو موت کا شکار ہونے جارہے ہیں۔
اگر یمن تنازع کی بات کی جائے تو عرب دنیا کے اس غریب ترین ملک میں 2014 میں اس وقت تنازع شروع ہوا جب حوثی باغیوں نے دارالحکومت صنعا کا کنٹرول سنبھالا اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم کردہ حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اس کے بعد 2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں عرب ممالک کے اتحاد نے حوثیوں کے خلاف لڑائی کا آغاز کیا۔ تاہم اس تنازع کی زد میں بڑی تعداد میں عام شہری آئے ۔ یمن کے پڑوسی ممالک کی یہ ’’پراکسی جنگ‘‘ اب تک 10 ہزار سے زائد افراد کی جان لے چکی ہے اور لاکھوں لوگ اپنا گھربار چھوڑ کر اقوام متحدہ کے بنائے گئے عارضی کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کے بدترین انسانی حقوق کے بحران کا سامنا کرنے والے ملک یمن میں قحط کے خلاف جنگ میں شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے ‘اے پی’ کے مطابق انسانی حقوق کے سبراہ مارک لوکوک نے موجودہ صورتحال کو ’بدترین‘ قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ حالیہ ہفتوں کی صورتحال خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ’ملک بھر میں پھیلتے قحط کے نتیجے میں بڑی تعداد میں زندگیوں کے نقصان کو روکنا ناممکن ہے لہٰذا اب ہمیں ایک نقطہ آغاز پر پہنچنا چاہیے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم پہلے ہی قحط کی ایسی صورتحال دیکھ رہے ہیں جہاں لوگ پتے تک کھا رہے ہیں‘۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’ڈرامائی طور پر معیشت کی تباہی‘ کے نتیجے میں یمن کی کرنسی کی قیمت 30 فیصد تک کم ہونا اور بحیرہ احمر کی حدیدیہ بندرگاہ کے ارد گرد جاری لڑائی میں تیزی آنا دونوں ایسے واقعات ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ امدادی سرگرمیوں کو مغلوب کرنے کی دھمکی ہے۔ خیال رہے کہ حدیدیہ بندرگارہ خوراک، ادویات اور دیگر ضروری سامان کی فراہمی کے لیے اہم بندرگاہ ہے۔
مارک لوکوک کا مزید کہنا تھا کہ رواں سال کے ابتدائی 6 ماہ میں اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے گروہوں نے 80 لاکھ سے زائد یمن کے شہریوں کو امداد فراہم کی اور ان میں سے زیادہ تر ایسے تھے، جنہیں یہ تک نہیں معلوم تھا کہ ان کی اگلی غذا کہاں سے آئے گی۔انہوں نے کہا کہ زیادہ تر یمنی بیرونی خوراک پر انحصار کرتے ہیں اور کرنسی کی صورتحال نے 10 لاکھ کے قریب شہریوں کے لیے خوراک کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ کردیا، جس کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں کا حصہ نہ ہونے والے یمنی مقررہ مقدار میں خوراک نہیں حاصل کرسکے۔
انہوں نے کہا کہ یمن کی صورتحال کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں بھی ’بے پناہ‘ اضافہ دیکھنے میں آیا۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ حالیہ ہفتوں میں حدیدیہ کے اطراف بڑھتی ہوئی جنگ نے ضرورت مندوں کے لیے ’زندگی کا راستہ‘ روک دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں کی لڑائی میں حدیدیہ سے صنعا جانے والا زمینی راستہ منقطع ہوگیا ہے جبکہ یہ راستہ تجارتی درآمد کنندگان اور امدادی گروہوں کے لیے امداد فراہم کرنے کا مرکزی راستہ تھاُ۔مارک لوکوک نے کہا کہ مسلح گروہوں نے انسانی حقوق کی تمام سہولیات پر قبضہ کرلیا ہے اور ان کے حملوں کے نتیجوں میں درجنوں شہری ہلاک جبکہ صحت اور پانی فراہم کرنے کی سہولیات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔انسانی حقوق کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اندازہ لگایا ہے کہ تقریباً 35 لاکھ اضافی لوگ خوراک سے محروم 80 لاکھ افراد میں شامل ہوسکتے ہیں‘۔مارک لوکوک نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ اپنی امدادی سرگرمیوں کو بڑھائے تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ ناممکن ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیم 2 کروڑ 90 لاکھ یمنی شہریوں کی تمام ضروریات پوری کرسکے
جیسے جیسے دن گزرتے جارہے ہیں ویسے ویسے قحط سے مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کے خدشات منڈلا رہے ہیں اور ڈر ہے کہ یمن میں قحط بنگال ، افریقہ سے بڑسانحہ نہ ہو جائے۔

اگرچہ دیر سے ہی سہی عالمی برادری کو اس  جنگ  کو روکنے کے لئے اقوام متحدہ کی مدد کرنی ہوگی۔ برطانیہ اور امریکہ نے بھی جنگ بندی پر زور دیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بھی حوثی باغیوں سے سعودی عرب اور سعودی اتحاد سے یمن میں حملے روکنے کا مطالبہ کر دیاہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آئندہ ماہ اقوام متحدہ کے تحت بات چیت شروع کی جانی چاہیے۔مائیک پومپیو کا مزید کہنا تھا کہ یمن میں جاری جنگ روکنے کیلئے اگلے ماہ مذاکرات شروع ہونے چاہیں، سعودی عرب اور یو اے ای پر حوثیوں کے میزائل حملے بھی بند ہونے چاہیں، جب کہ سعودی اتحاد کو یمن پر میزائل حملے بند کرنے چاہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی برادری خصوصا امریکہ ،روس اور یورپی ممالک اپنے اختلافات کو پس پشت ڈال کر اقوام متحدہ کی مدد کریں اور اس مسلئے کے سیاسی حل کو تلاش کریں اور جو ممالک یمن میں ’’پراکسی جنگ‘‘ لڑ رہے ہیں ان کو مجبورکیا جائے کہ اپنے اپنے حلیفوں کی امداد بند کریں ۔ متحارب گروہوں کو اقوام متحدہ کے زیر انتظام مذاکرات کا حصہ بنائیں تاکہ اس تنازعے کا سیاسی حل تلاش کیا جاسکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *