جب اور جہاں ضروری ہوا، ایران کے خلاف کارروائی کریں گے: اسرائیل

جب اور جہاں ضروری ہوا، ایران کے خلاف کارروائی کریں گے: اسرائیل

اسرائیل کے وزیر دفاع بینی گینٹز نے کہا ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے جب اور جہاں بھی ضروری ہوا ان کا ملک کارروائی کرے گا۔

انڈپینڈنٹ فارسی کے مطابق اسرائیل کے ’چینل 13‘ کو اتوار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بینی گینٹز کا کہنا تھا: ’ہم ایران کے ساتھ لڑائی کی حالت میں ہیں۔ ہم نے اپنا دفاع کیا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ہم ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ہم نے علاقے میں ایران کے منفی رویے کو روکنے کا عزم کر رکھا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ہم کس طرح کارروائی کرتے ہیں۔‘

اس بیان سے چند گھنٹے پہلے اسرائیلی وزیر دفاع نے ملک کے وزیراعظم نفتالی بینیت سے ملاقات کی تھی، جس کی توجہ کا مرکز ایران کا ایٹمی پروگرام اور اقوام متحدہ کے جوہری سرگرمیوں کی نگرانی کے ادارے ’انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی‘ (آئی اے ای اے) کے بورڈ کی بحالی کے مذاکرات تھے۔

اجلاس میں اسرائیلی وزارت دفاع، وزارت خارجہ اور خفیہ ادارے موساد کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اخبار ’ٹائمز آف اسرائیل‘ کے مطابق اجلاس کے بعد بینی گینٹز نے کہا: ’ہم ایران کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے جو بھی ضروری اقدامات ہوئے کریں گے اور خطے میں سلامتی اور استحکام کے لیے اپنی بالادست فوجی طاقت کو برقرار رکھیں گے۔‘

اسرائیلی وزیر دفاع کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہفتے کو متحدہ عرب امارات کے ساحل سے تھوڑے فاصلے پر ایک مال بردار بحری جہاز پر حملہ ہوا۔ یہ جہاز اسرائیلی مالک کا تھا تاہم دھماکے سے پہلے ہی اسے برطانوی کمپنی کو فروخت کر دیا گیا تھا۔

بعض قیاس آرائیوں سے اشارہ ملتا ہے کہ اس حملے میں ایران کا کردار تھا، تاہم تہران نے ان طلاعات کی تصدیق نہیں کی۔

واضح رہے کہ بحری جہاز پر حملہ ایرانی صوبے البرز کے دارالحکومت کرج کے قریب قائم سینٹری فیوجز تیار کرنے والی جوہری تنصیب پر حملے کے تقریباً دو ہفتے بعد ہوا تھا۔

ایرانی حکام نے کہا تھا کہ ’تخریبی کارروائی‘ کامیاب نہیں ہوسکی لیکن اس کے برعکس مصنوعی سیارے سے لی گئی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’ڈرون‘ حملے کے نتیجے میں تنصیب کے شیڈز کی چھت تباہ ہو گئی۔

ایرانی حکام نے ڈرون حملے کی بھی تردید کی ہے۔

گذشتہ سال ایرانی ایٹمی تنصیبات اور اسرائیلی بحری جہازوں پر کئی دھماکے ہوئے لیکن ایران اور اسرائیل نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

انڈیپینڈینٹ اردو

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: