افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی: ترکی آخر افغانستان میں کیا حاصل کرنا چاہتا ہے اور وہ طالبان سے کیسے نمٹے گا؟

افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی: ترکی آخر افغانستان میں کیا حاصل کرنا چاہتا ہے اور وہ طالبان سے کیسے نمٹے گا؟

افغانستان سے نیٹو فوجیوں کے انخلا کے بعد یہ کہا جا رہا ہے کہ ترکی اپنے فوجیوں کو وہاں تعینات کرنے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے۔

14 جون کو برسلز میں ترک صدر رجب طیب اردوغان اور امریکی صدر جو بائیڈن کے درمیان ملاقات کے بعد افغانستان میں ترک فوجیوں کو تعینات رکھنے کا معاملہ ایجنڈے میں آیا تھا۔

اس وقت امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا تھا کہ دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ترکی کابل کے حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کی حفاظت میں اہم کردار ادا کرے گا۔

اس ملاقات کے بعد صدر اردوغان نے کہا کہ اگر ترکی افغانستان میں اپنے فوجیوں کو تعینات رکھتا ہے تو پھر امریکہ سے مالی، سفارتی اور دیگر قسم کی امداد اہمیت کی حامل ہو گی۔

ترکی میں بہت سے لوگ اسے خطے میں اپنی طاقت بڑھانے اور امریکہ کے ساتھ نشیب و فراز والے تعلقات کو بہتر بنانے کے موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

تاہم کچھ ایسے بھی ہیں جو صدر اردوغان کی حکومت پر الزام لگا رہے ہیں کہ انھوں نے افغانستان میں امریکہ کی دعوت قبول کر لی ہے جبکہ طالبان وہاں پیش قدمی کر رہے ہیں اور وہاں سکیورٹی کا ایک بڑا خطرہ ہے۔

امریکی صدر اور رجب طیب اردوغان

ترکی کا منصوبہ کیا ہے؟

اطلاعات کے مطابق افغانستان میں ترکی کا کردار کابل ایئرپورٹ کے انتظام اور سکیورٹی پر مرکوز رہے گا۔ یہ وہ ایئرپورٹ ہے جو افغانستان کو باقی دنیا سے جوڑتا ہے۔

نیوز ویب سائٹ ’حبر ترک‘ کی رپورٹ کے مطابق اگر طالبان کابل ایئرپورٹ پر کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں تو کوئی بھی ملک یا بین الاقوامی تنظیم افغانستان میں اپنا نمائندہ نہیں رکھ سکے گی۔

ترکی کے وزیر دفاع حلوصی اقار نے 13 جولائی کو کہا تھا کہ ’اس ہوائی اڈے کو برقرار اور سرگرم عمل رکھنے کی ضرورت ہے۔ تمام ممالک نے یہ بات کہی ہے ۔۔۔ اگر ايئرپورٹ بند ہو گیا تو دوسرے ممالک کو یہاں سے اپنے سفارتی مشن ہٹانے پڑیں گے۔‘

واضح رہے کہ پچھلے چند برسوں سے ترکی کابل ایئر پورٹ کی حفاظت اور آپریشن میں شامل رہا ہے۔ تقریباً پانچ سو ترک فوجی افغانستان میں تعینات ہیں لیکن وہ جنگی سرگرمیوں میں شامل نہیں ہیں تاہم وہ نیٹو مشن کے تحت افغان سکیورٹی فورسز کو تربیت بھی دیتے ہیں۔

سرکاری بیان کے مطابق افغانستان میں مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے ترکی اور امریکہ کے درمیان بات چیت جاری ہے۔

صدر اردوغان نے نو جولائی کو کہا تھا کہ انھوں نے ’افغانستان میں ترکی کے کردار کے بارے میں فیصلہ کر لیا ہے‘ تاہم انھوں نے اس بارے میں کوئی تفصیل نہیں بتائی تھی لیکن اس کے بعد انھوں نے افغانستان میں ترکی کے کردار کے حوالے سے اپنی شرائط واضح کر دیں اور انھوں نے امریکہ کی جانب سے سفارتی، مالی اور لاجسٹک سپورٹ کی اہمیت پر زور دیا۔

صدر اردوغان نے پاکستان اور ہنگری کے مابین ممکنہ تعاون کا بھی ذکر کیا تاہم مزید تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آئی ہیں۔

ترکی کے وزیر دفاع حلوصی آقار نے اس بات کی تردید کی ہے کہ مزید ترک فوجی افغانستان بھیجے جائیں گے۔ انھوں نے واضح کیا کہ وہاں پہلے سے تعینات ترک فوجیوں کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔

اردوغان

امریکہ کے ساتھ تعلقات پر اس کا کیا اثر ہو گا؟

بہت سے تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ ترکی افغانستان میں اپنی موجودگی کو برقرار رکھ کر امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانا چاہتا ہے۔ نیٹو کے ان دو اتحادیوں کے درمیان کئی معاملات پر اختلافات ہیں۔ ان میں ترکی کی جانب سے روسی ساختہ ایس-400 فضائی دفاعی میزائل خریدنے کا معاملہ بھی شامل ہے۔

امریکہ میں ترکی کے سابق سفیر نامک ٹین کے مطابق ترکی نے افغان مشن کو جزوی طور پر قبول کیا ہے کیونکہ صدر اردوغان کو لگتا ہے کہ صدر بائیڈن کے ساتھ ذاتی تعلقات استوار کرنے کا واحد راستہ یہ خطرہ مول لینا ہے۔

نامک ٹین کہتے ہیں کہ ’صدر اردوغان یہ اندازہ لگا رہے ہیں کہ وہ امریکہ کے ساتھ گرمجوشی والے تعلقات قائم رکھ سکتے ہیں۔ کم از کم کچھ وقت کے لیے ہی سہی، اس سے دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ پیچیدہ تعلقات کو دباؤ سے بچایا جا سکتا ہے۔‘

ترکی کے سیکولر اپوزیشن اخبار جمہوریت نے صدر اردوغان کے ’امریکہ کی خاطر افغانستان میں قیام‘ کے منصوبے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ ’امریکہ کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے ترکی افغانستان پر زور دے رہا ہے۔‘

کچھ تجزیہ کاروں نے اس کا موازنہ سنہ 1950 سے 1953 کے درمیان جاری رہنے والی کوریائی جنگ سے بھی کیا ہے۔

ترکی نے اس جنگ میں اپنے 21 ہزار فوجی بھیجے تھے جن میں سے 966 محاذ پر مارے گئے تھے۔ ترک فوجوں کی اس تعیناتی کے بعد ترکی نیٹو کا حصہ بن گیا تھا۔

ترکی کے بائیں بازو والے اپوزیشن کے اخبار ’ایورینسل‘ کے کالم نگار سنان بردال لکھتے ہیں کہ ’امریکہ اور ترکی کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ رہا ہے۔ ترکی اپنی فوجیں کوریا اور افغانستان بھیجتا ہے جبکہ پالیسیاں بنانے اور فیصلوں کا حق امریکہ کے پاس رہتا ہے اور یہ سلسلہ آج تک نہیں بدل سکا۔‘

اب جبکہ امریکہ اور ترکی کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اسی دوران امریکی حکام نے افغانستان میں ترکی کی موجودگی کا خیر مقدم کیا ہے۔

افغانستان، طالبان

علاقے میں اثرورسوخ بڑھانے کا مقصد؟

صدر اردوغان کی حکومت کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ترکی کے افغانستان میں قیام سے خطے میں اس کا اثر و رسوخ اور عالمی وقار بڑھے گا۔

حکومت کی حامی نیوز ویب سائٹ ’سٹار‘ کے کالم نگار رسول توسن کا کہنا ہے کہ ’ترکی کی جیو پولیٹیکل پوزیشن ایسی ہے کہ وہ افغانستان میں اپنی موجودگی برقرار رکھ سکتا ہے۔ ترکی ایک ابھرتی ہوئی طاقت ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک علاقائی طاقت بھی ہے۔ ترکی یہاں رہ کر اپنی طاقت بڑھائے گا۔‘

’ترکی جن وجوہات کے سبب لیبیا، صومالیہ، قطر، آذربائیجان، شام اور عراق میں موجود ہے، انھی وجوہات کے سبب اسے افغانستان میں بھی رہنا چاہیے۔ افغانستان میں اس کی موجودگی اہم ہے اور مشرق وسطیٰ میں اس کے ایجنڈے کو مضبوط کرتی ہے۔‘

حکومت نواز اخبار ’ملیت‘ کے کالم نگار ابراہیم عقبابا لکھتے ہیں کہ ’افغانستان ترکی کو عالمی سیاست میں ایک نئے مقام پر لے جائے گا۔ اس سے یہ علاقائی طاقتوں میں سے ایک بن جائے گا۔ ترکی وسط ایشیا میں روس، چین اور انڈیا کے تعلقات میں قائد کے طور پر ابھرے گا۔‘

بعض تجزیہ کار افغانستان کے ساتھ ترکی کے تاریخی تعلقات کا حوالہ بھی دیتے ہیں۔ ’ملیت کے کالم نگار تونکا بینکین لکھتے ہیں کہ ’دونوں ممالک کے درمیان گہرا تاریخی رشتہ ہے۔‘

ترکی کی وزارت خارجہ کے مطابق سنہ 1920 اور 1960 کے درمیان اس نے افغانستان کو جدید بنانے کی کوششوں کی حمایت کی تھی۔ اسی عرصے میں انقرہ کا کابل میں پہلا سفیر مقرر ہوا تھا۔

طالبان
،تصویر کا کیپشنطالبان جنگجو

افغانستان میں نیٹو کے سابق خصوصی نمائندے حکمت ستین کہتے ہیں کہ ’اتاترک کے زمانے سے ترکی اور افغانستان کے ہر شعبے میں گہرے تعلقات رہے ہیں۔ افغان عوام ترکی اور ترک فوجیوں کے ساتھ گرمجوشی سے پیش آتے ہیں۔‘

ترکی کے وزیر دفاع حلوصی آقار نے 7 جون کو کہا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی برادرانہ رشتہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’جب تک افغان عوام چاہیں گے ہم افغانستان میں رہنا چاہیں گے۔ ہم ان کی مدد کرنا چاہیں گے۔‘

اس کے خطرات کیا ہیں؟

افغانستان میں طالبان جس تیزی کے ساتھ پیش قدمی کر رہے ہیں اس کی بنیاد پر کچھ تجزیہ کاروں نے ترکی کے کابل میں قیام کے منصوبے سے وابستہ خطرات کے بارے میں خبردار بھی کیا ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ترکی کو ایک ’برادر اسلامی ملک‘ کہا لیکن واضح کیا کہ نیٹو کی رکنیت کی وجہ سے طالبان انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے۔

ذبیح اللہ مجاہد نے ترکی کے سرکاری چینل ٹی آر ٹی ورلڈ کی عربی سروس کو بتایا کہ طالبان ترکی کی موجودگی کی مخالفت کریں گے اور کابل ایئرپورٹ پر اس کے کنٹرول کو ’غیر ملکی مداخلت‘ کے طور پر دیکھیں گے۔

ایک سابق ترک فوجی عہدیدار نجات ایسلن نے 28 جولائی کو کہا تھا کہ ’اس طرح کے تبصرے طالبان کے ساتھ ممکنہ تصادم کے خدشات میں اضافہ کرتے ہیں۔ طالبان نے واضح کیا ہے کہ وہ ترک فوجیوں کو دشمن کے طور پر دیکھیں گے۔‘

نجات ایسلن کا کہنا ہے کہ کابل ایئرپورٹ پر ترک فوجیوں کی تعیناتی ایک ’تاریخی غلطی‘ ہو گی اور یہ ’ترکی کے بڑے مفادات‘ سے مطابقت نہیں رکھتا۔

طالبان

ترکی کی اہم اپوزیشن پارٹی ریپبلکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) کے رکن اتکو جکیروزر نے کہا کہ طالبان افغانستان میں کوئی غیر ملکی نہیں چاہتے، اس لیے وہاں بہت ہی غیر یقینی صورتحال ہے۔

’یہ سمجھنا مشکل ہے کہ اردوغان حکومت افغانستان میں قیام پر اتنی جلدبازی کا مظاہر کیوں کر رہی ہے۔ اس سے ہمارے فوجیوں اور شہریوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔‘

اب آگے کیا؟

صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ ترکی طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔ امریکہ نے بھی طالبان کے ساتھ مذاکرات کیے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ طالبان ترکی سے زیادہ آسانی سے بات چیت کر سکیں گے۔ ترکی طالبان مخالف نہیں۔

لیکن اپنے تمام سخت بیانات کے باوجود طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ ان کی تنظیم ترکی کے ساتھ بعد میں مذاکرات کر سکتی ہے۔

ترکی افغان حکومت اور پاکستان کے ساتھ اپنے منصوبے پر بھی بات چیت کر رہا ہے لیکن افغانستان میں فی الحال جو غیر یقینی صورتحال ہے اور جس طرح طالبان اپنی گرفت مضبوط کر رہے ہیں، کابل ایئرپورٹ کے مستقبل کے بارے میں حتمی فیصلے کے لیے وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔

بی بی سی اردو

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: