حکومت نے ٹیکس چوروں کو پکڑنے کے لیے آرڈیننس جاری کر دیا

حکومت نے ٹیکس چوروں کو پکڑنے کے لیے آرڈیننس جاری کر دیا

حکومت نے ٹیکس چوروں کو پکڑنے کے لیے آرڈیننس جاری کر دیا۔ صدر مملکت نے ٹیکس قوانین تیسرے ترمیمی آرڈیننس دو ہزار اکیس پر دستخط کر دئیے۔

آرڈیننس کے تحت ٹیکس سے متعلق غلط معلومات فراہم کرنے پر کم از کم پانچ لاکھ روپے جرمانہ اور ایک سال سزا ہو سکے گی۔ آرڈیننس کے نفاذ سے نیب اور نادرا کو ٹیکس دہندگان کی تفصیلات تک رسائی مل گئی۔ پارلیمنٹرین اور سرکاری افسران کو ٹیکس کی تفصیلات ظاہر کرنے کا استثنی ختم ہو گیا۔

آرڈیننس میں کہا گیا کہ ایف بی آر نان فائیلر کے ٹیلی فون اور بجلی کے کنکشن منقطع کر سکے گا۔ نان فائیلر بنکنگ کی سہولت سے بھی محروم ہو سکتے ہیں ۔ نیب کو بیس سال سے پرانے بند کئے گئے مقدمات کو دوبارہ کھولنے اور آف شور ٹیکس ڈیٹا تک رسائی کا حق مل گیا ۔

آرڈیننس کے مطابق نان فائیلر پرفیشنلز کے لئے بجلی کے بل کی مختلف سلیب پر پنتیس فی صد تک ٹیکس عائد کیا گیا ۔ پروفیشنلز میں وکلاء، ڈاکٹرز، اکاوٹنٹ، انجنیئر، آئی ٹی ماہرین اور دوسری سروسز فراہم کرنے والے افراد شامل ہیں۔ کمپنیاں اور کارپوریٹ سیکٹر پچیس ہزار روپے تک ڈیجٹیل ترسیلات کر سکتی ہیں۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: