کتابوں پر تبصرہ- چالیس چراغ عشق کے

چالیس چراغ عشق کے

2 جولائی, 2019Share

عاصم اعجاز

قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے، ترجمہ:”اور جو ایمان لائے اللہ کے لئے ان کی محبت بہت شدید ہے”( بقرۃ)

انسان کو بہت سے رشتوں اور اشیاء سے محبت ہوتی ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ سے محبت، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے محبت، ماں ، باپ، بیوی، بچے، بہن بھائی، رشتہ دار، دوست، گھر، زمین جائیداد، شہر، قبیلہ، برادری، خاندان، ملک اور کاروبار وغیرہ سے محبت۔ جس محبت میں شدت اور جنون پیدا ہو جائے اور وہ باقی تمام محبتوں پر غالب آجائے اسے عشق کہتے ہیں۔ عشق باقی تمام محبتوں کو جلا کر راکھ کر دیتا ہے ا ور باقی تمام محبتوں پر حاوی ہوجاتا ہے۔ جیسے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا اِرشادِ مبارک ہے: “اِس وقت تک تمہارا ایمان کامل نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں تم ک تمہاری جانوں، بیوی، بچوں، گھر بار اور ہر چیز میں سب سے زیادہ پیارا نہیں ہوجاتا”۔ اللہ نے اللہ پاک سے شدید محبت کو مومنین کی صفت قرار دیا ہے۔

اپنی انا اور نفس کو ایک انسان کے سامنے پامال کرنے کا نام عشق مجازی ہے اور اپنی انا اور نفس کو سب کے سامنے پامال کرنے کا نام عشق حقیقی ہے۔ اصل میں دونوں ایک ہیں۔ عشق حقیقی ایک درخت ہے اور عشق مجازی اسکی شاخ ہے۔ جب انسان کا عشق لاحاصل رہتا ہے تو وہ دریا کو چھوڑ کر سمندر کا پیاسا بن جاتا ہے، چھوٹے راستے سے ہٹ کر بڑے مدار کا مسافر بن جاتا ہے۔ تب، اس کی طلب، اس کی ترجیحات بدل جاتیں ہیں۔

اپنی انا اور نفس کو ایک انسان کے سامنے پامال کرنے کا نام عشق مجازی ہے اور اپنی انا اور نفس کو سب کے سامنے پامال کرنے کا نام عشق حقیقی ہے

رومی اور شمس تبریز کی دوستی ان کی محبت اور ان کا عشق سات سو برس کے بعد بھی پراسراریت کی دھند میں کھویا ہوا ہے۔ مختلف محققین اس رشتے کی حقیقت اور معنویت کے بارے میں متفق نہیں ہیں۔ بعض کا خیال ہے وہ عشق روحانی تھا، کچھ کا گمان ہے وہ رومانوی تھا، بعض کو یقین ہے وہ جذباتی تھا جبکہ کوئی کہتے ہیں کہ ایسے عشق کا تجزیہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ انسانی اور روحانی عشق کی اس معراج پر تھا جہاں فنا اور بقا آپس میں بغلگیر ہو جاتے ہیں۔

رومی اور شاہ شمس کے حوالے سے کافی کچھ لکھا جاچکا ہے۔ اسی موضوع پر کچھ عرصہ پہلے ایک ناول ”باب اسرار” پڑھنے کا اتفاق ہوا تھا۔ جسے احمد احمیت نے لکھا تھا۔

احمت امیت کا شمار ترکی کے معروف اور مقبول ترین لکھاریوں میں ہوتا ہے۔ احمت امیت اپنے ناولوں اور کہانیوں میں پراسراریت اور تجسس کے عنصر کے لیے مشہور ہیں۔ منفرد، تجسس انگیز اور سنسنی خیز کہانیاں لکھتے ہوئے وہ اپنے آبائی وطن کے منفرد سیاسی اور تاریخی پس منظر میں اپنے کرداروں کو تخلیق کرتے اور کہانی تشکیل دیتے ہیں ان کا ناول “بابِ اسرار” ان کے ناول The Dervish Gateکا اردو ترجمہ ہے جو ترکی زبان میں باب اسرارکے نام سے شائع ہوا۔

چالیس چراغ عشق کے رومی اور شمس تبریز کی دوستی، ان کی محبت کے موضوع پر ایک نیا ناول ہے جسے ایلف شفق نے تحریر کیا ہے۔ ایلف شفق، ترکی کی مقبولِ عام ادیبہ ہیں۔ وہ اپنی کہانیوں میں پیش کردہ مشرق اور مغرب کے خوبصورت امتزاج کے باعث دنیا بھرمیں معروف ہیں۔ ناقدین کے مطابق، وہ ہم عصر ترکی ادب اور عالمی ادب میں ایک جداگانہ آواز ہیں۔ ان کی تحریروں کا موضوع خواتین، حقوقِ نسواں، اقلیتیں، تارکین وطن اور ان کے مسائل، متنوع ثقافتیں، ثقافتی سیاست، تاریخ، فلسفہ اور خصوصاً صوفی ازم رہے ہیں۔

ایلف شفق کو ان کے ناول ”The Forty Rules of Love”  پر عالمی سطح پر شہرت حاصل ہوئی۔

“چالیس چراغ عشق کے” اسی ناول کا اردو ترجمہ ہے جو ترکی زبان  میں Ask  کے نام سے لکھا گیا تھا۔ ناول کی کہانی حقیقت اور تخیل کا امتزاج ہے اور معروف صوفی شاعر جلال الدین رومی اور درویش شمس تبریز کے گرد گھومتی ہے۔

اس ناول میں دو کہانیاں ہیں ایک کا تعلق موجودہ زمانے سے ہے اور دوسری کا تعلق ماضی سے ہے۔ ناول کا مرکزی کردار امریکی ریاست میساچوسٹس میں مقیم ایک گھریلو خاتون ایلا ہے، جس کی زندگی کی ڈگر ایک صوفی درویش سے رابطے پر بدل جاتی ہے۔ ایلا ایک شادی شدہ عورت ہے جس کے تین بچے ہیں۔ چالیس برس تک ایلا کی زندگی ساکن پانی جیسی تھی اس کا شوہر ڈیوڈ  ایک کامیاب ڈینٹسٹ تھا جس نے ڈھیروں دولت کمائی۔ وہ ہمیشہ سے جانتی تھی کہ اس کا اور اس کے شوہر کا رشتہ مضبوط اور گہرا نہیں تھا تھا اسے پتہ تھا کہ اس کا شوہر ایک بے وفا شخص ہے جس کی زندگی میں کئی عورتیں آتی رہتی تھیں پھر اس کی اپنی زندگی میں میں ایک شخص کی آمد ہوئی کوئی جس نے اس کی شاد ی شدہ زندگی میں میں اتل پتھل کر دی۔

دوسری جانب شمس تبریز اور مولانا رومی کی داستان عشق کی کہانی قاری کو اپنی گرفت لئے آگے بڑھتی ہے۔ شمس تبریزجو کہ بچپن سے روحانی خیالات کا پیکر ہوتا ہے وہ اپنے گھر کو ہمیشہ کے لئے خیرباد کہتا ہے اور ملکوں ملکوں، شہر شہر درویشوں کی تلاش میں قونیہ پہنچ جاتا ہے، جہاں وہ مولانا رومی سے ملتے ہیں، شمس جہاں بھی جاتے وہاں درویشوں کے دلوں پرانمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔ جیسے ہی رومی شمس تبریز سے ملتے ہیں وہ اپنی ظاہری نمود و نمایش،عام مجالس، اور تدریسی کام سے نکل کرعارفانہ و صوفیانہ راہ پر گامزن ہوتے ہے۔ شمس کی باتیں ہر عام شخص کی فہم میں نہیں آتی اور وہ انہیں بدعتی، اسلام مخالف وغیرہ سمجھنے لگتے ہیں۔ شمس کہتا ہے کہ ہر شخص کو کھلی اجازت ہے کہ اپنے طریقہ سے عبادت کرئے۔خدا کواس سے کوِئی سروکار نہیں وہ صرف دلوں کی دیکھتا ہے۔

مولانا رومی جب خطبے و تقاریر، درس و تدریس چھوڑ کر خودشناسی کے سفرپر شمس تبریز کے ساتھ گوشہ نشنی اختیار کرتے ہیں تو ان کے گھر والے اورقونیہ کے لوگوں کو ان کی خلوت پسندی و گوشہ نشنی پسند نہیں آتی ہے۔ وہ شمس تبریز کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ شمس نے رومی پر کالا جادو کر کے اسے اپنی قابو میں کر لیا ہے۔ روز بہ روز شمس تبریز کے بد خواہوں میں اضافہ ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ مولانا رومی کا بیٹا علاوالدین ان کا دشمن بن جاتا ہے۔ مولانا کے مرید اور گھر والے سب مولانا کا قرب چاہتے ہیں مگر رومی ہے کہ وہ اپنے مرشد سے پل بھر کے لئے بھی دوری نہیں چاہتے، آخر کار مولانا رومی کا بیٹا علاو الدین اور قونیہ کے کچھ اوباش مل کر شمس کو قتل کردیتے ہیں۔اب رومی کی دنیا اجڑ جاتی ہے اور وہ شعر گوئی کے ذریعے غم جاناں کا تذکرہ کچھ اس انداز سے کرتے ہیں کہ ہر  سننے والے پراس کا اثر ہوتا اور ان کے یہ اشعار دیوان رومی کی شکل اختیار کر گئے۔

اردو میں اس ناول کا ترجمہ ہما انور نے کیا ہے اور کیا خوبصورتی سے انہوں نے اسے اردو زبان میں منتقل کیا ہے کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاید اسے لکھا ہی اردو زبان میں گیا ہے۔ اس موضوع سے مترجم کی محبت کا اظہار جگہ جگہ ان کی ہنر مندی میں نظر آتا ہے۔ مثال کے طور پر جب کمیا شمس تبریز سے قران کی سورہ  النساء کی ایک آیت کا مطلب پوچھتی ہے اور وہ اس کے جواب میں میں پہلے سے موجود ترجمے کی جگہ یہ ترجمہ بتاتے ہیں۔

“مرد  عورتوں کا سہارا ہیں کیونکہ اللہ نے کچھ انسانوں کو دوسروں سے زیادہ ذرائع سے نوازا ہے اور کیونکہ وہ اپنے مال میں سے خرچ کرتے ہیں (عورتوں کی کفالت کے لیے)-  بس نیک عورتیں اللہ کی اطاعت شعار ہوتی ہیں اور پوشیدہ چیزوں کی حفاظت کرتی ہیں جیسا کہ اللہ نے حفاظت کا حکم دیا ہے- اور وہ عورتیں کہ جن سے تم کو نافرمانی کا اندیشہ ہو؛ انکو بات کر کے قائل کرو۔ پھر ان کو ان کے بستر میں تنہا چھوڑ دو(انہیں ستائے یا تکلیف دیے بغیر) اور ان کے ساتھ بستر میں جاؤ (جب ان کی رضاومرضی ہو)- اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو انہیں تکلیف دینے کا کوئی بہانہ تلاش مت کرو- بے شک اللہ تعالی سب سے بلند اور عظیم تر ہے”۔

اسی طرح  ایک جگہ وہ کیرا سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں:

“عیسائی یہودی اور مسلمان ان مسافروں کی طرح ہیں جو ظاہری صورت پر جھگڑتے ہیں”۔

“مذاہب دریاؤں کی مانند ہیں وہ سب ایک ہیں سمندر کی جانب  بہتے ہیں۔”

اس ناول میں شمس اور رومی کے علاوہ کئی کردار ہیں جیسے کمیا، ایلاء، طوائف، گل صحرا، علاؤالدین، سلطان ولد وغیرہ اور ان سب کرداروں کی الگ سے اپنی اپنی کہانی ہے۔ یہ انتہائی دلچسپ ناول ہے۔ ادب کے قارئین کے لیے یہ منفرد تجربہ ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *