امریکا، برطانیہ اور یورپی یونین کا چین پر مائیکروسافٹ پر سائبر حملے کا الزام

امریکا، برطانیہ اور یورپی یونین کا چین پر مائیکروسافٹ پر سائبر حملے کا الزام

امریکا سمیت یورپی یونین اور برطانیہ نے چین پر معروف ٹیکنالوجی کمپنی مائیکرو سافٹ پر  سائبر حملے کرنے کا الزام عائد کردیا۔

برطانیہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ چینی ریاست کے حمایت یافتہ عناصر نے رواں برس مائیکرو سافٹ کے ایکسچینج سرور پر بڑا سائبر حملہ کیا جس کہ وجہ سے دنیا بھر میں 30 ہزار ادارے متاثر ہوئے۔

برطانیہ کا کہنا ہے کہ چینی ریاستی عناصر حملوں کے اصل ذمے دار ہیں  اور حملہ کسی بڑے جاسوسی کے مشن کا حصہ ہوسکتا ہے جس کا مقصد ذاتی معلومات اور املاک دانش تک رسائی حاصل کرنا ہے۔

برطانوی سیکرٹری خارجہ ڈومینک راب کا کہنا ہے کہ چینی حکومت ایسے کام کرنے سے گریز کرے ورنہ اسے اس کا حساب دینا ہوگا۔

اس معاملے پر وائٹ ہاؤس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ چین نے اپنے مفاد کیلئے دنیا بھر میں سائبر حملے کرنے والے کنٹریکٹ ہیکرز پر مشتمل انٹیلی جنس انٹرپرائز کو فروغ دیا ہے جو کافی تشویش کی بات ہے اور یہ ہیکرز اپنے فائدے کے لیے بھی حملے کرتے ہیں۔

یورپی یورنین نے کہا کہ سائبر حملہ چین کی  حدود سے کیا گیا ہے، سائبر حملوں کے نتیجے میں سیکیورٹی خطرات میں اضافے کے ساتھ سرکاری اداروں سمیت، نجی کمپنیوں کو معاشی نقصان پہنچا  ہے۔

رواں سال مارچ کے مہینے میں مائیکروسافٹ نے چین کے ’ہافنیم‘ نامی گروہ پر سائبر حملے کا الزام لگایا تھا جبکہ چین نے  تمام الزامات  بے بنیاد قرار دے کر مسترد کردیے تھے۔

اس کے علاوہ امریکی محمکمہ انصاف نے منسٹری آف اسٹیٹ سیکیورٹی (ایم ایس ایس) میں کام کرنے والے چار چینی باشندوں کو تقریباً ایک درجن سے زائد غیر ملکی حکومتی اداروں کو نشانہ بنانے کیلئے طویل المعیاد مہم چلانے پر فرد جرم عائد کردی ہے تاہم اس حوالے سے چین کی جانب سے فی الحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

خیال رہے کہ 2003 میں بھی امریکا کی جانب سے چین پر سائبر حملے کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

جیو نیوز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: