حکومت نے ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلیے ڈیڑھ کروڑ افراد کا ڈیٹا حاصل کرلیا

حکومت نے ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلیے ڈیڑھ کروڑ افراد کا ڈیٹا حاصل کرلیا

کراچی: وزیر خزانہ نے قابل ٹیکس آمدنی کے حامل ڈیڑھ کروڑ افراد کا مکمل ڈیٹا حاصل کرنے کا انکشاف کیا ہے جنہیں جلد ٹیکس کے دائرہ کار میں لایا جائے گا۔

یہ انکشاف انہوں نے جمعہ کو ایف پی سی سی آئی میں تاجر و صنعت کاروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کو کہہ دیا کہ آپ کا اور ہمارا راستہ الگ ہوسکتا ہے لیکن منزل ایک ہے۔

آئی ایم ایف سے کہہ دیا نہ مزید ٹیکس لگائیں گے نہ پاور ٹیرف بڑھائیں گے

آئی ایم ایف پر واضح کردیا ہے کہ ہم ٹیکس نہیں بڑھائیں گے اور نہ ہی پاور ٹیرف میں اضافہ کریں گے تاہم ٹیکس نیٹ کو ضرور وسعت دیں گے اور نئے لوگوں کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لایا جائے گا۔

آرٹی فیشل انٹیلی جنس کے ذریعے ٹیکس نیٹ بڑھائیں گے

انہوں نے بتایا کہ ہم نے قابل ٹیکس آمدنی کے حامل ڈیڑھ کروڑ افراد کا مکمل ڈیٹا حاصل کرلیا ہے، ان افراد کو آرٹی فیشل انٹیلی جنس کے ذریعے جلد ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا۔

ہم نے آئی ایم ایف کی شرائط کے برخلاف اسٹینڈلیا

شوکت ترین نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام میں ان کی شرائط کے خلاف اسٹینڈ لیا ہے کیونکہ آئی ایم ایف نے ٹیکس پاور گیس ٹیرف بڑھانے کا 500 سے 700 ارب روپے کا نسخہ دیا تھا لیکن ہم مزید ٹیکس لگانا نہیں چاہتے۔

بجٹ میں جو ہوچکا اسے واپس نہیں لے سکتا

انہوں نے کہا کہ حکومت اس وقت ایک ایسے دوراہے پر ہے جس میں نہ رائٹ جاسکتے ہیں اور نہ لیفٹ، افغانستان میں تبدیلی کے بعد نہیں معلوم کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، بجٹ میں جو ہوچکا ہے اسے واپس نہیں لے سکتا لیکن جو بہتری ہم کرسکتے وہ کریں گے۔

آئندہ ایف بی آر سمیت کوئی ادارہ تاجروں کو ہراساں نہیں

کرے گا

وزیر خزانہ نے کہا کہ جی ڈی پی میں ٹیکسوں کا تناسب 20 فیصد تک بڑھائے بغیر 6 سے7 فیصد معاشی ترقی حاصل نہیں کرسکتے، زراعت پر توجہ دے رہے ہیں، اشیا کی قیمتیں بڑھنے کی ایک وجہ عالمی مارکیٹ میں اجناس کی بلند قیمتیں ہیں، اب ایف بی آر سمیت کوئی بھی ادارہ تاجروں کو ہراساں نہیں کرے گا۔

بھارت میں ایک لیٹر پیٹرول کتنے کا ہے دیکھ لیں

انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر تیس روپے کا لیوی وزیر اعظم نے ختم کردیا، بھارت میں ایک لیٹر پیٹرول کتنے کا ہے دیکھ سکتے ہیں، پی ڈی ایل کی مد میں 600 ارب روپے رکھے گئے ہیں جس میں ایک روپیہ بھی نہیں آیا، پاکستان فوڈ آئٹمز کا درآمدکنندہ بن گیا ہے کسی حکومت نے زراعت کی شعبے کو فوکس نہیں کیا۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: