کالا دھن سفید کروائیں اسکیم – عاصم اعجاز

قارئین محترم ہماری اور آپ کی زندگی ایک دائرے کا سفر ہے۔ ہر نئی حکومت ہمیں ایک اچھی حکومت دینے کا وعدہ کرتی ہے اور جب ہم آگے بڑھتے ہیں تو یہ ایک سراب سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا۔

موجودہ حکومت نے بھی اشرافیہ کو ٖ فائدہ پہنچانے کے لئے ”کالا دھن کو سفید کرنے“ کے لئے اعلان کر دیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت اوپن پلاٹ، زمین، سُپر سٹرکچر اور اپارٹمنٹ ظاہر کرنے کے لئے ڈیڑھ فیصد ٹیکس دینا ہوگا۔ اسکیم کے تحت 4 فیصد ٹیکس کی ادائیگی پر بے نامی گاڑیاں بھی ظاہر کی جا سکیں گی، پاکستانی کرنسی میں کھولے گئے بے نامی اکاونٹس میں موجود دولت پر 4 فیصد ٹیکس دینا ہوگا اور فارن کرنسی بے نامی اکاؤنٹ میں دولت کو ظاہر کرنے کے لئے بھی 4 فیصد ٹیکس دینا ہوگا۔ جب کہ اثاثوں کی ویلیو ایف بی آر کی مقررہ ویلیو سے 150 فیصد تک مقرر ہوگی۔

ایف بی آر کی جانب سے غیر ملکی اثاثے و دولت ظاہر کرنے کے لیے بھی الگ سے ڈیکلریشن فارم جاری کیا گیا ہے۔ غیر ملکی غیر منقولہ جائیداد ظاہر کرنے پر 4 فیصد ٹیکس دینا ہوگا، غیر ملکی لیکوئیڈ اثاثہ جات ظاہر کر کے واپس پاکستان لانے پر 4 فیصد ٹیکس دینا ہو گا اور لیکوئیڈ اثاثہ ظاہر کر کے واپس لانے نہ لانے پر 6 فیصد ٹیکس دینا ہوگا، ڈکلریشنز پر 30 جون 2019 تک ٹیکس ادائیگی کی صورت کسی قسم کا جرمانہ ادا نہیں کرنا ہوگا جب کہ کمپیوٹرائز پیمنٹ رسید پر ٹیکس کی رقم اور جرمانے کی رقم کی تفصیل بھی

دینا ہوگی۔

تحریک انصاف کوئی پہلی حکومت نہیں جس نے ٹیکس اکٹھا کرنے کے نام پر ”اشرافیہ‘‘ کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ اپنے کالے دھن کو تھوڑے سے پیسے ادا کر کے سفید کروا لیں۔ بد نصیبی تو یہ ہے کہ ہر آنے والی حکومت اپنے اپنے وفاداروں کو نوازنے کے لئے ایسی اسکیموں کا اجرا کرتی ہیں۔ کمال بات تو یہ ہے کہ یہی جماعتیں جب اپوزیشن میں ہوتی ہیں تو ایسی کسی بھی اسکیم کی مخالفت کرتی ہیں۔

تحریک انصاف کی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم بھی حکومتی لانڈری میں دُھل کر ”حلال کدے“ میں شامل ہو گئی ہے۔ کل تک حکمران جماعت جس ٹیکس ایمینسٹی اسکیم کو ٹیکس چوروں کے لیے ”مراعات“ قرار دے کر اس پر تنقید کرتی تھی اب وہ ”حلال“ ہو چکی ہے۔ ٹیکس چور، دو نمبر طریقے سے مال کمانے والے، چور ڈاکو، ایمان دار اور بے ایمان سب اپنا سارا پیسہ آرام سے حلال کر سکتے ہیں۔

بادی النظر میں آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے حوالے سے پیدا ہونے والے خدشات اور سوالات کو دبانے کے لیے حکومت نے فوری طور پر ٹیکس ایمینسٹی اسکیم نافذ کر دی ہے۔ تاکہ قوم ٹیکس ایمینسٹی اسکیم نامی ٹرک کی ”بتی“ کے پیچھے لگی رہے اور

آئی ایم ایف سے معاہدے پر اٹھنے والا شور دبا رہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *