افغانستان میں طالبان کی تیزی سے پیش قدمی کی بڑی وجوہات کیا ہیں؟

افغانستان میں طالبان کی تیزی سے پیش قدمی کی بڑی وجوہات کیا ہیں؟

جب افغانستان میں رواں برس مئی کے اوائل سے غیر ملکی افواج کے انخلا کا باقاعدہ آغاز ہوا تھا تو اس کے بعد سے طالبان نے بڑی فوجی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

بین الاقوامی جریدے ’لانگ وار جرنل‘ کے مطابق جولائی کے پہلے ہفتے تک طالبان ملک کے 407 اضلاع میں سے 195 پر مکمل طور پر قبضہ کر چکے تھے، جبکہ اس سے قبل طالبان کے زیر کنٹرول صرف 73 اضلاع تھے۔

ملک کے 34 صوبوں کے دارالحکومتوں پر بھی طالبان کا کنٹرول بڑھتا جا رہا ہے اور خطرہ ہے کہ جلد ہی وہ ان پر اپنی عسکری قوت کے ذریعے قبضہ کر لیں گے۔

افغانستان کی فوج اور سکیورٹی اداروں نے کئی اضلاع میں طالبان کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا ہے اور کئی علاقوں میں مقامی لوگ بھی طالبان کی پیش قدمی کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں لیکن طالبان کی کامیابیوں کے مقابلے میں یہ تمام تر مزاحمت نہ ہونے کے برابر ہے۔

طالبان کو تیزی سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کی بڑی وجہ نیٹو اور امریکی افواج کا انخلا ہے لیکن اس کے پس پردہ چند دیگر وجوہات بھی ہیں

غیر ملکی افواج کا اچانک انخلا ہے

افغانستان

ایک عرصے سے مبصرین اور تجزیہ کار اس بارے میں خبردار کر رہے تھے کہ اگر افغانستان میں مرکزی حکومت اور طالبان کے درمیان بغیر کسی سیاسی تصفیے کے غیر ملکی فوجیوں کا انخلا ہوا تو ملک میں کشیدگی میں اضافہ ہو گا۔

افغان رکن پارلیمان ضیا آریا نزہاد نے اپریل میں کہا تھا کہ ’میں اعلان کرتا ہوں کہ اگر امریکی موجودہ صورتحال میں افغانستان سے چلے گئے تو ملک میں طالبان اور مزاحمتی قوتوں کے درمیان ایک بہت تباہ کن اور وسیع جنگ شروع ہو جائے گی۔‘

بعد ازاں افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر حمد اللہ محب نے کہا تھا کہ طالبان کی تیزی سے جاری پیش قدمی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ افغان فورسز کو فضائیہ کی ویسے مدد حاصل نہیں ہے جیسے پہلے تھی۔

محب اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’کئی علاقوں سے امریکی فوج کے اچانک انخلا کی وجہ سے ان دور دراز اضلاع میں، جہاں افغانستان کی سرکاری افواج اتحادی فوج کی فضائی مدد پر انحصار کر رہی تھیں، وہاں سے نکل آئی ہے یا طالبان نے وہاں قبضہ کر لیا ہے۔‘

اسی طرح افغانستان میں ایک دفاعی مبصر عبدل ہادی خالد نے کہا ہے کہ افغان حکومت طالبان میں گھری اپنی فورسز کو بروقت کمک اور مدد فراہم نہیں کر پا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’نیٹو افواج جا رہی ہیں اور افغان فورسز بکھرے ہوئے انداز میں تعینات ہیں۔‘

امریکہ اور طالبان کے درمیان فروری 2020 میں دوحہ میں ہونے والے معاہدے کے تحت تمام امریکی اور نیٹو افواج کو رواں برس یکم مئی تک افغانستان سے نکل جانا تھا لیکن اپریل کے وسط میں امریکہ نے نئے صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا کہ یہ انخلا رواں برس گیارہ ستمبر تک مکمل کیا جائے گا۔

مبینہ طور پر اندرون خانہ مدد

افغانستان
،تصویر کا کیپشنافغان سکیورٹی فورسز امریکہ کی تربیت یافتہ ہیں

بظاہر ڈیڑھ لاکھ کے قریب طالبان جنگجوؤں کا امریکہ کے تریبت یافتہ دو لاکھ نوے ہزار سے زائد افغانستان کے سرکاری فوجیوں سے کوئی مقابلہ نہیں ہونا چاہیے۔

لیکن پھر بھی بہت کم وقت میں طالبان ملک کے وسیع علاقوں پر قبضہ کرنے میں ہونے کامیاب ہو گئے ہیں کیونکہ سرکاری افواج یا تو ضلعی مراکز چھوڑ کر چلی گئی ہیں یا انھوں نے طالبان جنگجوؤں کے سامنے بغیر مزاحمت کے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

کئی علاقوں میں مبینہ طور پر مقامی قبائلی سرداروں اور بااثر شخصیات نے سرکاری فوجوں کو اپنے علاقے طالبان کے حوالے

کرنے پر قائل کیا تاکہ وہ طالبان سے عام معافی حاصل کر سکیں۔

ملک کے جنوبی صوبے قندہار کے درالحکومت قندہار شہر میں طالبان کے داخل ہونے کے بعد گورنر روح اللہ خانزادہ نے دعویٰ کیا ہے کہ مقامی سیاست دانوں نے افغان فوجیوں کو طالبان کے خلاف لڑائی کرنے سے روکا۔

خانزادہ نے کہا تھا کہ ’قندہار شہر پر فوجی طاقت کے ذریعے قبضہ نہیں کیا گیا بلکہ یہ سیاسی پسپائی ہے۔ انھوں نے صوبے کے تمام اضلاع کو صرف ایک فون کال کے بعد خالی کر دیا۔‘

انھوں نے مزید کہا تھا کہ بہت سے افغان فوج کے اعلی اہلکاروں نے اپنی سیاسی اور قبائلی وابستگیوں کی وجہ سے اپنی چوکیوں کو خالی چھوڑ دیا تھا۔

قندہار ہی وہ شہر ہے جہاں تحریک طالبان نے جنم لیا تھا۔

شمال مغربی صوبے بغدیس میں صوبائی گورنر نے طالبان کے بڑھتے اثر و رسوخ اور سرکاری فوج کی پسپائی کو ایک سازشی منصوبے کا حصہ قرار دیا ہے۔ انھوں نے کئی سرکردہ شخصیات کو اس وجہ سے گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا کہ انھوں نے فوجیوں کو اپنی چوکیاں طالبان کے حوالے کرنے پر قائل کیا۔

نائب وزیر اعظم امر اللہ صالح کے مطابق بغدیس کے صوبے کے رکن پارلیمان عامر شاہ نایابزادہ نے صوبائی دارالحکومت قلعہ نو میں سرکاری افواج کو طالبان کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کیا۔ عامر شاہ نایابزادہ نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

افغانستان
،تصویر کا کیپشنامریکہ سے معاہدے کے تحت پانچ ہزار طالبان جنگجوؤں کو رہائی ملی تھی

ذرائع ابلاغ کا کردار اور سازشی افواہیں

طالبان کی طرف سے میدان جنگ میں اپنے جنگجوؤں کی برتری کے بارے میں جو پیغامات دیے جا رہے ہیں اور حکومت کے خلاف جو سازشی افواہیں گردش کر رہیں ہیں ان کی وجہ سے بھی طالبان کو تیزی سے پیش قدمی میں مدد ملی ہے۔

محب اللہ نے حال ہیں میں کہا تھا کہ ’طالبان کا پراپیگنڈہ بھی بڑی حد تک اس کی بڑی وجہ ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ان افواہوں کی وجہ سے کچھ فوجی اہلکاروں اور مقامی لوگوں نے اس بات پر یقین کرنا شروع کر دیا کہ یہ علاقے طالبان کو کسی معاہدے کے تحت دیے جا رہے ہیں۔ ان کے بقول اس سے سرکاری فوجوں کے حوصلے بھی پست ہوئے ہیں۔

ایک افغان قانوں ساز مامور رحمتزئی نے الزام لگایا ہے کہ طالبان کے ساتھ ایک درپردہ معاہدے کے تحت یہ اضلاع ان کی حوالے کیے جا رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’جب سرکاری فوجی کسی علاقے سے پسپا ہوتے ہیں تو وہ اپنا اسلحہ اور فوجی گاڑیوں کیوں پیچھے چھوڑ جاتے ہیں۔‘

ایک نجی اخبار ’ارمان ملی‘ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ دوحہ مذاکرات کے دوران اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ کچھ علاقے طالبان کے حوالے کر دیے جائیں گے اور اس کے بدلے میں امریکی کمپنیوں کو افغانستان سے مادنیات نکالنے کی اجازت دی جائے گی۔

اس اخبار نے مزید کہا کہ صدر ڈاکٹر اشرف غنی کی حکومت غیر ملکیوں کے کہنے پر ملک طالبان کے حوالے کرنا چاہتی ہے اور اسی وجہ سے وہ طالبان کے خلاف عوامی مزاحمت شروع کرنے کے مخالف رہے ہیں۔

صدر کی طرف سے ان قیاس آرائیوں کو رد کرتے ہوئے 20 جولائی کو کہا گیا تھا کہ ’کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے اور نہ ہی کوئی معاہدہ کرنے کا ارادہ ہے۔‘

بدعنوان اور نااہل قیادت

مقامی پولیس اہلکاروں اور ملیشیا میں بھرتیوں میں بدعنوانیاں بھی طالبان کی تیزی سے پیش قدمی کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔

نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی کے سابق سربراہ رحمت اللہ نبیل نے فیس بک پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ حکومت میں شامل کچھ حلقوں نے ’فرضی ملیشیا گروپ بنا رکھے ہیں تاکہ ان کی تنخواہیں اپنی جیبوں میں ڈال سکیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی ایک ہزار مقامی ملیشیا اہلکاروں کی تنخواہیں وصول کر رہا ہے تو اس نے صرف دو سو اہلکار ہی رکھے ہوئے ہیں اور باقی اہلکاروں کی تنخواہیں اور اخراجات اپنی جیبوں میں ڈال رہا ہے۔

نبیل نے کہا کہ ’بہت سے مقامی علاقے ہاتھوں سے اس لیے نکل گئے ہیں، کیونکہ ان علاقوں پر پہلے حملے کیے گئے جہاں فرضی ملیشیا اہلکار رجسٹرڈ تھے اور جہاں وسائل کی کمی تھی۔‘

نبیل نے کہا کہ بہت سے علاقے اس وجہ سے ہاتھوں سے نکل گئے کیونکہ ان علاقوں کے بارے میں علم تھا کہ وہاں فرضی ملیشیا اہلکار بڑی تعداد میں رجسٹرڈ ہیں اور وہاں وسائل کی کمی ہے۔

کچھ مبصرین نے زور دیا کہ نااہل قیادت حکومتی فوج کی ناکامیوں کی بڑی حد تک ذمہ دار ہے۔

ایک دفاعی ماہر محمد نادر معمار کا کہنا ہے کہ ’ہماری سکیورٹی فورسز کے اہم عہدوں پر نااہل اور غیر پیشہ ور لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔‘

طالبان کے جنگجوؤں میں اضافہ

طالبان اور امریکہ کے درمیان معاہدے کے تحت پانچ ہزار کے قریب جنگجوؤں کو جیل سے رہائی دی گئی جس سے اس کے جنگجوؤں کی تعداد میں اضافہ ہوا اور اُن کی جنگی صلاحیت بھی بڑھی ہے۔

افغان صدر کا کہنا تھا کہ طالبان جنگجوؤں کی رہائی ایک بڑی غلطی تھی۔

ڈاکٹر اشرف غنی نے دعویٰ کیا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں غیر ملکی جنگجو حالیہ ہفتوں میں طالبان کی صفوں میں شامل ہوئے ہیں۔

تاشقند میں گذشتہ ماہ ڈاکٹر اشرف غنی نے الزام لگایا تھا کہ انٹیلیجنس اطلاعات کے مطابق پاکستان سے دس ہزار جہادی جنگجو افغانستان میں داخل ہوئے ہیں۔ تاہم پاکستان اس نوعیت کے تمام تر دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے افغانستان میں سیاسی اور پرامن حل کی بات کرتا ہے۔

اس کے علاوہ طالبان نے مقامی سطح پر اپنی حمایت میں اضافہ کیا ہے۔ سنہ 1990 کی دہائی میں طالبان نے پہلے ملک کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں جہاں پشتوں آبادی کی اکثریت ہے وہاں اپنے پیر جمائے تھے اور اس کے بعد انھوں نے شمالی علاقوں کی طرح جہاں تاجک اور ازبک نسل کے لوگوں کی اکثریت ہے پیش قدمی کی تھی۔

اس مرتبہ انھیں غیر پشتوں علاقوں سے کافی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔

طالبان کے ایک اعلی کمانڈر عامر خان متقی نے کہا ہے کہ ’آج صورتحال 20 یا 25 سال پہلے کی صورتحال سے مختلف ہے۔ آج سینکڑوں اور ہزاروں مجاہدین (طالبان) ہر نسلی گروہ سے تعلق رکھنے والے ہر گاؤں اور ہر علاقے میں موجود ہیں

بی بی سی اردو

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: