افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کی رفتار کم کی جا سکتی ہے: امریکی فوج

افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کی رفتار کم کی جا سکتی ہے: امریکی فوج

امریکہ کی فوج کا کہنا ہے کہ طالبان کی حالیہ دنوں میں جنگی کامیابیوں کے پیش نظر افغانستان سے جاری غیر ملکی افواج کے انخلاء کی رفتار کو کم کیا جا سکتا ہے۔

امریکہ کی وزارتِ دفاع پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے مکمل انخلاء کی آخری تاریخ گیارہ ستمبر ہی رہے گی لیکن فوجیوں کی واپسی کی رفتار کو کم کیا جا سکتا ہے۔

امریکہ کی وزارتِ دفاع کے حکام نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ نصف انخلاء ہو چکا ہے۔

افغانستان سے نیٹو اور امریکی فوج کا جب سے انخلاء شروع ہوا ہے اس وقت سے ملک میں تشدد میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔

گزشتہ ایک ماہ کے دوران طالبان کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے اور انہوں نے ملک کے 30 اضلاع پر غلبہ حاصل کر لیا ہے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق انتہا پسند اسلامی گروہ نے سرکاری فوج سے بھاری مقدار میں اسلح بارود چھین لینے کے علاوہ بڑی تعداد میں افغان فوجیوں کو ہلاک اور زخمی بھی کیا ہے۔

افغانستان کی حکومت کے ترجمان ان خبروں کی تردید کرتے ہیں کہ طالبان نے درجنوں اضلاع پر قبضہ کر لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان اضلاع کو ایک جنگی حکمت عملی کے تحت خالی کر دیا گیا ہے اور یہ واضح نہیں کہ طالبان کو کتنا جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

طالبان نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے شمالی صوبے قندوز کے وسیع علاقے پر قبضہ کر لیا اور صرف صوبائی دارالحکومت پر سرکاری فوج کا قبضہ ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے پولیس کے حوالے سے خبر دی ہے کہ طالبان نے دفاعی نکتہ نگاہ سے اہم قندوز شہر کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا

یہ شہر جو ایک عرصے سے طالبان کے نشانے پر ہے سنہ 2015 میں کچھ دنوں کے لیے طالبان کے ہاتھوں میں چلا گیا تھا لیکن اس کے بعد سرکاری فوج نے نیٹو اور امریکی افواج کی مدد سے طالبان کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔

افغان سکیورٹی فورسز نے اتوار کو شمال مشرقی صوبے تخار میں طالبان کے حملوں کو پسپا کر دیا اور دو اضلاع پر اپنا قبضہ بحال کر لیا تھا۔

امریکہ کی وزارتِ دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں صورت حال بدل رہی ہے کیونکہ طالبان ضلعی مراکز پر حملے کر رہے ہیں اور تشدد جو پہلے ہی بہت زیادہ ہے اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر انخلاء کی رفتار کو تبدیل کرنے کی ضرورت پڑے یا فوج کو کسی ہفتے یا دن واپس نکالنے کو روکنا پڑے تو اس میں وہ لچک رکھنا چاہتے ہیں۔

‘ہم مستقل اور روزانہ کی بنیاد پر اس چیز کا جائزہ لے رہے ہیں کہ زمینی صورت حال کیا ہے، ہمیں کیا درکار ہو سکتا ہے اور ملک سے نکلنے کے لیے ہمیں کیا اضافی وسائل درکار ہو سکتے ہیں اور اس کی رفتار کیا ہونی چاہیے۔’

انہوں نے کہا کہ یہ سب اہم فیصلے وقت کے وقت کیے جا رہے ہیں۔ امریکہ نے اکتوبر سنہ 2001 میں طالبان کو اقتدار سے علیحدہ کر دیا تھا۔ طالبان القاعدہ تنظیم کے رہنما اسامہ بن لادن اور دیگر سرکردہ ارکان کو پناہ دیئے ہوئے تھے۔

امریکہ کے صدر جو بائیڈن کہتے ہیں کہ افغانستان سے امریکہ کی افواج کے انخلا کا جواز ہے کیونکہ امریکی افواج نے اس بات کو یقنی بنا دیا ہے کہ افغانستان میں اب غیر ملکی انتہاہ پسند مغرب ممالک کے خلاف سازشیں کرنے کے لیے جمع نہ ہو سکیں۔

اقوام متحدہ کے ایک اعلی اہلکار نے گزشتہ سال اس بارے میں خبردار کیا تھا کہ القاعدہ کے بہت سے ارکان اب طالبان میں سرائیت کر چکے ہیں۔

افغانستان

افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی کا کہنا ہے کہ حکومتی فورسز طالبان کے حملوں کو روکنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں لیکن اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ غیر ملکی افواج کے ملک سے نکلنے کے بعد ملک ایک مرتبہ پھر طالبان کے ہاتھوں میں چلا جائے گا۔

صدر جوبائیڈن نے اس بات کی یقنی دہانی کرائی ہے کہ فوجوں کے انخلاء کے بعد امریکہ افغان حکومت کی پوری مدد کرتا رہے گا لیکن اس میں فوجی مدد شامل نہیں ہو گی۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ میں منگل کو شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں امریکہ کا شراکت دار ہو سکتا ہے لیکن وہ افغانستان پر حملوں کے لیے امریکہ کو پاکستان کی سرزمین پر اڈے فراہم نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ماضی میں افغانستان میں متحرب گروہوں کا ساتھ دے کر غلطی کی تھی۔ عمران خان نے اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ وہ ہر اس قوت کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار ہیں جس کو افغان عوام کا اعتماد حاصل ہو۔

افغانستان کے رہنما ایک عرصے سے پاکستان پر طالبان کی پشت پناہی کرنے کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔ افغانستان سے نیٹو اور امریکی فوج کے انخلاء کے اہداف کو حاصل کرنے میں پاکستان کی مدد اور تعاون ہمیشہ انتہائی اہم سمجھا جاتا رہا ہے۔

عمران خان نے حال ہی میں اپنے ایک انٹرویو میں امریکہ خفیہ ایجنسی سی آئی اے کو افغانستان میں طالبان اور القاعدہ کے خلاف فضائی حملے کرنے کے لیے پاکستان میں فوجی اڈے فراہم کرنے کے سوال کے جواب میں ‘قطعی نہیں’ کہہ کر سختی سے مسترد کر دیا تھا۔

بی بی سی

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: