افعانستان کے سفیر کی بیٹی کا ’اغوا‘: افغانستان کو سفارتی عملے اور ان کے خاندانوں کے تحفظ پر تشویش

افعانستان کے سفیر کی بیٹی کا ’اغوا‘: افغانستان کو سفارتی عملے اور ان کے خاندانوں کے تحفظ پر تشویش

پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد میں پولیس کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے افعانستان کے سفیر کی بیٹی کو نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کرنے کی کوشش کی ہے تاہم پولیس کے بقول ملزمان ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے اور نامعلوم ملزمان سفیر کی بیٹی پر مبینہ طور پر تشدد کرنے کے بعد فرار ہو گئے۔

پاکستان کے وزیر اعظم نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر داخلہ، پولیس اور متعلقہ اداروں کو واقعے اولین ترجیح کے طور تحقیقات کرتے ہوئے پر 48 گھنٹے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

وزیر اعظم کی جانب سے جاری بیان کے مطابق حکام افغان سفیر اور ان کے گھرانے کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

پاکستان کے وزیر داخلہ شیخ رشید نے کا کہنا ہے کہ انھوں نے پولیس کو اس واقعے میں ملوث افراد کو جلد از جلد گرفتار کرنے کی ہدایت جاری کی۔

واقعہ کیسے پیش آیا؟

پولیس کے کہنا ہے کہ یہ واقعہ تھانہ کوہسار کی حدود میں واقع بلیو ایریا میں پیش آیا جہاں پر افغان سفیر کی بیٹی خریداری کے لیے گئی تھی کہ واپسی پر گاڑی میں سوار ہوتے ہوئے نامعلوم مسلح افراد انھیں اغوا کر کے نامعلوم مقام پر لے گئے۔

پولیس ذرائع کے مطابق مقامی پولیس کو اس واقعے کی اطلاع ایک سویلین خفیہ ادارے کے اہلکار نے دی اور اس اطلاع کے مطابق افغان سفیر نجیب اللہ کی بیٹی اپنے بھائی کے لیے گفٹ خریدنے بلیو ایریا گئی اور واپس گھر جانے کے لیے انھوں نے ایک ٹیکسی کو روکا۔

مقامی پولیس کے مطابق جب وہ گاڑی میں سوار ہونے لگیں تو ایک نامعلوم شخص ان کی گاڑی میں سوار ہو گیا جس پر پولیس کے بقول لڑکی نے اعتراض کیا اور گاڑی سے نکلنے کی کوشش کی تو اسی دوران ایک اور نامعلوم شخص زبردستی ان کی گاڑی میں بیٹھ گیا اور ان کے منہ پر ہاتھ رکھ کر چپ کروایا اور پھر تشدد کیا جس سے وہ بے ہوش ہو گئیں۔

اس رپورٹ کے مطابق افغان سفیر کی بیٹی کو جب ہوش آیا تو انھوں نے خود کو ایک جنگل میں پایا اور جب انھوں نے ایک راہگیر سے اس جگہ کے بارے میں دریافت کیا تو ان کو بتایا گیا کہ یہ سیکٹر ایف سیون کا علاقہ ہے۔

پولیس کو ملنے والی اطلاع کے مطابق افغان سفیر کی بیٹی نے وہاں سے ایک اور ٹیکسی کرائے پر لی اور ایف نائن پارک میں جا کر وہاں سے اپنے ایک جاننے والے جس کا نام حکمت بتایا جاتا ہے، کو فون کیا اور پھر وہاں سے سرکاری گاڑی میں واپس اپنے گھر پہنچ گئیں۔

جھنڈے

افغانستان کی جانب سے مذمت اور تشویش کا اظہار

افغانستان کی وزرات خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’ پاکستان میں افغانستان کے سفیرکی بیٹی کو کئی گھنٹوں تک اغوا کیا گیا اور نامعلوم افراد نے انھیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ اغوا کاروں کی قید سے رہا ہونے کے بعد وہ ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’وزارت خارجہ اس گھناؤنے اقدام کی شدید مذمت کرتا ہے اور پاکستان میں سفارتی عملے، ان کے اہل خانہ اور افغان سیاسی اور قونصلر مشنز کے عملے کے ممبروں کی حفاظت اور سلامتی پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔‘

بیان میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بین الاقوامی معاہدوں اور کنونشنوں کے مطابق افغان سفارت خانے اور قونصل خانے کی مکمل حفاظت کے ساتھ ساتھ سفارتی اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری ضروری اقدامات اٹھائے۔‘بیان میں مزید کہا گیا کہ ’ہم پاکستانی حکومت پر زور دیتے ہیں کہ جلد از جلد مجرموں کی شناخت کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔‘

پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے تعاون کی یقین دہانی

دفتر خارجہ کے ترجمان نے اس واقعہ کے بارے میں کہا ہے کہ اس سے متعلق افغانستان کی وزارت خارجہ نے گذشتہ شب رابطہ کیا تھا اور اس واقعہ کی اطلاع ملنے کے فوری بعد اسلام آباد پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وزارت خارجہ اور سکیورٹی کے متعقلہ ادارے افغانستان کے سفیر اور ان کی فیملی سے قریبی رابطے میں ہیں اور انھیں مکمل تعاون کا یقین دلایا گیا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ افغانستان سفیر اور ان کے خاندان کی حفاظت کے لیے سکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ذمہ داروں کو پکڑنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ انھیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جاسکے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے اس عزم کو دہرایا کہ سفارتی مشن اور سفارت کاروں کی سکیورٹی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس قسم کے واقعات کو کسی طور پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔

افعانستان کی وزارت خارجہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اس واقعہ کا ذکر کیا ہے۔

پولیس تحقیقات میں اب تک کیا پتا چلا؟

اسلام آباد پولیس کے ترجمان نعیم اقبال کا کہنا ہے کہ ابھی تک اس واقعہ کے بارے میں مقدمہ درج نہیں کیا گیا اور پولیس حکام اس واقعہ سے متعلق تمام پہلوؤں پر تفتیش کر رہے ہیں۔

ترجمان کے مطابق اسلام آباد پولیس کے اعلی افسران نے افغان سفیر اور ان کی بیٹی سے رابطہ کیا ہے اور انھیں مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔

اس واقعہ کی تحققیاتی ٹیم میں شامل پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ افغان سفیر کی بیٹی کا بیان تو ریکارڈ کر لیا گیا ہے تاہم ان کے بیان اور جو واقعہ ہوا ہے اس کے کچھ سوالات پیدا ہوتے ہیں جن کی تحقیقات کی جارہی ہیں اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ اغوا کے بعد جب افغان سفیر کی بیٹی کو ہوش آیا تو وہ اس وقت ایف سیون میں تھیں تو پھر وہاں سے ٹیکسی پولیس کروا کر ایف نائن پارک کیوں گئیں جبکہ ان کی رہائش گاہ سیکٹر ایف سیون میں ہی ہے۔

پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی ٹیم اس ٹشو پیر میں لپٹے پچاس روپے کے نوٹ پر بھی تفتیش کرر ہی ہے جو افغان سفیر کی بیٹی کے دوپٹے کے ساتھ بندھا ہوا تھا اور جس پر یہ تحریر تھا کہ ’اگلی باری تمہاری ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ پولیس نے افعان سفیر کی بیٹی کے زیر استعمال موبائل فون کا ڈیٹا بھی حاصل کر لیا ہے اور جب بھی یہ موبائل فون آن ہو گا تو اس کی لوکیشن معلوم ہو جائے گی جو کہ ملزمان کی گرفتاری میں معاون ثابت ہو گی۔

پولیس اہلکار کے مطابق بلیو ایریا میں جس جگہ کا وقوعہ بتایا جا رہا ہے وہاں پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کا ریکارڈ حاصل کر لیا گیا ہے اور اس کی چھان بین کی جا رہی ہے۔

اہلکار کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی طرف سے جن سفارت کاروں کو کہا گیا ہے کہ شہر میں کہیں جانے سے پہلے مقامی پولیس کو مطلع کیا جائے تو اس میں افغان سفارت کار بھی شامل ہیں تاکہ ان کی سکیورٹی کا مناسب بندوبست کیا جا سکے۔

اہلکار کے مطابق ایسے حالات میں جہاں افغانستان میں طالبان مختلف علاقوں پر قبضہ کر رہے ہیں تو سفیر کی بیٹی کا اکیلے باہر نکلنا اور پھر گھر جانے کے لیے ٹیکسی لینا تشویشناک امر ہے۔

اہلکار کے مطابق پولیس کو جو معلومات ملی ہیں وہ واقعہ جمعے کے روز دن ڈیڑھ بجے کا ہے جبکہ ریکارڈ کے مطابق میڈیکل کروانے کے لیے وہ رات نو بجے کے بعد پمز ہسپتال پہنچے ہیں۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ افغان سفیر کی بیٹی اس سے پہلے ایف ایٹ میں واقع ایک پرائیویٹ ہسپتال میں بھی گئی تھیں لیکن انھوں نے ان کا میڈیکل ٹیسٹ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

عمران خان، غنی

پاکستانی اور افغانی رہنماؤں میں کشیدگی

یاد رہے کہ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب افغانستان کی جانب سے پاکستان پر مسلسل طالبان کی حمایت کرنے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں اور دونوں ممالک کے رہنماؤں میں لفظی جنگ جاری ہے۔

افغانستان سے بین الاقوامی افواج کے انخلا کے بعد سے ملک میں طالبان کے ملک کے بیشتر حصوں پر قبضے کیے جانے کے بعد افغان حکومت پریشانی کا شکار ہے اور ایسے میں افغان رہنماؤں کی جانب سے پاکستان پر الزامات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

کچھ دن پہلے افغانستان کے نائب صدر امر اللہ صالح نے ٹوئٹر پر دعویٰ کیا تھا کہ پاکستانی فضائیہ نے افغان فوج اور افغان فضائیہ کو سرکاری طور پر متنبہ کیا ہے کہ اگر طالبان کو افغان علاقے سپین بولدک سے بے دخل کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کوششوں کا جواب پاکستانی فضائیہ دے گی۔ پاکستان نے ان کے اس موقف کو یکسر مسترد کر دیا تھا۔

پاکستانی اور افغان رہنماؤں کی یہ لفظی جنگ یہاں ٹھہری نہیں بلکہ جمعے کو ازبکستان کے شہر تاشقند میں صورتحال میں اس وقت کشیدگی عود آئی جب افغان صدر اشرف غنی نے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ دس ہزار جنگجو اس کی سرحد عبور کر کے افغانستان میں آئے ہیں تاہم پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور کانفرنس میں موجود پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید نے اشرف غنی کے الزامات کو یکسر مسترد کر دیا۔

عمران خان نے اشرف غنی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’جب پاکستان کہہ رہا تھا کہ طالبان سے بات چیت کریں تو اس وقت ایسا نہیں کیا گیا اوراب جب طالبان فتح کے قریب پہنچ چکے ہیں تو بات چیت کی باتیں کی جا رہی ہیں۔‘

بی بی سی اردو

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: