افغانستان میں طالبان کے بڑھتے قدم: کیا انڈیا کو کابل میں اپنا سفارت خانہ بند کرنا پڑے گا؟

افغانستان میں طالبان کے بڑھتے قدم: کیا انڈیا کو کابل میں اپنا سفارت خانہ بند کرنا پڑے گا؟

طالبان نے جمعے کو دعویٰ کیا تھا کہ اُنھوں نے افغانستان کے 85 فیصد حصے پر قبضہ کر لیا ہے۔

طالبان کا کہنا ہے کہ افغانستان کی ایران اور ترکمانستان کے ساتھ سرحد اب اس کے کنٹرول میں ہے۔

بیس سالہ جنگ کے بعد امریکہ اب اپنے فوجی یہاں سے نکال رہا ہے اور اگست تک فوجیوں کا انخلا مکمل ہو جائے گا۔ امریکہ نے اس کی حتمی تاریخ 11 ستمبر رکھی ہے۔

طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اُن کے جنگجوؤں نے ایران کے ساتھ موجود سرحدی قصبے اسلام قلعہ کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

مگر افغانستان کی حکومت اس پورے معاملے پر وضاحت سے کچھ نہیں کہہ رہی۔

مگر اس سب کے باوجود امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔ بائیڈن کا کہنا ہے کہ افغان مسئلے کا حل یہ نہیں کہ چیزیں جیسی ہیں ویسے ہی چلتی رہیں۔

بائیڈن کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ امریکیوں کی اگلی نسل کو افغان جنگ میں نہیں بھیجنا چاہتے اور افغان اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کر سکتے ہیں۔

انڈیا، افغانستان

انڈین قونصل خانوں کی بندش

افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا اور طالبان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا بظاہر انڈیا پر گہرا اثر پڑ رہا ہے۔

اتوار کو انڈیا کے انگریزی اخبار دی ہندو نے صفحہ اول پر خبر شائع کی کہ طالبان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے پیشِ نظر انڈیا نے افغانستان کے شہر قندھار میں اپنے قونصل خانے کی بندش کا فیصلہ کیا ہے۔

اس اخبار کے مطابق 50 سفارتکار اور سکیورٹی اہلکاروں کو انڈین ایئرفورس کی ایک پرواز کے ذریعے واپس لایا جا چکا ہے۔

انڈین حکام نے اخبار کو بتایا کہ حکومت نے یہ فیصلہ احتیاطی طور پر لیا ہے۔

نوّے کی دہائی میں طالبان کا ہیڈ کوارٹر قندھار میں تھا اور طالبان اب ایک مرتبہ پھر قندھار کا کنٹرول سنبھالنے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

اس وقت تک انڈیا کا کابل میں سفارت خانہ اور مزارِ شریف میں اس کا قونصل خانہ بند نہیں ہوئے ہیں مگر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر طالبان اسی طرح پیش قدمی کرتے رہے تو انڈیا کے لیے کابل میں سفارت خانے کو محفوظ رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔

حال ہی میں پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغان ٹی وی چینل طلوع نیوز کو انٹرویو میں کہا کہ انڈیا اور افغانستان کی ایک دوسرے کے ساتھ سرحدیں نہیں ہیں پھر بھی انڈیا نے یہاں چار قونصل خانے کھول رکھے ہیں۔

اس سے قبل اپریل 2020 میں انڈین حکومت نے جلال آباد اور ہرات میں اپنے قونصل خانوں پر کام ملتوی کرتے ہوئے اپنا عملہ واپس بلوا لیا تھا۔

انڈیا، افغانستان

وزارتِ خارجہ کی وضاحت

اتوار کو انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے بھی اس معاملے پر اپنا ردِ عمل دیا ہے۔

انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان اریندم باگچی نے کہا: ‘انڈیا افغانستان میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات کو قریب سے دیکھ رہا ہے۔ ہمارے لوگوں کا تحفظ ہمارے لیے نہایت اہم ہے۔ قندھار میں انڈین قونصل خانہ بند نہیں ہوا ہے تاہم انڈین عملے کو قندھار شہر کے پاس تشدد بڑھنے کی وجہ سے واپس بلوایا گیا ہے۔ یہ ایک عارضی اقدام ہے۔’

اُنھوں نے مزید کہا: ‘قونصل خانہ مقامی عملے کے ذریعے اپنا کام جاری رکھے گا۔ افغانستان ہمارا قابلِ قدر پارٹنر ہے اور انڈیا اس کی خود مختاری، امن اور جمہوریت کے لیے پرعزم ہے۔’

اس پورے معاملے پر افغانستان کے انڈیا میں سفیر فرید ماموندزئی نے انڈین میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ انڈیا کی تشویش سمجھتے ہیں۔

اُنھوں نے سی این این نیوز18 کو بتایا: ‘افغان حکومت نہیں چاہتی کہ کوئی بھی قونصل خانے یا سفارت خانے بند ہوں مگر ہم اپنے سفارتی عملے واپس بلوانے والے ممالک کی تشویش سمجھتے ہیں۔’

اس کے علاوہ قندھار سے انڈین عملے کی واپسی پر پاکستان میں بھی کافی ردِ عمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔

پاکستان کے وزیرِ داخلہ شیخ رشید نے اتوار کو کہا کہ انڈیا کو افغانستان میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ انڈیا کے پاس افغانستان سے اپنے عملے کو واپس بلوانے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ اب تک افغانستان میں استحکام نہیں آتا، تب تک وہاں چینی سرمایہ کاری کا فائدہ نہیں ہوگا۔

شیو سینا کی راجیہ سبھا رکن پریانکا چترویدی کی ٹویٹ کو ریٹویٹ کرتے ہوئے پاکستان کے انڈیا میں سابق ہائی کمشنر عبدالباسط نے لکھا: ‘کاش انڈیا سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے افغانستان کو پاکستان کے خلاف دہشتگردانہ حملوں کے لیے استعمال نہ کرتا۔ اسے تنازع کشمیر کے حل کے لیے بھی بلوغت کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔ انڈین خودسری خطے میں عدم استحکام کی باعث بن رہی ہے۔ کواڈ اس کی مثال ہے۔’

پریانکا چترویدی نے اپنی ٹویٹ میں افغانستان میں طالبان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے بارے میں کہا تھا: ‘افغانستان میں طالبان کے جمتے ہوئے قدم، ان کا پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی گرم جوشی صرف انڈیا کے لیے بلکہ تمام ممالک کے لیے باعثِ تشویش ہونی چاہیے کیونکہ اس ابھرتے ہوئے بنیاد پرست اتحاد کی وجہ سے خطے میں تمام کامیابیاں ضائع ہو جائیں گی۔

دوسری جانب پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے پاکستانی ٹی وی چینل اے آر وائے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے انڈیا کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

اُنھوں نے کہا: ‘انڈیا نے پاکستان کو نشانہ بنانے کے لیے افغانستان میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔ فی الحال افغانستان میں صورتحال بدل رہی ہے اور انڈیا کی مشکلات سب کے سامنے ہیں۔ اب انڈیا پاکستان پر الزامات عائد کرے گا مگر اس کا پروپیگنڈا کسی کام نہیں آئے گا۔’

قندھار میں انڈین قونصل خانے سے عملہ واپس بلانے کی خبر کو پاکستانی میڈیا میں بھی نمایاں جگہ ملی ہے۔

ڈان اور دی ایکسپریس ٹریبیون نے اس خبر کو نمایاں انداز میں شائع کیا ہے۔ افغانستان کے طلوع نیوز نے لکھا کہ طالبان نے جمعے کو قندھار پر حملہ کیا اور کم از کم دو سکیورٹی چیک پوسٹوں کا کنٹرول سنبھال لیا۔

طلوع نیوز کے مطابق طالبان اب تک قندھار کے سات ضلعوں کا کنٹرول سنبھال چکے ہیں۔

میڈیا اطلاعات کے مطابق افغانستان میں انڈیا کے سفیر ردیندر ٹنڈن نے افغان وزیرِ دفاع بسم اللہ خان سے رواں ہفتے سکیورٹی صورتحال پر بات کی۔

بظاہر حکومتِ ہند افغانستان میں بدلتی صورتحال پر تشویش کی شکار ہے۔

روسی قونصل خانوں کی بندش

مگر افغانستان میں سکیورٹی صورتحال پر صرف انڈیا کو ہی تشویش نہیں ہے بلکہ گذشتہ ہفتے روس نے بھی شمالی افغانستان کے ضلعے مزارِ شریف میں اپنا قونصل خانہ بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

رواں ماہ کے اوائل میں چین نے بھی افغانستان سے اپنے 210 شہری واپس بلوا لیے تھے۔

انڈیا، افغانستان

امریکہ اب تک یہاں سے اپنے 90 فیصد سپاہی نکال چکا ہے۔ صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ تمام امریکی سپاہی 31 اگست تک امریکہ چلے جائیں گے۔

رواں ماہ کے اوائل میں سابق افغان صدر حامد کرزئی نے دی ہندو کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکہ اپنے افغان مشن میں مکمل طور پر ناکام ہو گیا ہے۔

انڈیا نے افغانستان کے انفراسٹرکچر میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے مگر یہ سب امریکی سپاہیوں اور جمہوری حکومت کی موجودگی کی وجہ سے ممکن ہوا تھا۔

اب کہا جا رہا ہے کہ افغانستان میں کنٹرول طالبان کے ہاتھ میں آنے کے بعد انڈیا کے لیے راستہ آسان نہیں ہو گا۔

طالبان اور پاکستان کے درمیان تعلقات متنازع رہے ہیں مگر طالبان اب تک انڈیا کے مخالف بھی رہے ہیں۔

یہ واضح حقیقت ہے اور ایسی صورتحال میں طالبان کی افغانستان میں آمد انڈیا کے لیے دھچکے سے کم نہیں ہے

بی بی سی اردو

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: