ریکوڈک کیس: برطانوی جج کے فیصلے پر حکومت کا مختلف آپشنز پر غور

ریکوڈک کیس: برطانوی جج کے فیصلے پر حکومت کا مختلف آپشنز پر غور

لندن ہائی کورٹ کی جانب سے بین الاقوامی چیمبرز آف کامرس ٹریبونل کے سامنے حکومت بلوچستان کا دفاع مسترد ہونے کے بعد وفاقی حکومت اس سے متعلق معاملات پر غور کررہی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس پیش رفت سے باخبر ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ اس میں سے ایک آپشن یہ ہے کہ لندن ہائی کورٹ جج کے فیصلے کو برطانیہ میں کورٹ آف اپیل میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔

سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل کے دفتر میں موجود انٹرنیشنل ڈسپیوٹ یونٹ (آئی ڈی یو) عدالتی حکم کا جائزہ لے رہا ہے اور جلد کسی فیصلے پر پہنچ جائے گا تاہم حکم کو چیلنج کرنے کی حتمی منظوری ابھی باقی ہے۔

ذرائع نے انکشاف کیا کہ انگلینڈ کی ہائی کورٹ آف بزنس اور پراپرٹی کورٹ کے علاوہ ویلز کوئنز بینچ ڈویژن کمرشل کورٹ ستمبر میں اس سوال پر غور کرسکتی ہی کہ کیا صوبہ بلوچستان کو کان کانی کے معاہدے میں بدعنوانی اور غلط کاموں کے مزید شواہد پیش کرنے کی اجازت دینی چاہیے۔

آئی سی سی ٹریبونل کے سامنے استدعا کرتے ہوئے حکومت بلوچستان نے سپریم کورٹ کے 7 جنوری 2013 کے فیصلے کا حوالہ دیا تھا جس میں چاغی ہلز ایکسپلوریشن جوائنٹ وینچر ایگریمنٹ (چیجوا) اور متعلقہ معاہدوں کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا تھا۔

تاہم آئی سی سی ٹریبونل نے 21 اکتوبر 2014 کو یہ قرار دیا تھا کہ چیجوا میں ثالثی کے معاہدے کے ساتھ ساتھ چیجوا خود بھی درست ہے اور ٹیتھیان کاپر کمپنی ثالثی کے معاہدے کا مطالبہ کرسکتی ہے اس کے علاوہ آئی سی سی ٹریبونل کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ٹی سی سی کے معاہدہ اور غیر معاہدہ دعووں پر غور کرے۔

ریکوڈک تنازع

خیال رہے کہ آئی سی ایس آئی ڈی ٹریبونل میں پاکستان اور ٹیتھیان کاپر کمپنی کے درمیان یہ تنازع اس وقت زیر بحث آیا جب کمپنی نے 8 ارب 50 کروڑ ڈالر کا دعویٰ کیا جبکہ بلوچستان کی کان کنی اتھارٹی نے صوبے میں 2011 میں کئی ملین ڈالر کی کان کنی کی لیز دینے سے انکار کردیا تھا۔

جولائی 2019 میں آئی سی ایس آئی ڈی ٹریبونل نے آسٹریلین کمپنی کو کان کنی کی لیز دینے سے انکار پر پاکستان کو 5 ارب 97 کروڑ ڈالر ہرجانے کی ادائیگی کا حکم دیا تھا۔

جس کے فوری بعد کمپنی نے اس فیصلے کے نفاذ کے لیے کارروائی شروع کردی تھی، نومبر 2019 میں پاکستان نے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے ہرجانے کی منسوخی کی درخواست کی تھی۔

اس ضمن میں مارچ 2020 میں اٹارنی جنرل کے دفتر نے اعلان کیا تھا کہ پاکستانی حکومت ایسے مواقع تلاش کر رہی ہے جس کے تحت 5 ارب 90 کروڑ ڈالر کے جرمانے پر عملدرآمد پر حکم امتناع حاصل کیا جاسکے اور بتایا تھا کہ 8 نومبر 2019 کو انہوں نے ‘آئی سی ایس آئی ڈی’ کے 12 جولائی 2019 کے فیصلے کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔

اس ہرجانے کی منسوخی کی درخواست کے ساتھ پاکستان نے 18 نومبر 2019 کو ہرجانے کے نفاذ کو عارضی طور پر معطل کرنے کی بھی درخواست دی تھی۔

چنانچہ پاکستان کو منسوخی کی کارروائی شروع ہونے پر عبوری حکم امتناع دے دیا گیا تھا۔

16 ستمبر 2020 کو ٹریبونل نے پاکستان کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے ہرجانے کے نفاذ پر حکم امتناع کی تصدیق کی تھی۔

تاہم 20 نومبر کو کمپنی نے بی وی آئی ہائی کورٹ میں ایوارڈ کے نفاذ کے لیے ایک علیحدہ کیس دائر کیا تھا جس میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے اثاثے منسلک کرنے کی درخواست کی گئی تھی لیکن حتمی فیصلہ پاکستان کے حق میں آیا تھا۔

آئی سی ایس آئی ڈی ٹیتھیان کاپر کمپنی کی ریکوڈک کان کنی کی لیز منسوخ کرنے پر ہرجانے کے خلاف پاکستان کی اپیل پر اب بھی غور کر رہی ہے۔

ریکوڈک معاملہ تھا کیا؟

واضح رہے کہ ریکوڈک، جس کا مطلب بلوچی زبان میں ‘ریت کا ٹیلہ’ ہے، بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ایک چھوٹا گاؤں ہے جو ایران اور افغانستان سرحد کے قریب واقع ہے۔

ریکوڈک دنیا میں سونے اور تانبے کے پانچویں بڑے ذخائر کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔

جولائی 1993میں اُس وقت کے وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ذوالفقار علی مگسی نے ریکوڈک منصوبے کا ٹھیکہ آسٹریلوی کمپنی پی ایچ پی کو دیا تھا

بلوچستان کے 33 لاکھ 47 ہزار ایکڑ پر واقع اس منصوبے کا معاہدہ صرف ڈرلنگ کے لیے ہوا تھا لیکن آسٹریلوی کمپنی نے حکومت بلوچستان کو اعتماد میں لیے بغیر مزید کام کرنے کے لیے اطالوی کمپنی ٹیتھیان سے معاہدہ کرلیا تھا۔

آسٹریلوی کمپنی نے کوشش کی تھی کہ گوادر پورٹ کے ذریعے ریکوڈک کا سونا اور تانبہ کینیڈا، اٹلی اور برازیل کو فروخت کرے جس سے بلوچستان کو مجموعی آمدنی کا صرف 25 فیصد حصہ ملنا تھا۔

تاہم بلوچستان حکومت نے پی ایچ پی کی جانب سے بے قاعدگی کے بعد معاہدہ منسوخ کردیا تھا، بعد ازاں صوبائی حکومت نے 2010 میں یہ بھی فیصلہ کیا تھا کہ صوبائی حکومت اس منصوبے پر خود کام کرے گی۔

علاوہ ازیں جنوری 2013 میں اُس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بلوچستان حکومت اور آسٹریلوی مائننگ کمپنی کے درمیان ریکوڈک معاہدے کو ملکی قوانین کے منافی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا تھا۔

کمپنی کا نقطہ نظر

ٹیتھیان کمپنی کی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق ریکوڈک کان کنی منصوبہ 3 ارب 30 کروڑ ڈالر کی لاگت سے ایک ورلڈ کلاس کاپر، گولڈ اوپن پٹ مائن تعمیر کرنا اور اسے چلانا تھا۔

کمپنی کا کہنا تھا کہ 1998 میں حکومت بلوچستان کے ساتھ ہونے والے سمجھوتے کے تحت اسے کان کنی کی لیز ملنی تھی جس کے لیے حکومت کی معمول کی شرائط تھیں۔

منصوبہ 2011 میں درخواست مسترد ہونے کے بعد رک گیا تھا اور پاکستانی حکام نے کہا تھا کہ کان کنی کی لیز حکومت نے اس لیے ختم کردی کیونکہ اسے غیر شفاف طریقے سے حاصل کیا گیا تھا۔

اس وقت تک کمپنی ریکوڈک میں 22 کروڑ ڈالر کی رقم لگا چکی تھی چنانچہ کمپنی نے عالمی بینک کے ثالثی ٹریبونل سے 2012 میں مدد کی درخواست کی اور ٹریبونل نے 2017 میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف فیصلہ سنایا۔

ٹریبونل نے منسوخ شدہ لیز سے ہونے والے نقصان کا تخمینہ ٹیتھیان کے کان کنی سے 56 سال میں ممکنہ طور پر حاصل ہونے والے منافع کو فرض کر کے لگایا اور لیز منسوخ کرنے پر پاکستان کو 5 ارب 97 کروڑ ڈالر کا ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔

ڈان نیوز

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: