امریکی افواج افغانستان سے جا رہی ہیں، افغانیوں کو اپنے فیصلے خود کرنے ہوں گے: جو بائیڈن

امریکی افواج افغانستان سے جا رہی ہیں، افغانیوں کو اپنے فیصلے خود کرنے ہوں گے: جو بائیڈن

افغان صدر اشرف غنی کے دورہ وائٹ ہاؤس پر امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ ’افغانستان کے لوگوں کو اب اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا ہو گا۔‘

امریکی اور نیٹو افواج 11 ستمبر کو افغانستان سے چلی جائیں گی لیکن جو بائیڈن نے افغانستان کے لیے مسلسل تعاون کا وعدہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب طالبان جنگجوؤں نے ایک حالیہ جھڑپ میں افغانستان کے درجن بھر اضلاع پر قبضہ کر لیا ہے۔

اقوام متحدہ نے بھی طالبان کی جانب سے اس پیش قدمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

افغان صدر اشرف غنی اور امریکی صدر جو بائیڈن کے درمیان یہ ملاقات امریکی انخلا سے قبل امریکی فوج کے لیے کام کرنے والے ہزاروں افغانیوں کے انخلا کے منصوبے کے اعلان کے اگلے ہی روز ہوئی۔

امریکی اور نیٹو عہدیداروں نے حال ہی میں کہا ہے کہ طالبان افغانستان میں تشدد کو کم کرنے کے وعدوں پر قائم رہنے میں اب تک ناکام رہے ہیں۔

جمعے کے روز اوول آفس میں بات کرتے ہوئے جو بائیڈن نے کہا کہ امریکہ اور افغانستان کے مابین شراکت داری جاری رہے گی۔

امریکی فوجی

انھوں نے کہا ’ہماری افواج افغانستان چھوڑ رہی ہیں لیکن افغانستان کے لیے ہماری حمایت ختم نہیں ہو رہی۔‘

لیکن انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ افغانیوں پر ہے کہ ’وہ کیا چاہتے ہیں۔‘

امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ’احمقانہ تشدد کو ختم ہونا ہو گا۔ یہ بہت مشکل ہونے جا رہا ہے۔‘

اسی دوران اشرف غنی نے کہا کہ وہ جو بائیڈن کے امریکی فوجیوں کے انخلا کے ’تاریخی‘ فیصلے کی حمایت کرتے ہیں اور ’اس (فیصلے) کی حمایت اور احترام کریں گے۔‘

انھوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ افغان سکیورٹی فورسز نے حال ہی میں طالبان کے قبضے میں جانے والے چھ اضلاع پر کنٹرول واپس حاصل کر لیا ہے۔

انھوں نے کہا ’آپ دیکھیں گے کہ ہم عزم، اتحاد اور شراکت داری کے ساتھ تمام مشکلات پر قابو پا لیں گے۔‘

افغان صدر اشرف غنی نے حکومت کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے ساتھ امریکی دارالحکومت کے دو روزہ دورے کے دوران اراکین کانگریس، سی آئی اے اور امریکی وزیر دفاع سے ملاقاتیں کی۔

line

تجزیہ: لیز ڈوسیٹ، چیف نامہ نگار برائے بین الاقوامی امور

وائٹ ہاؤس میں ہونے والی یہ ملاقات انتہائی اہم وقت پر ہوئی ہے۔ یہاں ایک واضح پیغام ہو گا کہ افغان رہنماؤں کو متحد ہو کر سامنے آنا پڑا اور اسی لیے ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ ایجنڈے میں افغان سکیورٹی فورسز کی پریشان کرنے والی کمزوریاں بھی تھیں، جن میں ہیلی کاپٹروں کی دیکھ بھال بھی شامل ہے کیونکہ وہ طالبان کے بڑھتے ہوئے حملوں کا سامنا کرتے ہیں۔

صدر بائیڈن نے زور دیا کہ یہ اب افغانیوں پر منحصر ہے لیکن انھوں نے عوام کے سامنے اپنے ریمارکس میں مدد کرنے کا اشارہ بھی دیا۔

حتیٰ کہ اس آخری وقت پر بھی جب افغانستان میں رہ جانے والے آخری فوج واپسی کی تیاری کر رہے ہیں، ابھی بھی یہ واضح نہیں کہ کس طرح اور کہاں سے کچھ اہم فوجی امداد جاری رہے گی

صدر اشرف غنی کے الفاظ میں یہ ایک ’نیا باب‘ ہے، دونوں فریقوں کا کافی کچھ داؤ پر ہے کہ یہ کیسے ختم ہو گا۔

بی بی سی اردو

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: