ایف اے ٹی ایف، پاکستان چار غیر نامزد مالیاتی کاروبار اور پیشے کی جانچ پڑتال کا پابند

ایف اے ٹی ایف، پاکستان چار غیر نامزد مالیاتی کاروبار اور پیشے کی جانچ پڑتال کا پابند

اسلام آباد (مہتاب حیدر)ایف اے ٹی ایف کے نئے ایکشن پلان کے تحت پاکستان چار غیر نامزد مالیاتی کاروبار اور پیشے (ڈی این ایف بی پی ایس) کی جانچ پڑتال کرنے کا پابند ہے، جس میں رئیل اسٹیٹ ایجنٹس، جیولرز، وکلا اور اکائونٹنٹس شامل ہیں جو متعلقہ صارفین سے متعلق مشتبہ ٹرانزیکشنز رپورٹس (ایس ٹی آرز) بناتے ہیں۔ اگر ایف اے ٹی ایف کے نئے ایکشن پلان پر عمل درآمد میں ناکام ہوئے تو دیگر سخت اقدامات بھی ہوسکتے ہیں۔ اب پاکستان کو موثر مانیٹرنگ کے ذریعے پابندیاں عائد کرنے کے لیے سخت اقدامات کا پابند بنایا گیا ہے، جو کہ جرمانوں کی صورت ہوگی۔ اس کے علاوہ جو ایف اے ٹی ایف شرائط پوری کرنے میں ناکام ہوئے انہیں نوٹسز جاری کرنے کے بعد ان کے کاروبار کو سیل کردیا جائے گا۔ ایس ٹی آرز ایسے صارفین کے خلاف جاری ہوں گے جو کسی اثاثے کو خریدنے کے لیے اپنی مالی حیثیت سے متعلق مطمئن کرنے میں ناکام ہوں گے۔ ایف بی آر پہلے ہی انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن (آئی اینڈ آئی)، ان لینڈ ریونیو سروس (آئی آر ایس) کے تحت ڈی این ایف بی پی ایس تشکیل دے چکا ہے اور اب تک 50 ہزار کے قریب رئیل اسٹیٹ ایجنٹوں، جیولرز، اکائونٹنٹس اور وکلا کو نوٹسز بھیجے جاچکے ہیں اور ان کی متعلقہ باڈیز سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ایف بی آر کی مشاورت سے ایسا طریقہ کار بنائیں جس سے ایف اے ٹی ایف کی شرائط پوری ہوسکیں۔ مارچ، 2021 میں رئیل اسٹیٹ ایجنٹوں کو بھیجے گئے تحریری نوٹسز میں کہا گیا تھا کہ آپ کو جو سوال نامہ بھجوایا گیا تھا اسے انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت بروقت جمع کرنے کا کہا گیا تھا لیکن آپ یاددہانی کے باوجود اسے جمع کرنے میں ناکام رہے۔ اب آپ کو آخری موقع دیا جارہا ہے، ناکامی کی صورت میں پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں۔ ایف بی آر نے واضح کیا کہ تین خلاف ورزیاں ہوچکی ہیں جن میں بطور ڈی این ایف بی پی رجسٹرڈ ہونے میں ناکامی، آف سائٹ سوال نامہ جمع کرانے میں تاخیر اور ان قواعد وضوابط پر عمل درآمد میں ناکامی جو ایس آر او۔924 (1) 2020 کے تحت جاری کی گئی تھی۔ مستقبل میں آپ کے عمل درآمد کو آن سائٹ انسپکشن جو کہ ہماری ٹیمیں کریں گی کے ذریعے چیک کیا جائے گا۔ کسی قسم کی خلاف ورزی پر مذکورہ ایس آر او کے تحت پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ اب ایف بی آر کے ڈی این ایف بی پی کے اعلیٰ حکام نے آن سائٹ انسپکشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ جولائی 2021 سے شروع ہونے والی مالی سال سے شروع ہوجائے گا۔ پاکستان انوکھا ملک ہے جہاں ایف اے ٹی ایف اور اس کی علاقائی باڈی ایشیا پیسفک گروپ (اے پی جی) دو مختلف طریقہ کار ایک ساتھ چلا رہا ہے، حالاں کہ اسلام آباد ایک طریقہ کار کو ملتوی کرنے کی درخواست کرچکا ہے، لیکن کسی نے بھی اس درخواست پر غور نہیں کیا۔ اس حوالے سے عہدیدار کا کہنا تھا کہ ایک جانب پاکستان کو جون 2018 میں گرے لسٹ میں شامل کیا گیا اور 27 ایکشن پلانز پر عمل درآمد کا کہا گیا اور اس کے لیے ایک سال کا وقت دیا گیا۔ دوسری جانب 2019 میں اے پی جی نے پاکستان کو باہمی تشخیصی رپورٹ (ایم ای آر) کے لیے منتخب کیا تاکہ اس بات کا جائزہ لیا جاسکے کہ کیا پاکستان نے ان 40 سفارشات پر عمل درآمد میں پیش رفت کی ہے جو منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی امداد روکنے سے متعلق ہے۔ اے پی جی نے پہلی رپورٹ میں 100 کے قریب خامیوں کی نشان دہی کی تھی اور صرف 10 ماہ کے اندر اے پی جی نے اپنی پیش رفت رپورٹ میں اعتراف کیا تھا کہ پاکستان نے بڑی حد تک 40 میں سے 31 سفارشات پر عمل درآمد کرلیا ہے۔ عہدیدار کا کہنا تھا کہ ہم نے مزید پیش رفت کی ہے اور اب گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے صرف 7 نکات باقی رہ گئے ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کے نئے مطالبات پر عمل درآمد کے لیے پاکستان کو اے ایم ایل/سی ایف ٹی خامیوں کو ختم کرنے کے لیے مسلسل کام جاری رکھنا ہوگا۔ ان میں 1۔ باہمی قانونی معاونت قانون (ایم ایل اے) میں ترمیم کے ذریعے عالمی تعاون میں اضافہ کرنا ہوگا۔ 2، یو این ایس سی آر کے 1373 عہدوں پر عمل درآمد کرکے بیرون ممالک سے معاونت کے حصول کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔3، اس بات کا مظاہرہ کرنا ہوگا کہ ڈی این ایف بی پی ایس سے منسلک سپروائزر آن سائٹ اور آف سائٹ نگرانی کریں اور جہاں جرمانے ضروری ہوں عائد کریں۔ 4، اس بات کا مظاہرہ کرنا ہوگا کہ تمام قانونی افراد پر مستقل جرمانے ہوں اور عمل درآمد نا ہونے کی صورت قانونی انتظامات کیے جائیں جس میں فائندہ مند ملکیتی ضروریات شامل ہوں۔ 5، اس بات کا مظاہرہ کیا جائے کہ ایم ایل تحقیقات اور پراسیکیوشن اور جرائم سے حاصل منافع مستحکم اور پاکستان کی رسک پروفائل سے مطابقت رکھتے ہوں، جس میں غیرملکی ہم منصبوں کے ساتھ کام کرکے انہیں ٹریس کرنا، منجمد کرنا اور اثاثوں کو تحویل میں لینا شامل ہو۔6، اس بات کا بھی مظاہرہ کیا جائے کہ ڈی این ایف بی پی ایس پر عمل درآمد کے لیے نگرانی کی جارہی ہے جو مالی ضروریات کے پھیلائو کے ساتھ ہو اور عمل درآمد نا ہونے کی صورت میں جرمانے عائد کے جارہے ہوں۔ اب حکومت کو بین الاقوامی تعاون بڑھانے کی ضرورت ہوگی تاکہ ایسے افراد کے خلاف اقدامات کیے جاسکیں جو منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت میں ملوث ہوں اور اسلام آباد کو اپنی سیاسی خودمختاری کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ ڈی این ایف بی پی ایس کے خلاف اقدامات کیے جاسکیں۔ دیگر ممالک میں کیسینوز بھی ڈی این ایف بی پی ایس کی تعریف میں شامل ہیں لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہے کیوں کہ ان کا وجود پاکستان میں نہیں ہے۔

جنگ نیوز

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: