اسپیکٹرم کی توقع سے کم فروخت، وجوہات کا تعین ضروری

اسپیکٹرم کی توقع سے کم فروخت، وجوہات کا تعین ضروری

اسلام آباد: براڈبینڈ اسپیکٹرم کے حالیہ آکشن میں چار میں سے صرف ایک کمپنی نے فروخت کیلیے پیش کردہ اسپیکٹرم کے ایک تہائی سے بھی کم کی بولی لگائی جب کہ ٹیلی کوم سیکٹر سے منسلک افراد اس کی توقع نہیں کررہے تھے۔

اسپیکٹرم کنکٹیوٹی کی ضرورت ڈیجیٹل پاکستان کا پہلا ستون ہے مگر وطن عزیز میں  ٹیلی کوم سیکٹر تمام ہمسایہ ممالک (ماسوائے افغانستان) سے پیچھے ہے۔  براڈبینڈ انٹرنیٹ کا معیار اور رفتار  بڑے شہروں کے کچھ متمول علاقوں کے سوا ملک بھر میں قابل رحم ہے۔

ڈیجیٹل پاکستان کا خواب  موبائل براڈبینڈ پر انحصار کرتا ہے کیوں کہ  پی ٹی اے کے مطابق براڈ بینڈ کے 104ملین سبسکرپشنز میں سے 102 ملین موبائل ہے۔ اس ضمن میں اسپیکٹرم کا اہم کردار ہے مگر پاکستان میں اسپیکٹرم کا اجرا سب سے کم ہے۔

اس کے باوجود حالیہ آکشن میں پیش کردہ پوری اسپیکٹرم  فروخت نہیں ہوپائی۔ اس کی سب سے اہم حکومت کی جانب سے مقررکردہ بلند قیمت تھی۔ اسپیکٹرم کی فروخت میں ناکامی سے  غیرملکی سرمایہ کاروں پر منفی تاثر جاتا ہے۔

دوسری جانب سرکاری حکام کا  دعویٰ ہے کہ اسپیکٹرم کی فروخت میں ناکامی کا سبب بلند قیمت نہیں بلکہ یہ ہے کہ پاکستان میں  اسپیکٹرم کی مانگ نہیں ہے۔ اس  کی دلیل میں وہ 2014، 2016 اور 2017  میں کیے گئے آکشن کی مثالیں پیش  کرتے ہیں۔

اگر یہ سچ ہے تو پھر حکومت کو اسپیکٹرم کی کم مانگ کی وجوہات کا تعین اور تدارک کرنا چاہیے کیوں کہ دنیا بھر میں موبائل نیٹ ورک آپریٹرز کے درمیان اسپیکٹرم  کی مانگ میں ہمیشہ سے اضافے کا رجحان ہے۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: