افغانستان میں جس کی بھی حکومت آئے، چین کو فائدہ ہے

افغانستان میں جس کی بھی حکومت آئے، چین کو فائدہ ہے

امریکہ نے افغانستان سے اپنے عسکری دستوں کے انخلا کا جیسے ہی اعلان کیا بیجنگ نے جان لیا کہ اب اسے تازہ دم طالبان سے معاملہ بندی کرنی ہو گی۔ تب سے چین نے انتہائی محتاط رویہ اختیار کر رکھا ہے، نہ کھل کر تنقید کر رہا ہے نہ آگے بڑھ کر تسلیم کر رہا ہے۔

31 اگست تک متوقع طور پر مکمل ہونے والے انخلا کے بعد افغانستان کی اندرونی سیاست میں دخل اندازی کے نقصان سے چین بخوبی آگاہ ہے۔ وہ اس بات سے بھی واقف ہے کہ افغانستان حکومت، طالبان اور پاکستان پورے خطے میں کس حد تک گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

اس لیے شاید چین اس قدر احتیاط سے کام لے رہا ہے۔ اس مہینے کے ابتدائی دنوں میں چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے تاجکستان کے وزیر خارجہ  سراج الدین مہردین کے ساتھ دوشنبہ میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ طالبان کو چاہیے کہ ’تمام دہشت گرد تنظیموں سے مکمل طور پر اپنے روابط ختم کریں اور افغانستان کے مرکزی سیاسی دھارے میں لوٹ آئیں۔‘

اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کئی برسوں سے افغانستان کی حکومت نے قومی اتحاد اور سماجی استحکام برقرار رکھنے اور لوگوں کی روز مرہ زندگی بہتر بنانے کے لیے بہت کوششیں کی ہیں اور اس بات پر ان کی تحسین کرنی چاہیے جس کے وہ حقدار ہیں۔ ان کے بقول ’افغانستان میں بڑے عسکری گروہ ہونے کے ناطے طالبان کو اپنے ملک و قوم کی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے۔‘

اس کے بعد شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ نے افغانستان میں عام شہریوں کے خلاف تشدد کے خاتمے پر زور دیا اور افغان حکومت کو اپنی حیثیت مضبوط کرنے کی تاکید کی تاکہ استحکام یقینی بنایا جا سکے۔

سنگاپور کی نانیانگ ٹیکنولوجیکل یونیورسٹی سے وابستہ سکیورٹی سٹڈیز کے پروفیسر روشن گونارتنا اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’مغربی طاقتوں کی ان کے قریبی پڑوسی ملک افغانستان سے واپسی کے بعد چینی اپنے ملک کے لیے پیدا ہونے والے خطرے سے آگاہ ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ امریکی اور مغربی دستوں کی واپسی سکیورٹی خلا پیدا کر رہی ہے اور ’اگر اس سکیورٹی خلا کو تیزی سے بھر نہیں دیا جاتا تو یہ خطرہ پوری دنیا کے لیے پھر سے پیدا ہو جائے گا۔‘

گونارتنا انڈپینڈنٹ سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’اگرچہ یہ کام کرنے کے لیے چینیوں کی صلاحیت ناکافی ہے لیکن بیجنگ پاکستان کے ساتھ مل کر افغانستان کی حالت مستحکم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔‘ مگر ان کے بقول بیجنگ پاکستان میں موجود کچھ گروہوں کے جانب سے ’دہشت گردی‘ کے لاحق خطرات اور اسلام آباد کے طالبان کے ساتھ تعلقات سے بھی آگاہ ہے۔

دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں اکیڈمی آف انٹرنیشنل سٹڈیز کے ڈائریکٹر پروفیسر اجے درشن بہرا بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بیجنگ کو ایک مشکل صورت حال کا سامنا ہے کیونکہ اس سے پہلے اسے کبھی ایسے پیچیدہ حالات سے واسطہ ہی نہیں پڑا جیسے افغانستان میں ہیں۔

بہرا اپنی بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں ’یہ ایک پیچیدہ جھمیلا ہے۔ موجودہ لمحے اس بات کا واضح طور پر تعین کرنا کہ چین کا بالکل یہی ردعمل ہو گا بہت مشکل ہے لیکن مجھے کافی حد تک یقین ہے کہ چین کو افغانستان اور طالبان سے نمٹنے کے لیے پاکستان کا تعاون درکار ہو گا۔‘

وہ اپنی بات آگے بڑھاتے ہیں کہ ’امریکہ محض زمینی دستوں کی واپسی پر رضامند ہوا ہے اور اس نے عسکری کارروائی کے دیگر ذرائع استعمال کرنے کا امکان ختم نہیں کیا۔ ’ہمیں یاد رکھنا چاہیے حتیٰ کہ 2001 ایک سے پہلے امریکہ نے خطے میں موجود دوسرے عسکری اثاثے استعمال کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانوں پر حملے کیے تھے۔‘

فارن پالیسی کے ماہرین کے مطابق چین اس لیے طالبان کے ساتھ معاملہ بندی میں محتاط انداز اختیار کیے ہوئے ہے کیونکہ وہ خود سنکیانگ کے اویغور مسلمانوں کے ساتھ اپنے برتاؤ کی وجہ سے عالمی دباؤ کا شکار ہے۔

سوموار کو چین اور پاکستان نے افغانستان کو پوری طرح خانہ جنگی کی دلدل میں دھنسنے اور ’دہشت گردی‘ کی آماجگاہ بننے سے بچانے کے لیے وہاں مشترکہ سرگرمیاں کرنے کے فیصلے کا اعلان کیا ہے، اگرچہ اس کی عملی تشکیل کے معاملے پر دونوں کا نقطہ نظر مختلف ہے۔ انہوں نے مشرقی ترکستان اسلامی تحریک (ای ٹی ائی ایم) کے خلاف لڑنے کی بھی بات کی جو اویغور مسلمانوں کے ساتھ بیجنگ کے برتاؤ کے سبب اس کے خلاف ہیں۔ جون 2021 میں اقوام متحدہ کے جائزے نے مشرقی ترکستان اسلامی تحریک کے مسلح سپاہیوں کی افغانستان میں موجودگی کی توثیق کی ہے۔

چینی حکومت کے زیرِ اثر اخبار ’گلوبل ٹائمز‘ نے، جو عمومی طور پر برسر اقتدار چین کی کمیونسٹ پارٹی کا نقطہ نظر پیش کرتا ہے، اپنے حالیہ اداریے میں لکھا ہے کہ افغان حکومت اور طالبان دونوں نے ہماری قوم کے لیے دوستانہ رویے کا اظہار کیا اور جو ’یقیناً چین کے لیے اچھا‘ ہے۔

اداریے میں مزید لکھا ہے کہ ’اگر چین اس مرحلے پر طالبان کے خلاف ہو جاتا تو یہ خود اپنے ہاتھوں اپنے لیے سفارتی گڑھا کھودنے کے مترادف ہو گا‘ اور مزید لکھا کہ اس وقت نہ امریکہ اور نہ ہی برطانیہ طالبان کو دہشت گرد گروہ قرار دے رہے ہیں۔

اداریے کے مطابق ’افغانستان کی صورت حال بہت پیچیدہ ہے لیکن چین اچھی طرح جانتا ہے کہ اس کے قومی مفادات کیا ہیں۔ اس بحرانی صورت حال میں ہمیں اپنے ہاتھوں اپنے دشمن نہیں بنانے چاہییں۔ بالخصوص ہمیں لاپروائی سے طالبان کی نیک خواہشات رد نہیں کرنی چاہییں جو ہمارے افغانستان میں گہرے اثر و رسوخ اور سنکیانگ میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔‘

پروفیسر بہرا کہتے ہیں اس کے باوجود طالبان کے افغانستان میں بہت زیادہ اثر و رسوخ پر بیجنگ کو تشویش لاحق ہے۔

2021-07-09T084306Z_2057878400_RC2WGO91PQM8_RTRMADP_3_AFGHANISTAN-CONFLICT-RUSSIA-TALIBAN.jpg

طالبان کی ماسکو میں پریس کانفرنس (روئٹرز)

پروفیسر بہرا کہتے ہیں ’چین تذبذب میں پھنس چکا ہے کہ اگلی چال کیا چلے۔ وہ طالبان کے ساتھ اپنی بات چیت کے لیے پاکستانی اثرورسوخ استعمال کرنے پر تذبذب کا شکار ہے۔ وہ شاید کھلے عام اس بات کا اظہار نہ کریں لیکن طالبان حکومت کا برسر اقتدار آنا ایسی چیز ہے جس کی انہیں پریشانی لاحق ہو گی۔‘

دہلی کے منوہر پاریکر انسٹی ٹیوٹ فار ڈیفینس سٹڈیز اینڈ انیلیسز سے وابستہ محقق ڈاکٹر جگن ناتھ پی پانڈا کہتے ہیں ’غنی (افغان صدر محمد اشرف) کے زیر انتظام ایک مستحکم افغانستان کو چین ترجیح دے گا خاص طور پر اس لیے کہ بیجنگ کو اس حقیقت سے پریشانی لاحق ہے کہ طالبان کو ابھی دہشت گرد گروہوں سے تعلقات ختم کرنا اور افغانستان کے مرکزی سیاسی دھارے میں خود کو کھپانا باقی ہے۔‘

پانڈا کے مطابق چین کی پریشانی یہ ہوسکتی ہے کہ طالبان کی حکومت میں واپسی داعش اور اویغور شدت پسندوں کی بتدریح ترقی کا راستہ ہموار کرے گی جو واخان راہداری سے خود چین کے اندر بھی جا سکتے ہیں۔ یہ چیز چین کے علاقے سنکیانگ کو اور بھی غیر مستحکم کر دے گی۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے ذریعے بلاشرکت غیرے ملک میں داخل ہو کر مغربی طاقتوں کا افغانستان میں چھوڑا گیا خلا ’بیجنگ ترجیحاتی طور پر پُر کرنا چاہے گا۔‘

پانڈا کہتے ہیں ’ابھی تک چین کی کابل سے متعلق حکمت عملی محدود تعاون کی رہی جس کا مقصد اپنے قومی مفادات پر نگاہ رکھتے ہوئے جھگڑے کے خاتمے کے لیے علاقائی اتفاق رائے پیدا کرنا ہے۔ امریکی انخلا کے بعد والا افغانستان مستحکم ہوتے ہی بیجنگ کے لیے اسٹریٹجک سلسلہ جنبانی کا ایک اہم مقام بن سکتا ہے۔

طالبان پہلے ہی بیان دے چکے ہیں کہ وہ افغانستان میں چین کے ترقیاتی منصوبوں کی حمایت کریں گے۔ پانڈا انتباہ کرتے ہیں کہ چین غیر مستحکم افغانستان میں بیلٹ روڈ منصوبہ نہیں لے جانا چاہے گا: ’چین کے لیے سب سے زیادہ ضروری چیز امن ہے چاہے وہ افغان حکومت کے ذریعے حاصل ہو یا طالبان کے ذریعے‘۔

چین کے آئندہ چند ہفتوں اور مہینوں کے دوران افغانستان میں کردار پر ممکن ہے ماہرین کی آرا تقسیم ہوں لیکن یہ بات واضح ہے کہ دیگر ممالک کے دستوں کی واپسی کے بعد تبدیل شدہ حالات میں بھارت اپنا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

بہرا سوال کرتے ہیں کہ ’بھارت کی طالبان کو تعاون کی پیشکش نئی دہلی کو فائدہ نہیں پہنچائے گی۔ دراصل طالبان کیونکر بھارت کی پروا کریں گے؟

جنگ سے تباہ حال افغانستان میں طالبان کی حیات نو سے مقامی افراد کے علاوہ وہ لوگ بھی پریشان ہیں جو سمجھتے ہیں کہ یہ دہشت گرد گروہوں کے لیے دوبارہ محفوظ ٹھکانہ ثابت ہو سکتا ہے۔

پروفیسر گونارتنا کہتے ہیں کہ ’آئندہ ہفتوں اور مہینوں میں افغانستان افراتفری کی پاتال میں جا گرے گا کیوں کہ عالمی برادری ایک ساتھ مل کر کام کرنے کی اہلیت رکھتی ہے اور نہ ارادہ۔‘

وہ کہتے ہیں ’اگر انڈیا اور پاکستان کے خوشگوار تعلقات ہوتے تو مغربی طاقتوں کی مرحلہ وار واپسی اور افغانستان کو دہشت گردی اور شدت پسندی سے محفوظ رکھنے کی غرض سے نگرانی کا طریقہ کار وضع کرنے کے لیے انہوں نے عالمی اجلاس طلب کیا ہوتا۔‘

وہ اس بات پر توجہ دلاتے ہیں کہ طالبان نے ’2001 سے پہلے کے اپنے نظریے میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں کی‘ جب اس نے القاعدہ کو پناہ دی اور دنیا بھر کے خطرناک 40 سے زائد گرہوں کو دہشت گردی کی تربیت کے لیے سہولیات فراہم کیں۔ وہ خبردار کرتے ہیں کہ ’آئندہ ماہ و سال میں افغانستان دہشت گردوں کے لیے دوبارہ خوشگوار پناہ گاہ ہو گا۔

انڈیپینڈینٹ اردو

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: