افغانستان سے آخر علاقائی قوتیں چاہتی کیا ہیں؟

افغانستان سے آخر علاقائی قوتیں چاہتی کیا ہیں؟

افغان امور کے ماہرین کی اکثریت اس پر متفق نظر آتی ہے کہ افغانستان میں چار عشروں سے جاری تنازع علاقائی اور عالمی قوتوں کے مفادات کا جھگڑا ہے۔

روس اور اس کے مغربی حریفوں کا افغانستان میں ٹکڑاو 1979 سے جاری ہے جب سوویت یونین کی افواج نے افغانستان پر یلغار کی تھی۔ پاکستان اور انڈیا کا افغانستان میں دائرہ اثر بڑھانے کی کوششوں نے طالبان کو جنم دیا جو امریکی افواج کے انخلا کے بعد ایک بار پھر افغانستان کے اقتدار اعلیٰ پر براجمان ہونے کے قریب ہیں۔

اس کے علاوہ اور بھی کئی ممالک افغانستان میں تبدیلوں کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور وہاں اپنے لیے مواقعوں کی تلاش میں ہیں جس کی وجہ سے افغانستان میں ایک اور ’گریٹ گیم‘ شروع ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

روس

جب 1979 میں روسی ٹینک افغانستان کی سرزمین پر پہنچے تو اس امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر زبگنیو بریز نسکی نے کہا تھا کہ ’ہمارے پاس موقع ہے روس کو ویتنام جنگ کا جواب دیا جائے۔‘

چار عشروں بعد خطے میں روس کا اثر و رسوخ امریکہ سے کہیں زیادہ ہے جو اب افغانستان سےاپنی فوجوں کو نکال رہا ہے۔

جنگ زدہ افغانستان میں اب روس کے لیے ایک بڑا کردار منتظر ہے۔ لیکن روسی حکام اور روس کے سرکاری میڈیا پر ایسے خیالات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ افغانستان کی بدلتی صورتحال روس کے لیے ایک موقع نہیں بلکہ ایک مسئلہ ہے

پاکستان، انڈیا

اب جب امریکی افواج کا افغانستان سے انخلا تقریباً مکمل ہو چکا ہے پاکستان کو اپنے جنگ زدہ پڑوسی کے حوالے سے پریشانیاں لاحق ہیں۔

پاکستان سمجھتا ہے کہ افغانستان میں پائیدار سیاسی حل کے بغیر وہاں خانہ جنگی شروع ہو سکتی ہے جس سے اسے مہاجرین کی آمد اور سرحد پار سے حملوں جیسے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔

انڈیا ہمیشہ سے جمہوری افغانستان کا حامی رہا ہے لیکن انڈیا کو افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال میں بدامنی پھیلنے کے امکانات کا اچھی طرح اندازہ ہے۔ انڈیا کو ڈر ہے کہ افغانستان صورتحال کے بگڑنے سے افغانستان ایک بار جنگجوؤں کی آماجگاہ بن سکتا ہے۔ انڈیا کو افغانستان میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں میں پاکستان کے کردار پر بھی تشویش لاحق ہے۔

چین

امریکی افواج کے افغانستان سے نکلنے کے بعد افغانستان میں پیدا ہونے والے خلا کے باوجود چین سمجھتا ہے کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال کا خاتمہ کثیرالجہتی طریقہ کار میں ہے۔

چین کی وزارت خارجہ کی جانب سے اپنے شہریوں کو افغانستان سے جلد از جلد نکلنے کی ہدایات سے حالات کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

کچھ غیر ملکی میڈیا میں وقتا فوقتاً ایسی رپورٹس شائع ہوتی رہتی ہیں جن میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ چین افغانستان میں پیدا ہونے والے خلا سے فائدہ اٹھا کر وہاں کوئی براہ راست رول کی تلاش میں ہے لیکن چین کے ذرائع ابلاغ کے مطالعے سے ابھرنے والا تاثر اس کے برعکس ہے۔

چینی ذرائع ابلاغ کے مطابق چین آج بھی سمجھتا ہے کہ افعانستان کے مسئلے کا حل کثر الجہتی طریقہ کار میں ہے۔

افغانستان

ایران

اب جب سنّی طالبان ایک بار افغانستان کی ایک بڑی طاقت بن کر ابھر رہے ہیں شیعہ ایران کا کردار بھی سامنے آ رہا ہے۔

طالبان کو ہمیشہ شیعہ مسلک سے مسائل رہے ہیں جن کا ایران کبھی کبھار محافظ بھی بن جاتا ہے، اسی وجہ سے ایران اور طالبان کے تعلقات پر ہمیشہ ایک سوالیہ نشان رہے گا۔

لیکن طالبان اور ایران کے موجودہ تعلقات کی بنیاد سلامتی اور عملی مفادات پر ہے۔

وسطی ایشیا

اب جب طالبان شمالی افغانستان میں تیزی سے غلبہ حاصل کر رہے ہیں، وسط ایشیائی ریاستوں نے افغانستان کے ساتھ اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات اٹھانے شروع کر دیئے ہیں۔

حالیہ دنوں میں سینکڑوں افغان فوجی طالبان سے لڑائی سے بچنے کے لیے سرحد عبور کر کے تاجکستان اور ازبکستان میں پناہ لے چکے ہیں۔

وسط ایشیائی ماہرین افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے امکانات کو نظر انداز نہیں کر رہے اور انھیں خدشہ ہے کہ برسراقتدار طالبان ان کے ممالک میں شدت پسندی کے پھیلنے کا موجب بن سکتے ہیں۔

ترکی

حالیہ مہینوں میں ترکش ذرائع ابلاغ میں ایسی خبریں گردش کر رہی ہیں کہ امریکہ نے ترکی سے کہا ہے مغربی ممالک کی افواج کے افغانستان سے نکلنے کے بعد ترکی کابل کے ہوائی اڈہ کھلا رکھنے کی ذمہ داری سنبھالے۔

صدر طیب اردوغان نے نو جولائی کو کہا تھا کہ ترکی نے افغانستان میں اپنے کردار کا تعین کر لیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا تھا کہ کابل ائیرپورٹ کو کھلا رہنا چاہیے اور اگر ایسا نہ ہوا تو تمام ممالک وہاں اپنے سفارت خانے بند کر دیں گے۔

لیکن طالبان نے 12 جولائی کو خبردار کیا کہ ترکی کی افواج کی افغانستان میں موجودگی افغانستان کی علاقائی سلامتی اور اس کی حاکمیت کی خلاف ورزی تصور ہو گی۔

طالبان کی دھمکی کے باوجود ترکی کے وزیر دفاع نے 13 جولائی کو کہا ہے کہ ترکی اور امریکہ نے افغانستان میں انقرہ کے کردار کا ایک فریم ورک طے کر لیا ہے۔

بی بی سی اردو

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: