ایف اے ٹی ایف اجلاس: پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے میں کیا انڈیا ایک رکاوٹ ہے؟

ایف اے ٹی ایف اجلاس: پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے میں کیا انڈیا ایک رکاوٹ ہے؟

پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ انڈیا فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے فورم کو ’سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے‘ اور انڈیا کو اس فورم کے سیاسی استعمال کی اجازت نہیں ملنی چاہیے۔

ایک بیان میں پاکستانی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ ’ایف اے ٹی ایف ایک تکنیکی فورم ہے جسے سیاسی معاملات کو نمٹانے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔‘

خیال رہے کہ پاکستان گرے لسٹ ممالک میں شامل ہے اور پاکستانی حکومت ایف اے ٹی ایف سے ریلیف کی منتظر ہے۔ لیکن وزیرِ خارجہ کے اس بیان سے معاملات پیچیدہ نظر آرہے ہیں۔

25

جون کو ایف اے ٹی ایف کے پلانیری اجلاس میں یہ طے کیا جائے گا کہ آیا پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنا چاہیے یا نہیں۔

پاکستان میں کئی ماہرین اور تجزیہ کاروں کی رائے اسی طرف اشارہ کرتی ہے کہ پاکستان کو تھوڑی سی سہولت دے کر مزید گرے لسٹ میں ہی رکھا جائے گا، جیسا کہ اس سے قبل ایف اے ٹی ایف کے اجلاسوں میں ہوتا رہا ہے۔ تاہم حتمی اعلان تو ایف اے ٹی ایف کو خود ہی کرنا ہے۔

پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے میں کیا انڈیا ایک رکاوٹ ہے؟

اس وقت پاکستان کی صورتحال کا جائزہ لینے والے ایف اے ٹی ایف اجلاس سے قبل وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کا انڈیا سے متعلق بیان توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، جس میں انھوں نے انڈیا کے عالمی ’سیاسی کردار‘ کی طرف اشارہ کیا ہے۔

اس بارے میں اس سے پہلے بھی بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ انڈیا کس حد تک ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کے مقدمے کو متاثر کر سکتا ہے اور کیا انڈیا کو قانونی طور پر روکا جا سکتا ہے؟

انڈیا، پاکستان، سرحد

بورڈ آف انویسٹمنٹ کے سابق سربراہ ہارون شریف نے بتایا کہ ‘(انڈیا کو) قانونی طور پر نہیں روکا جا سکتا۔ لیکن اس وقت جو ماحول بنا ہوا ہے، وہ پاکستان کے خلاف جاتا ہو ا نظر آ رہا ہے۔’

انھوں نے دو باتوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ‘ایف اے ٹی ایف جیسے (عالمی) فورمز تکنیکی ہوتے ہیں۔ اور انھیں ویسے ہی رہنے دینا چاہیے۔ کیونکہ ایسا نہ ہونا ایف اے ٹی ایف کی اپنی ساکھ کے لیے صحیح نہیں ہے۔ ورنہ اداروں پر سے اعتبار اٹھ جاتا ہے جو کہ ہو رہا ہے کیونکہ سیاست استعمال ہو رہی ہے۔’

دوسری بات انھوں نے کہی کہ پاکستان کا ایف اے ٹی ایف کے لیے ایک نمائندہ یا ترجمان ہونا چاہیے۔ ان کا اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ ایک ہی وقت کئی حکومتی وزرا اس حساس موضوع پر اپنی رائے دیتے رہتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اس وقت یہ ہو رہا ہے کہ کئی ترجمان اور وزرا ایف اے ٹی ایف پر سیاسی بیانات کا جواب دے رہے ہیں۔ جس سے ہمارا کیس عالمی برادری کے سامنے کمزور ہو جاتا ہے اور فریقین کو فائدہ پہنچتا ہے۔’

انھوں نے کہا کہ انڈین میڈیا میں خبریں اور تجزیے دیکھ کر اور پڑھ کر یہی تاثر مل رہا ہے کہ انڈیا کی پوری کوشش ہے کہ پاکستان گرے لسٹ میں رہے۔ ہارون شریف کے مطابق ‘اس سے پہلے ان کی کوشش تھی کہ پاکستان بلیک لسٹ میں رہے لیکن اب وہ چاہتے ہیں کہ مزید سوالات اور اعتراضات ہوں۔’

دلی میں بی بی سی کے نامہ نگار شکیل اختر بتاتے ہیں کہ گذشتہ تین برسوں سے انڈیا کے ذرائع ابلاغ اور اعلیٰ حکام کے بیانات سے ایسا لگتا ہے جیسے انڈین سفارتکار ایشیا پیسیفک گروپ اور ایف اے ٹی ایف دونوں جگہ پاکستان کے خلاف لابینگ کرتے رہے ہیں۔

پاکستان ایشیا پیسیفک گروپ کا رکن ہے لیکن وہ 40 رکنی ایف اے ٹی ایف کا رکن نہیں جہاں حتمی فیصلہ ہوتا ہے۔ انڈیا اس کا ایک رکن ہے۔

انڈیا کے سلامتی کے امور کے تجزیہ کار سوشانت سرین کہتے ہیں کہ ایف اے ٹی ایف میں جو بھی صلاح و مشورے اور بحث و مباحثے ہوتے ہیں انھیں رکن ممالک فورم سے باہر لیک نہیں کر سکتے۔ ’اس لیے جو بھی خبریں وہاں سے آتی ہیں وہ ’ذرائع‘ کے توسط سے آتی ہیں۔ کوئی ملک براہ راست اس بارے میں بات نہیں کرتا۔‘

سوشانت مزید کہتے ہیں کہ انڈیا دہشت گردی کی روک تھام کے حوالے سے یقیناً لابی کرتا ہے لیکن پاکستان بھی اپنے حق میں فیصلے کے لیے لابی کرتا ہے۔ ان کا مطلب ہے کہ ہر ملک کسی نہ کسی سطح پر اپنے مفاد کے لیے سرگرم رہتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’پاکستان کو جو اقدامات کرنے کے لیے کہا گیا تھا، اس کے جواب میں وہ جو ثبوت پیش کرے گا ایف اے ٹی ایف میں اس کا بہت معروضی جائزہ لیا جائے گا

سوشانت کے مطابق ایف اے ٹی ایف اجلاس میں ’کیا باتیں ہوں گی، کیا کہا جائے گا، کیا بات چیت ہو گی، اس کی تفصیلات باہر نہیں آئیں گی (مگر) جو فیصلہ ہو گا وہ میٹنگ کے بعد ایک پریس ریلیز میں جاری کیا جائے گا۔‘

ہارون شریف کہتے ہیں کہ پاکستان کی جانب سے اجلاس اور فیصلوں سے قبل ‘بیک ڈور پالیسی ہوتی رہتی ہے جسے جاری رہنا چاہیے۔ لیکن جب یہ معاملات عوام کے سامنے لائے جاتے ہیں اور ان پر بیان بازی ہوتی ہے تو وہ صحیح نہیں ہے۔ اور پروفیشنل (پیشہ ورانہ) بھی نہیں ہے۔‘

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گذشتہ دنوں ذرائع ابلاغ پر ایسی اطلاعات سامنے آئیں کہ انڈیا کے علاوہ فرانس بھی پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کی مخالفت کر رہا ہے۔ تاہم بدھ کو پاکستان کی وزارت خزانہ نے ایک وضاحتی بیان میں کہا کہ انٹرنیشنل کوآپریشن ریویو گروپ کے ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے فرانس پاکستان کا ایک فعال پارٹنر ہے جو تکنیکی معاونت اور ہدایات فراہم کرتا رہتا ہے۔

اسی کے پس منظر میں وزارت خزانہ کا کہنا تھا کہ افواہوں پر مبنی یا سسنی خیز خبریں شائع کرنے سے گریز کرنا چاہیے جن سے ‘ہمارے بین الاقوامی تعاون اور ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔‘

افغانستان سے فوجی انخلا اور ایف اے ٹی ایف

امریکہ نے رواں سال مئی سے افغانستان سے اپنی فوج کے انخلا کا آخری عمل شروع کیا جس کے نتیجے میں 20 سال سے زیادہ چلنے والی جنگ اپنے اختتام کو پہنچتی دکھائی دے رہی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی افغانستان میں خانہ جنگی اور دیگر ممالک میں پناہ گزین کی تعداد بڑھنے کا خوف بھی اپنی جگہ موجود ہے۔

اس دوران پاکستان کی طرف سے خدشات کا اظہار کیا گیا ہے کہ افغانستان سے فوجی انخلا کے بعد وہاں پر جاری جنگ کی ذمہ داری پاکستان کے سر آ سکتی ہے اور اس سے سب سے زیادہ نقصان افغانستان کے بعد پاکستان کو پہنچ سکتا ہے۔

افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا ستمبر کی گیارہ تاریخ تک مکمل ہونا ہے
،تصویر کا کیپشنافغانستان سے امریکی فوج کا انخلا ستمبر کی گیارہ تاریخ تک متوقع ہے

بعض مبصرین یہ اعتراض کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ افغان صورتحال کی وجہ سے ایف اے ٹی ایف کے فورم کو امریکہ کی جانب سے پاکستان پر مزید دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اس وقت پاکستان میں کئی حکومتی نمائندے جیسے کہ معید یوسف، شاہ محمود قریشی اور یہاں تک کہ وزیرِ اعظم عمران خان کی طرف سے خود ایسے بیانات دیے گئے ہیں کہ ’اگر افغانستان میں حالات خراب ہوتے ہیں تو اس کا الزام پاکستان پر عائد نہ کیا جائے۔‘

ہارون شریف نے کہا ہے کہ ‘اس کا مطلب یہ ہے کہ انھیں کہیں سے یہ اطلاعات ملی کہ ایسا کیا جا سکتا ہے اور پاکستان کے خلاف اس طرح کا بیانیہ بنایا جا سکتا ہے۔’

پاکستان ایف اے ٹی ایف کی کتنی شرائط پوری کرچکا ہے؟

شاہ محمود قریشی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان نے اب تک 27 سفارشات میں سے 26 مکمل کر لی ہیں اور ستائسویں پر ‘بھرپور کام جاری ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ پاکستان کو مزید گرے لسٹ میں رکھنا ‘نامناسب ہو گا۔’

لیکن وفاقی حکومت کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس وقت ایف اے ٹی ایف کی تین سفارشات رہتی ہیں۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ ان تینوں سفارشات میں ‘دہشت گردوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی، سزا اور مالی معاونت پر پابندیاں شامل ہیں۔’

نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر اس ترجمان نے کہا کہ ’پاکستان کی طرف سے ان سفارشات پر پیشرفت کے بارے میں جوابات جمع ہوتے رہے ہیں۔ اور اب جو اعتراضات آئیں گے ان پر کام کیا جائے گا۔’

ایف اے ٹی ایف

پاکستان کے سٹیٹ بینک کے شعبے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو) کی ڈائریکٹر جنرل لبنیٰ فاروق نے بتایا کہ ‘اس وقت رہ جانے والی تینوں سفارشات پر ہم نے بھرپور کام کیا ہوا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے جو اعتراضات آتے رہیں گے ہم ان کا جواب دیتے رہے ہیں اور آگے بھی دیتے رہیں گے۔’

ایف اے ٹی ایف اجلاس میں اب تک کیا ہوتا آرہا ہے؟

حالانکہ منی لانڈرنگ کا جائزہ لینے والے ایشیا پیسیفک گروپ (اے پی جی) نے پاکستان کو اپنی دوسری فالو اپ رپورٹ میں مزید نگرانی کی تجویز دی تھی لیکن اس کے باوجود ادارے نے پاکستان کی طرف سے سفارشات کی تکمیل کو بھی سراہا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ادارے نے فروری میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان کو تین اہم ترین سفارشات کی تکمیل کرنے پر زور دیا تھا، جن میں دہشت گردوں کو سزا، ان معاملات کی قانونی چارہ جوئی اور مالی معاونت پر پابندیاں شامل ہیں۔

اسی طرح ادارے نے پاکستان سے دہشت گردوں کی مالی معاونت پر پابندی کے قانونی اطلاق کا ثبوت بھی مانگا تھا۔

ثبوت کے طور پر پاکستان کی وفاقی حکومت نے مئی میں رپورٹ جمع کی تھی جس میں 12 دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کی تفصیلات موجود تھیں۔

پاکستان کے لیے 25 جون کو ہونے والا اجلاس اس لیے خاصا اہم ہے کیونکہ پاکستان کا خیال ہے کہ زیادہ تر سفارشات پر عمل درآمد کے بعد اب پاکستان سے مزید کام کرنے یا ’ڈو مور‘ کی تلوار ہٹا دینی چاہیے۔

لیکن اب پاکستان کے وزیرِ خارجہ انڈیا سے متعلق خدشات کا اظہار کر رہے ہیں کہ کہیں تکنیکی مسائل پر بات کرنے والا ادارہ سیاسی اور سفارتی چپقلش کا شکار نہ ہو جائے۔

بی بی سی اردو

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: