اسٹیٹ بینک نے درآمد شدہ گاڑیوں کیلئے قرضوں کے حصول میں سختی کردی

اسٹیٹ بینک نے درآمد شدہ گاڑیوں کیلئے قرضوں کے حصول میں سختی کردی

کراچی: بڑھتے ہوئے تجارتی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے نے اسٹیٹ بینک کو خاص طور پر درآمد شدہ گاڑیوں کے لیے احتیاطی ضوابط میں تبدیلی اور مالی اعانت کی حد اور مدت کو کم کر کے درآمدات کو سست کرنے پر مجبور کردیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مرکزی بینک نے صارفین کی مالی اعانت کے لیے احتیاطی ضابطوں پر نظر ثانی کردی ہے۔

اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ یہ ٹارگٹڈ قدم معیشت میں طلب کے اضافے کو اعتدال میں لانے میں مدد دے گا، جس کی وجہ سے درآمد کی رفتار کم ہو جائے گی اور اس طرح ادائیگیوں کے توازن میں مدد ملے گی

ملک کو بہت زیادہ درآمدی نمو کی وجہ سے بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کے ساتھ ادائیگیوں کے توازن کے سنگین مسئلے کا سامنا ہے، اس سے پہلے درآمدی نمو کو معاشی نمو کے لیے ضروری قرار دیا گیا تھا۔

صرف اگست کے مہینے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ کر ڈیڑھ ارب ڈالر ہو گیا تھا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اسٹیٹ بینک کے مالی سال 2022 کے لیے جی ڈی پی کے 2 سے 3 فیصد رہنے کے تخمینے سے آگے نکل سکتا ہے۔

موجودہ رجحان واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ بہت زیادہ خسارہ ملک کے منتظر ہے۔

اسٹیٹ بینک سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ‘احتیاطی ضوابط میں ان تبدیلیوں میں درآمد شدہ گاڑیوں کے لیے قرضوں کو ممنوع قرار دیا گیا ہے اور ملک میں ایک ہزار سی سی انجن کیپیسٹی سے زائد کی بنی ہوئی/تیار کردہ گاڑیوں کے قرضوں کے لیے صارفی قرے کی دوسری سہولتوں مثلاً ذاتی قرض اور کریڈٹ کارڈز کے لیے ضوابطی تقاضے سخت بنائے گئے ہیں۔

نئی تبدیلیوں کے مطابق گاڑیوں کے قرضوں کی زیادہ سے زیادہ مدت 7 سال سے کم کر کے 5 سال اور ذاتی قرضے کی زیادہ سے زیادہ مدت 5 سے کم کر کے 3 سال کردی گئی ہے۔

ترمیم شدہ قواعد میں ڈیٹ برڈن کا زیادہ سے زیادہ تناسب جس کی قرض لینے والے کو اجازت ہوتی ہے اسے 50 فیصد سے کم کر کے 40 فیصد کردیا۔

علاوہ ازیں کسی ایک فرد کے لیے تمام بینکون/ترقیاتی مالیاتی اداروں سے گاڑیوں کے قرضوں کی مجموعی حد کسی بھی وقت 30 لاکھ روپے سے زائد نہیں ہوگی اور گاڑی کے قرض کے لیے کم از کم ڈاؤن پیمنٹ 15 فیصد سے بڑھا کر 30 فیصد کردی ہے۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: