افغانستان کی خواتین کا خوف: ہم نے کہا تھا نا شادی کر لو، اب طالبان ہاتھ مانگیں گے تو ہم کیا کریں گے‘

افغانستان کی خواتین کا خوف: ہم نے کہا تھا نا شادی کر لو، اب طالبان ہاتھ مانگیں گے تو ہم کیا کریں گے‘

افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی اور بڑھتے ہوئے کنٹرول کے باعث وہاں کی خواتین مایوس ہیں اور ایک بار پھر 20 سال پہلے کی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کر رہی ہیں۔

دوحہ میں طالبان سے مذاکرات کرنے والے افغان حکومتی مشن میں چار خواتین بھی موجود ہیں لیکن اطلاعات ہیں کہ تشدد روکنے اور مؤثر اقدامات نافذ کرنے کے لیے نہ بات آگے بڑھی ہے اور نہ ہی طالبان سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

بی بی سی نے افغانستان کے مختلف علاقوں کی خواتین سے بات کی جنھیں اس تحریر میں ان ہی کی زبانی پیش کیا جا رہا ہے۔

اب غزنی میں بھی کوئی عورت گھر کے مرد کے بغیر باہر نہیں جا سکتی

میرا نام سارہ (فرضی نام) ہے۔ مجھے غزنی بہت عزیز ہے۔ وہاں میرا گھر ہے، میں وہاں پیدا ہوئی لیکن تین دن پہلے مجھے اپنے خاندان کے ہمراہ اسے چھوڑنا پڑا۔ نجانے میں کبھی وہاں لوٹ پاؤں گی یا نہیں۔ میں نے ایک مہینہ وہاں مسلسل لڑائی دیکھی ہے۔ پھر میں اپنے والد اور بہن بھائیوں کے ہمراہ دو روز پہلے کابل پہنچی ہوں۔

اب وہاں طالبان کا مکمل کنٹرول ہے۔ جس جگہ ہم رہتے تھے وہ پچھلے ایک مہینے سے طالبان کے کنٹرول میں تھا۔ ہمارا گھر پولیس سٹیشن کے قریب تھا۔ مرکزی شہر سے ذرا دور ایک قصبے میں۔

ہم نوجوان لڑکیاں اور عورتیں اپنے گھر کے مردوں شوہر، بھائی یا بیٹے کے بغیر باہر نہیں نکل سکتی تھیں۔ وہاں رہنا بہت مشکل ہے، ناممکن ہے۔ طالبان نے ہماری آزادی چھین لی ہے۔

وہ کسی بھی گھر پر قبضہ کر سکتے ہیں۔ جو ان کی بات نہ مانے وہ اسے قتل کر رہے ہیں۔

مثال کے طور پر اگر وہ میرے والد کو کہیں کہ ان کے لیے کھانا تیار کریں، اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو وہ مار دیتے ہیں۔ علاقے میں انھیں کوئی گھر پسند آتا ہے اور وہ اس گھر میں رہنے والے کو کہیں کہ یہ ان کے لیے خالی کریں، تو اگر وہ یہ حکم نہ مانے تو وہ اسے مار دیتے ہیں۔

میرے والد مزدوری کرتے ہیں۔ وہ کچھ روز کام کر سکے۔

میری ایک دوست طالبان کے حملے میں ہلاک ہو گئی۔ اس کے گھر پر گولے برسائے گئے۔ وہ راکٹ اور گن استعمال کر رہے ہیں۔ ہم نے اپنے علاقے کے بہت سے لوگوں کو کھویا بھی ہے۔

میں اپنی سب دوستوں سے بچھڑ گئی ہوں۔ میں یہاں یونیورسٹی میں لٹریچر میں ماسٹرز کر رہی تھی۔

مجھے نہیں معلوم آپ لوگ ہمارے جذبات ہماری صورتحال کو سمجھ سکتے ہیں یا نہیں، لیکن ہم اسے الفاظ میں بیان نہیں کر سکتے۔

وہاں غزنی سے کابل پہنچنے میں ہمارا بہت زیادہ کرایہ لگا اور یہ ایک طویل سفر تھا۔ ہم گھر سے نکلے تو دو روز ہمیں شہر کے مرکز میں اپنے رشتے داروں کے گھر میں رہنا پڑا۔

اس راستے میں ہمیں ہر جگہ طالبان گھومتے پھرتے دکھائی دیے۔ وہ گشت کر رہے تھے اور آپس میں بات چیت کر رہے تھے۔

میں امید ہی کر سکتی ہوں کہ حالات بہتر ہوں۔ ہم افغانستان سے باہر نہیں جا سکتے۔ نہیں معلوم آنے والے دنوں میں کیا ہو گا۔ یہاں کابل میں ہم ایک چھوٹی سی جگہ میں رہنے پر مجبور ہیں اور ہمارا سب کچھ پیچھے رہ گیا ہے۔

میں اب غزنی کے خوبصورت مقامات پر گشت کرتے طالبان کو دیکھ رہی ہوں اور یہ مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا۔

افغانستان

اب ہمیں برقعے میں رہنا ہو گا

میرا نام مریم (فرضی نام) ہے۔ میں یہاں کابل میں ہوں اور اپنے اور اپنی کزنز کے مستقبل کے لیے ہر ایک کے لیے بہت خوفزدہ ہوں۔ اب میں اپنے گھر سے باہر نہیں نکلتی۔ شاپنگ کے لیے اور کافی شاپ پر جانا بند کر دیا ہے۔ اب مجھے برقعے میں زندگی گزارنا ہو گی۔ میری تعلیم میری نوکری میرا مستقبل، سب کچھ ختم ہو جائے گا۔

زندگی 20 سال بعد پھر صفر پر جا رہی ہے۔

خوست میں موجود میرے خاندان کی لڑکیاں جو ابھی تعلیم حاصل کر رہی ہیں، جو ابھی کابل کی یونیورسٹی میں داخلہ لینے کے لیے پیسے جمع کر رہی ہیں وہ کہتی ہیں کہ خاندان کے مرد ان سے کہہ رہے ہیں کہ ہم نے کہا تھا نا شادی کر لو۔ اب طالبان نے اگر یہاں آ کر ہمیں حکم دیا کہ کنواری لڑکیوں کا ہاتھ دو تو ہم کیا کریں گے۔

ہمارے خاندان کے مرد انھیں کہہ رہے ہیں کہ تم ہمیں شرمسار کرو گی جب ہمیں یہ سب کرنا پڑے گا۔

ہم نے تو پہلے بھی زندگی کا صحیح معنوں میں لطف نہیں لیا لیکن ہم یہ امید رکھتے تھے کہ ہماری اگلی نسل پر امن زندگی گزارے گی۔

یہ اطلاعات بھی مل رہی ہیں کہ جمعے کے خطبوں میں کہا جا رہا ہے کہ لڑکیوں کی مردوں سے شادی اچھا کام ہے ثواب کا کام ہے۔

آپ بتائیں اب ہمارے لیے فرار کا کیا راستہ ہے؟ ہمارے پاس رقم بھی نہیں ہے کہ ہم کسی اور ملک میں جا سکیں۔

کابل میں طالبان کے پہنچنے سے پہلے ہی ہم خواتین کی زندگی بدل رہی ہے۔ اب سوشل میڈیا پر عام خواتین کی پوسٹس اور خاص طور پر تصاویر اور سٹیٹس بہت کم دیکھنے کو مل رہے ہیں۔

’لوگ صدمے سے دوچار ہیں‘

میرا تعلق پکتیکا سے ہے میں ایک سماجی کارکن ہوں۔ اب میں یہاں کابل میں ہوں اور کام کے لیے اب میں پکتیکا نہیں جا رہی، لیکن وہاں مسلسل رابطے میں ہوں۔

اگرچہ ابھی وہ طالبان کے کنٹرول میں نہیں لیکن صورتحال نارمل بھی نہیں رہی۔ لوگ وہاں سے نکل رہے ہیں۔ یہ غیر یقینی کی صورتحال ہمیں مار رہی ہے۔ آنے والا کل مزید بدترین دکھائی دے رہا ہے۔

مرنا آسان ہے لیکن اس ظلم و بربریت میں جینا مشکل ہے، ہر انسان امن چاہتا ہے ،محبت کے ساتھ رہنا چاہتا ہے۔

میری یہاں کابل میں دوسرے صوبوں سے آنے والے لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ وہ ایک صدمے کی کیفیت میں ہیں۔ ان کے پاس کہنے کو کچھ نہیں۔ انھوں نے ایک جوڑے کپڑے اور جوتے میں گھر چھوڑا۔ یہ لوگ یہاں پارکوں، سڑکوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ ہزاروں خاندان کابل پہنچ چکے ہیں۔

افغانستان

کابل کی سڑکوں پر خواتین بھیک مانگنے پر مجبور

بی بی سی کی صحافی یلدا حکیم کہتی ہیں کہ بے کسی کی حالت اس وقت افغانستان میں دکھائی دے رہی ہے۔ بہت سی عورتیں مدد کی بھیک مانگ رہی ہیں۔ وہ بہت خوفزدہ ہیں کہ طالبان کا افغانستان پر کنٹرول ہو گیا تو کیا ہو گا؟

یلدا نے اپنی ٹویٹ میں ایک خاتون کا پیغام شیئر کیا جس میں وہ کہتی ہیں ’مجھے آپ کی مدد کی ضرورت ہے یہاں سے باہر نکلنے کے لیے آپ کی مدد کی ضرورت ہے افغانستان میں صورتحال بہت خراب ہو رہی ہے۔ میں عورتوں کے حقوق کے لیے شوز کررہی تھی، افغان نیشنل آرمی کے لیے شو کرتی تھی اور افغانستان کی بہتری کی بات کرتی تھی۔‘

’مجھے نہیں معلوم کہ میں زندہ چھوڑ دی جاؤں گی یا مجھے مار دیا جائے گا۔ اگر تم میری یہاں سے باہر نکلنے میں مدد کرو تو میں وعدہ کرتی ہوں کہ میں زیادہ محنت سے کام کروں گی۔ میں یہاں سے باہر رہ کر بھی اپنے ملک کی خدمت کر سکتی ہوں۔ مجھے بہت خوشی ہو گی اگر آپ میری مدد کر سکیں۔’

یہاں کابل کی سڑکوں پر، گلیوں میں اور کیمپس میں مختلف علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے لوگ پہنچ رہے ہیں۔ ننھی نازدانہ ڈاکٹر بنننا چاہتی تھیں لیکن اب کابل کے کیمپ میں موجود ہیں۔

یلدا کہتی ہیں کہ طالبان نے مجھے بتایا کہ اب بارہ سال سے بڑی کوئی لڑکی سکول نہیں جا سکتی۔ جو بغیر شادی کے تعلقات رکھے گا اسے سنگسار کیا جائے گا، چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا ہو گی۔

ہمیں کوئی امید نہیں، خواتین بچے خون میں لت پت ہیں

سلام، سب کو سلام۔ میں قندھاری ہوں۔ حالات بہت خراب ہو گئے ہیں۔ یہاں قریبی چوک تک طالبان پہنچ چکے ہیں۔ حکومت کی فورسز اور طالبان کے درمیان بہت سخت لڑائی ہوئی۔

ہماری مائیں بہنیں سڑکوں پر چیخ رہی ہیں۔ بچے بوڑھے عورتیں خون میں لت پت ہیں۔

یہاں بچے، بوڑھے اور شیر خوار مارے گئے ہیں۔ ہم سڑکوں پر خوار ہو رہے ہیں۔ طالبان یہاں قندھار میں آ گئے ہیں۔ یہاں چنائی نامی علاقے میں ہسپتالوں پر بھی طالبان قابض ہو چکے ہیں۔ ان میں میری رشتہ دار حاملہ عورتیں بھی شامل ہیں جنھیں چنائی کے ہسپتال میں جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ان خواتین کی حالت بہت خراب ہے۔

تین دن میں انھوں نے ہمارے 12 شہروں میں قبضہ کیا۔ حکومت کی آنکھوں میں پٹی بندھی ہوئی ہے۔ بغیر لڑائی کے وہ ہر صوبہ انھیں دے رہے ہیں۔ حکومت کہتی ہے کہ ہم کر لیں گے، دیکھ لیں گے۔ ہمیں ان سے کوئی امید نہیں۔ افغانستان کسی کو نظر نہیں آ رہا کوئی ہماری طرف نہیں دیکھ رہا، افغانستان نہ امریکہ کو نظر آ رہا ہے نہ جرمنی کو نہ یورپ کو۔ ہمارا خون بہہ رہا ہے لیکن ان لوگوں نے ہماری طرف پیٹھ کر دی ہے۔ ساری دنیا نے افغانستان سے اپنا مطلب نکالا۔ افغانوں کو کوئی نہیں دیکھتا۔

حالات بہت خراب ہیں، ہمیں کوئی امید نہیں ہے ہماری سب امیدیں ختم ہو چکی ہیں کہ پھر سے افغانستان کے حالات ٹھیک ہو جائیں گے۔

طالبان نے میرا گھر تباہ کر دیا

میرا نام مہرین ہے۔ قندھار میں طالبان نے میرا گھر بھی تباہ کر دیا ہے۔ میں ایک استاد ہوں۔ قندھار چھوڑنا ہماری خواہش نہیں مجبوری بن گئی تھی۔ یہ ہماری زندگی کا مشکل ترین فیصلہ تھا۔ ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ جنگ اتنی بڑھ جائے گی۔ رات کے 12 بجے جب میرے گھر کی پچھلی دیوار پر گولیاں برسائیں گئیں تو ہمیں برقعے اوڑھ کر گھر چھوڑنا پڑا۔

بعد میں ہمیں اطلاع ملی کہ ہمارے اور اردگرد کے گھروں میں طالبان داخل ہو گئے اور وہاں بیٹھ گئے تھے۔

جب گھر چھوڑا تو بس ہاتھ میں اپنی شناختی اور تعلیمی اسناد لیں جو کہ میرے لیے بہت اہم ہیں۔ ایک ہفتے تک اپنے ایک عزیز کے یہاں وقت گزارا، پھر ہم واردک چلے گئے۔ وہاں 16 روز گزارے اور دوست کی مدد سے کابل میں کرائے پر ایک گھر لیا۔

ان حالات کی وجہ سے میری بھاوج کا بچہ ضائع ہو گیا۔ قندھار سے ہمارے بہت سے رشتہ دار پاکستان اور ہرات چلے گئے تھے۔ جب میں گھر چھوڑ رہی تھی تو پورا ضلع خالی دکھائی دے رہا تھا۔ سب گھر دکانیں سب کچھ بند پڑا تھا۔ ہر بندہ سڑک کے کنارے اپنے لیے گاڑی کی تلاش میں تھا۔

راکٹوں کی آوازیں سننے کے کئی روز بعد اب بھی ہمارے بچے خوفزدہ ہیں۔

افغانستان
،تصویر کا کیپشن
کابل میں ویزے کے لیے آنے والی خاتون

یہاں ہر کوئی ویزے کی تلاش میں ہے

میری عمر اب 27 برس ہے۔ میں سنہ 2001 میں یہاں امریکہ کے حملے کے چند ہی ماہ بعد لوٹی تھی۔

جب میں ایران سے اپنے والد کے ہمراہ کابل آئی تو ہر جانب تباہی کے مناظر تھے ٹوٹی ہوئی عمارتیں اور کھنڈرات۔ وقت کے ساتھ تبدیلیاں آئیں، یہاں کام شروع ہوا، تعمیر اور ترقی ہوئی لیکن اب ایک بار پھر ہم ماضی کی جانب پلٹ رہے ہیں۔

میرے والد کی مانند بہت سے لوگ یہاں لوٹے تھے کہ ان کا مستقبل بدلے گا۔ لوگوں نے یہاں اپنا بہت سرمایہ لگایا ہے۔

کابل میں ابھی بظاہر تو زندگی معمول کے مطابق چل رہی ہے، شادیوں کی تقریبات بھی ہو رہی ہیں، تعلیم و تدریس کا سلسلہ بھی جاری ہے، لیکن یہاں ہر کوئی بہت خوفزدہ ہے۔ ہر جانب غیر یقینی پھیلی ہوئی ہے آپ ٹیکسی میں بیٹھیں، کسی دکان پر جائیں کسی سے بھی بات کریں سب لوگ آنے والے کل کے لیے خوفزدہ ہیں۔

یہاں حکومت کی کوئی حکمتِ عملی نہیں ہے۔

ہم میں سے ہر شخص یہاں سے فرار کی کوشش کر رہا ہے، ہر کوئی اپنے خاندان کے ہمراہ محفوظ جگہ منتقل ہونا چاہتا ہے۔

ہر ایک اپنے خاندان کے لیے ویزہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ میں، میرے پڑوسی اور اس شہر میں بسنے والا ہر دوسرا شخص اسی کوشش میں ہے۔

ہم میں سے آپ کو یہاں کوئی ایک بھی شخص ایسا نہیں ملے گا جسے یہ نہ لگتا ہو کہ طالبان یہاں تک نہیں پہنچ سکتے۔ یہ اب کچھ ہفتوں یا چند مہینوں کی بات ہے۔

ہاں یہ درست ہے کہ دو ماہ پہلے تک ہم یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ طالبان ہمارے صوبوں پر قابض ہو جائیں گے۔ ہمیں لگتا تھا کہ امریکہ کے انخلا کے بعد طالبان عارضی طور پر کچھ علاقوں میں قابض ہوں گے ،لیکن ہم اس کا تصور نہیں کر سکتے تھے کہ طالبان پورے پورے صوبوں پر قابض ہو جائیں گے۔

ہم خود کو یہاں محفوظ تصور نہیں کر رہے۔ ابھی ہم بینک جا رہے ہیں تاکہ اپنے اکاؤنٹس بند کروا دیں۔ نہیں معلوم کہ آنے والے دنوں میں یہاں کیا ہو گا ہم کہاں جائیں گے۔

میری اور میرے گھر والوں کی کوشش ہے کہ ہم اگلے چند دنوں میں کابل سے کسی دوسرے ملک چلے جائیں۔ اپنے ملک اپنے گھر سے زیادہ کوئی جگہ اچھی نہیں لیکن یہاں رہنا اب محفوظ نہیں لگ رہا۔

افغانستان

دنیا نے ہمارے ساتھ دھوکہ کیا ہے

میرا نام مریم سما ہے۔ میں یہاں افغان پارلیمان میں بین الاقوامی تعلقات کے کمیشن سے وابستہ رکن ہوں۔ موجودہ حالات کام کرنے والی خواتین کے لیے خاص طور پر بہت تکلیف دہ اور پریشان کن ہیں۔ ہمیں محسوس ہو رہا ہے کہ پوری دنیا اور عالمی برادری نے ہمیں دھوکہ دیا ہے۔ یہاں طالبان کی حکومت کسی بھی شکل میں نافذ ہوئی تو لاکھوں عورتیں اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہو جائیں گی۔

مجھے تخار اور ہرات سے ایسے بہت سے واقعات کی اطلاعات ملی ہیں کہ طالبان کنواری لڑکیوں اور بیوہ خواتین سے نکاح کر رہے ہیں۔ میرے پاس اسے مسترد کرنے یا نظر انداز کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے، کیونکہ طالبان اپنے جنگجوؤں کو کہتے ہیں کہ مذہبی طور پر اس کی اجازت ہے۔

مجھے لگتا ہے کہ اب کی بار اگر خدانخواستہ وہ پورے ملک پر جنگ کے بعد قابض ہو گئے تو حالات 1990 کی دہائی سے زیادہ مشکل ہوں گے۔ ہم عورتیں ان کی انتہا پسندانہ طرز کا زیادہ نشانہ بنیں گی۔

ہمیں یہ بھی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ کچھ علاقوں میں حکم دیا جا رہا ہے کہ گھر کی 12 سے 45 برس کی خواتین کی فہرستیں فراہم کریں۔

رواں برس اپریل میں طالبان نے صوبہ جوزجان میں ایک لڑکی پر جنسی تشدد کیا تھا۔ جون 2020 میں طالبان نے صوبہ تخار میں ایک لڑکی کا ریپ کیا تھا۔ ایسے کئی واقعات ہوتے رہے ہیں لیکن مقامی روایات کے باعث انھیں منظر عام پر نہیں لایا جاتا۔

ابھی حالیہ عرصے میں طالبان نے کتنی ہی ملازمت پیشہ خواتین کو ٹارگٹ کر کے مار ڈالا۔ ابھی کچھ ہی روز پہلے مجھے ایک ایسی عورت کی خودکشی کی اطلاع ملی جس کا طالبان نے ریپ کیا تھا۔

میں سمجھتی ہوں کہ اب امریکہ کو دوحہ میں مزید مذاکرات نہیں کرنے چاہیے کیونکہ یہاں ظلم اور تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے اور معاہدے کی کسی شق پر عمل نہیں ہوا۔

‘احتیاط ہمیں زیادہ عرصے تک نہیں بچائے گی’

بی بی سی کی یلدا حکیم سے بات کرتے ہوئے ایک افغان خاتون نے کہا: ہم نے طالبان سے اپنی شناخت چھپانے کے لیے اپنی تمام دستاویزات اور دیگر علامات دفن کر دی ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ احتیاط زیادہ عرصے تک ہمیں نہیں بچائے گی۔ اب میں نے اور میرے خاندان نے ممکنہ گولیوں اور میزائلوں سے بچنے کے لیے زیرِ زمین بنکر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ حفاظتی قدم شاید ہمیں تب تک زندہ رکھ پائے جب تک کہ طالبان گھر گھر جا کر تفتیش نہیں شروع کر دیتے۔

ایک نوجوان تعلیم یافتہ اور سماجی کارکن خاتون کے طور پر میں صورتحال سے واقعی خوف زدہ ہوں جو ہر گھڑی کے ساتھ بگڑ رہی ہے۔

میں اور میرا خاندان طالبان کے ہاتھوں ہلاک ہونے کے خوف میں مبتلا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ میرے ارد گرد موجود تمام لوگ جانتے ہیں کہ میں طالبہ ہوں۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: