امریکی فوج کا افغانستان سے انخلا: کیا ایران سے تعلقات میں بہتری کے لیے طالبان شیعہ برادری کے خلاف امتیاز کر پائیں گے؟

امریکی فوج کا افغانستان سے انخلا: کیا ایران سے تعلقات میں بہتری کے لیے طالبان شیعہ برادری کے خلاف امتیاز کر پائیں گے؟

افغانستان میں طالبان کے مختلف علاقوں میں قبضے کے بعد خطے میں ایران کا کردار مزید اہم نظر آ رہا ہے۔ایران کے افغانستان کے ساتھ کئی مختلف سطح پر ثقافتی اور تاریخی روابط ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اپنے آپ کو اقلیتی شیعہ برادری کے محافظ کے طور پر بھی پیش کرتا ہے۔ ایران میں شیعہ اکثریت میں ہیں اور لاکھوں افغان مہاجرین بھی ایران میں رہتے ہیں۔

شام کی خانہ جنگی کے دوران ایران نے خاص طور پر ہزارہ برادری کے شیعہ افراد کو اپنی فاطمیون بریگیڈ میں شامل کیا تھا۔

ایران کے ساتھ طالبان کے تعلقات، ان دونوں کے درمیان تاریخی عداوت کی وجہ سے ہمیشہ سرد رہے ہیں۔ لیکن ان کے درمیان جس قسم کا بھی رشتہ رہتا ہے اس کی بنیاد ہمیشہ حقیقت پسندانہ ہوتی ہے، اور اس کا تعلق سرحدی علاقوں میں مادی اور سکیورٹی مفادات سے جڑا رہتا ہے

اگست 1998 میں طالبان مخالف شمالی اتحاد نے مزار شریف میں سینکڑوں طالبان جنگجو ہلاک کیے تھے، اس وقت شمالی اتحاد کی حمایت ایران کر رہا تھا۔ اس کے جواب میں بعد میں طالبان نے اس شہر پر قبضہ کیا تو 11 ایرانیوں سمیت ہزارہ برادری کے ہزاروں افراد کو ہلاک کر دیا۔ایران نے بظاہر جنگ کی تیاری میں 70 ہزار فوجیوں کو سرحد پر جمع کیا تھا۔ اس کے بعد طالبان نے کجکی ڈیم کے دروازے بند کر دیے اور سخت خشک سالی کے دوران ایران کو پانی کی فراہمی میں کافی کمی کر دی۔

اس کے نتیجے میں سستان کے علاقے میں موجود ’ہمون ویلی لینڈز‘ کا ماحولیاتی نظام خشک سالی اور طالبان کی ناکہ بندی کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوا۔

افغان ملیشیا
،تصویر کا کیپشنافغان ملیشیا تخار صوبے میں طالبان جنگجوؤں کے ممکنہ حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار

بڑھتا ہوا تعاون

ایران کی افغانستان کے ساتھ غیر محفوظ سرحد، جس کے آر پار تارکین وطن، منشیات، مسلح گروہوں اور پانی آتا جاتا رہتا ہے، اس کے طالبان کے ساتھ تعلقات کی وضاحت کرتی ہے۔ افغانستان سے ایران میں دو بڑے دریا ہلمند اور ہری رڈ بہتے ہیں۔ جب اس پانی کی فراہمی میں خلل پڑتا ہے تو اس سے نیچے پانی کے بہاؤ کی طرف رہنے والی ایرانی برادریوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچتا ہے۔جب طالبان کے اقتدار کا خاتمہ ہوا تو ایران کو نئی افغان حکومت اور اس کی پانی کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے کی جانے والی کوششوں سے ایک نیا خطرہ محسوس ہوا۔ ان بنیادی ڈھانچوں کے منصوبوں میں سے ایک کمال خان ڈیم ہے، جو دریائے ہلمند کے اوپر تعمیر کیا گیا ہے اور جس کا افتتاح ایرانی کارکنوں اور عہدیداروں میں یکساں تشویش کے درمیان مارچ میں کیا گیا تھا۔

افغان اور امریکی حکام متعدد مرتبہ ایران، خصوصاً پاسدارانِ ایران پر الزام عائد کر چکے ہیں کہ وہ طالبان قوتوں کو مالی اور فوجی مدد فراہم کر کے انفراسٹرکچر کے ایسے منصوبوں میں رکاوٹ ڈالتا رہا ہے جن سے افغانستان ایران کو پانی کی فراہمی پر زیادہ سے زیادہ کنٹرول حاصل کر سکتا ہے۔طالبان کے ساتھ ایران کا سیکیورٹی تعاون بھی اتحادی افواج کے ساتھ مشترکہ دشمنی پر مبنی ہے اور برطانیہ اور امریکہ نے ایران پر طالبان کو ہتھیاروں کی فراہمی کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

صدر غنی
،تصویر کا کیپشنخدشہ ہے کہ امریکی افواج کے جانے کے بعد صدر غنی کی حکومت مشکلات ہو سکتی ہے

تعاون میں وسعت

اسی طرح سنہ 2015 میں افغانستان میں دولتِ اسلامیہ کے عروج کے بعد ایران نے اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لیے طالبان کے ساتھ تعاون بڑھایا ہے۔ یاد رہے کہ ایران کی سرحد کے ساتھ ملحقہ زیادہ تر علاقوں پر طالبان کا قبضہ ہے۔ اس ان کہے تعاون نے سفارتی تعلقات کو بھی وسعت دی۔ایران کے ساتھ طالبان کے تعلقات اس وقت واضح ہو گئے جب مئی 2016 میں طالبان کے رہنما ملا اختر منصور ایران سے پاکستان واپس آتے ہوئے ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک کر دیے گئے۔ایران نے پہلی بار عوامی طور پر 2018 کے آخر میں طالبان کے نمائندوں کی میزبانی کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ اس نے ایسا افغان حکومت کے علم میں لانے کے بعد کیا تھا۔ اس نے یہ بھی تسلیم کیا تھا کہ مذاکرات میں افغانستان میں سلامتی کے مسائل کو حل کرنے پر بات کی گئی تھی۔

افغانستان میں غیرملکی سفارتخانے: ’یہاں رہا جائے یا واپس جانے کا وقت آ گیا ہے‘سنہ 2000 میں طالبان اور امریکہ کے افغانستان سے فوجوں کے انخلا کے معاہدے کے بعد ایران نے واشنگٹن پر تنقید کی کہ وہ بین الافغان مذاکرات کو ترجیح نہیں دے رہا۔ لیکن ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے سب کے سامنے تسلیم کیا تھا کہ طالبان ’افغانستان کا پورا مستقبل نہیں بلکہ اس کا ایک حصہ ہیں

یہ تعلق آج کہاں کھڑا ہے؟

بیشتر ایرانی ذرائع ابلاغ نے طالبان کی عسکری طاقت کے دوبارہ سامنے آنے اور اقتدار میں ان کی واپسی کے ممکنہ خطرے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔عوامی طور پر، ایرانی سفارت کاروں نے افغانستان میں فوجی کارروائیوں میں بتدریج کمی اور سفارتکاری کی ضرورت پر زور دیا ہے۔لیکن ایران کا ہارڈ لائن میڈیا ایک الگ ہی کہانی سناتا ہے۔ تسنیم خبر رساں ایجنسی طالبان کے اعتدال پسندی کی ضرورت پر زور دیتی ہے، اور اس نے فرقہ واریت کے خلاف بولنے والی سینیئر طالبان شخصیات کو اپنا پلیٹ فارم دیا ہے۔

مثال کے طور پر طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے خبر رساں ایجنسی تسنیم کو بتایا کہ ’ہم اپنے شیعہ بھائیوں کو یقین دلاتے ہیں کہ ان کے خلاف کسی قسم کا امتیازی سلوک نہیں برتا جائے گا، اور ہم اس کی اجازت نہیں دیں گے۔‘

یہ ذرائع ایرانی سکیورٹی ایجنسیوں اور طالبان کے مابین کافی عرصے سے جاری تعلقات کے عوامی چہرے کی نمائندگی کرتے ہیں۔دوسری طرف طالبان نے بھی ایرانی میڈیا کے وسیع تر حصے میں صلح آمیز لہجہ ہی اختیار کیا ہے۔ النا نیوز ایجنسی کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں ذبیح اللہ مجاہد نے افغانستان میں اقتدار میں آنے کے بعد ایران کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے میں ناکامی کا الزام ملک میں خانہ جنگی اور ناتجربہ کاری پر لگایا ہے۔

انھوں نے کہا کہ طالبان اپنے ’رویے بدل رہے ہیں‘، اور سنہ 2000 میں طالبان اور ایران کے درمیان قائم بہت برے تعلقات کے بعد سے وہ اب بہت بہتر ہو چکے ہیں۔اگرچہ ایران اور طالبان کے مفادات کی بدلتی ہوئی بنیادوں کے پیش نظر ان کے تعلقات کو آسان طریقے سے بیان کرنا ایک مشکل کام ہے، لیکن یہ بات تو واضح ہے کہ دونوں ہی افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے اصل امکان کی تیاری کر رہے ہیں۔

بی بی سی اردو

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: