سعودی ولی عہد اور سابق جاسوس کی قانونی جنگ میں امریکہ دخل اندازی پر مجبور

سعودی ولی عہد اور سابق جاسوس کی قانونی جنگ میں امریکہ دخل اندازی پر مجبور

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور انٹیلیجنس کی دنیا کا سورما کہے جانے والے ایک سابق جاسوس کے مابین دشمنی نے امریکہ کو بھی مداخلت پر مجبور کر دیا ہے۔

دراصل سعودی عرب میں کچھ کمپنیوں نے سابق جاسوس سعد الجبری پر بدعنوانی کا الزام عائد کیا ہے اور اس کے متعلق امریکہ اور کینیڈا کی عدالتوں میں دو مقدمات دائر کیے گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کو خدشہ ہے کہ اس کی وجہ سے کہیں اس کے حساس راز افشا نہ ہو جائيں۔ لہذا امریکہ اس کے متعلق قانونی کارروائی میں مداخلت کے امکان پر غور کر رہا ہے۔

سابق جاسوس سعد الجبری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں امریکی عہدیداروں کے ساتھ مل کر کام کیا ہے۔

اس معاملے میں امریکی مداخلت کے امکان نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور سعد الجبری کے مابین دیرینہ تنازعے کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔

الجبری

سعد الجبری کون ہیں؟

برسوں تک سعد الجبری کو سعودی شہزادہ محمد بن نا‏ئف کا دایاں ہاتھ سمجھا جاتا رہا ہے۔ انھیں سنہ 2000 کی دہائی میں ملک میں القاعدہ کی شورش کو شکست دینے کا سرخیل کہا جاتا ہے۔ انھیں امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات میں ایک اہم کڑی سمجھا جاتا رہا ہے۔

ان کے ساتھ کام کرنے والے مغربی انٹیلیجنس کے ایک سابق افسر کا خیال ہے کہ اس اہم کڑی نے سنہ 2010 میں سینکڑوں لوگوں کی جانیں بچائیں۔ یمن میں سرگرم القاعدہ گروپ نے شکاگو جانے والے ایک کارگو طیارے پر ایک طاقتور بم نصب کیا تھا۔ یہ بم پرنٹر کے انک ٹونر میں چھپایا گیا تھا۔ سعودی انٹیلیجنس کا القاعدہ میں ایک مخبر تھا جس نے ایم آئی 6 کو اس کی اطلاع دی۔ اس مخبر نے اس آلہ کا سیریل نمبر بھی بتایا دیا تھا جس میں بم چھپایا گیا تھا۔

برطانیہ میں انسداد دہشت گردی کی پولیس نے بم کا پتہ لگا لیا اور پھر بم کو ایسٹ مڈلینڈز ایئرپورٹ پر طیارے کے اندر ناکارہ بنا دیا گیا۔ سابق انٹیلیجنس آفیسر کے مطابق اگر پہلے سے طے شدہ سازش کے مطابق شکاگو میں کوئی دھماکہ ہوتا تو سینکڑوں افراد کی موت ہو سکتی تھی۔

اس اہلکار نے یہ بھی بتایا کہ ڈاکٹر سعد الجبری نے دہشت گردی کے خلاف سعودی عرب کے اقدامات کی کایا پلٹ دی ہے۔ ان کے بقول سعد الجبری نے پرانے نظام کی بجائے فرانزک اور کمپیوٹر پر مبنی ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے سعودی انٹیلیجنس کو جدید بنایا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سعودی انٹیلیجنس میں ان کے ساتھ کام کرنے والے تمام افسران میں سے ڈاکٹر سعد الجبری سب سے سمارٹ تھے۔ سعد الجبری کم سخن ڈاکٹر تھے۔ انھوں نے ایڈنبرا یونیورسٹی سے مصنوعی ذہانت میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ وہ کابینہ کے وزیر کے عہدے پر فائز تھے اور انھوں نے داخلی سکیورٹی کی وزارت میں میجر جنرل کے عہدے پر بھی خدمات انجام دیں۔

لیکن سنہ 2015 کے آتے آتے سب کچھ بدل گیا۔ شاہ عبد اللہ کی موت ہوگئی اور ان کے سوتیلے بھائی شاہ سلمان اقتدار میں آگئے۔ انھوں نے محمد بن سلمان کو وزیر دفاع بنا دیا۔ محمد بن سلمان نے اپنے ملک کی فوج کو یمن کی خانہ جنگی میں مداخلت کا حکم دیا۔ لیکن ڈاکٹر سعد الجبری نے ان اقدام کی مخالفت کی۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ سعودی عرب کے پاس خارجی حکمت عملی نہیں ہے۔ سنہ 2017 میں محمد بن سلمان نے اپنے والد کی رضامندی سے بغاوت کی۔ اگرچہ اس میں کوئی خونریزی نہیں ہوئی لیکن وہ شہزادہ محمد بن نائف کی جگہ ولی عہد بن گئے۔

الجبری کے سرپرست شہزادہ محمد بن نائف سعودی حکومت کی حراست میں ہیں، ان کے اثاثے ضبط کر لیےگئے ہیں اور ان کے ساتھ کام کرنے والوں کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اس کے بعد ڈاکٹر سعد کینیڈا فرار ہو گئے۔

امریکی صدر جو بائيڈن

امریکی خدشات

کینیڈا اور امریکہ کی عدالت میں دائر یہ مقدمہ سعودی عرب کے شاہی گھرانے کی باہمی عداوت اور اندرونی رسہ کشی پر بہت حد تک روشنی ڈالتا ہے۔ امریکہ کو خدشہ ہے کہ کمرہ عدالت کی اس لڑائی سے اس کی خفیہ کارروائیوں سے متعلق حساس معلومات خطرے میں نہ پڑ جائيں۔

‘امریکی حکومت اس بات پر غور کر رہی ہے کہ اس مقدمے میں وہ کس طرح شریک ہو۔ اگر ضرورت ہوئی تو حکومت اپنے خصوصی حقوق کا استعمال کرے گی۔’

بہرحال عدالت میں دائر کی جانے والی درخواستوں کے بارے امریکہ نے زیادہ کچھ نہیں کہا ہے۔

لیکن ایک مہینے کے بعد مئی میں عدالت میں ایک اور درخواست دائر کی گئی جس میں محکمہ انصاف نے عدالت سے معاملے میں مزید وقت طلب کیا کیونکہ ‘قومی سلامتی کے معاملات میں سینیئر عہدیداروں کو پیچیدہ فیصلے کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔’

محکمہ انصاف نے اس درخواست میں میساچوسیٹس عدالت کو بتایا ہے کہ حکومت صرف مہربند انداز میں عدالت کو دوسری معلومات فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت اپنے مخصوص اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے عدالت سے یہ حکم حاصل کر سکتی ہے کہ اس کیس سے متعلق معلومات کو عوامی سطح پر قائم کرنا قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے اور امریکی محکمہ انصاف نے سوالات کے جواب نہیں دیے۔

الجبری
،تصویر کا کیپشنپیلے دائرے میں الجبری۔ یہ تصویر سنہ 2015 کی ہے جب ٹریزا مے برطانیہ کی وزیر داخلہ تھیں

یہ مقدمہ اتنا اہم کیوں ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ عام طور پر امریکی محکمہ انصاف سول مقدمات میں شاذ و نادر ہی مداخلت کرتا ہے۔

پچھلے سال سعد الجبری نے ایک اور مقدمے میں یہ الزام لگایا تھا کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ان کے قتل کے لیے ایک ‘ٹائیگر سکواڈ’ کینیڈا بھیجا تھا۔ ان کے دو بچوں کو تحویل میں لیا گیا تاکہ انھیں گھر واپس جانے پر مجبور کیا جا سکے۔

شہزادہ ولی عہد اور سعد الجبری کے مابین جاری تنازعے نے اس وقت نیا رخ اختیار کر لیا جب سعودی حکومت کی کمپنی سکاب سعودی ہولڈنگ نے ان پر 3.47 ارب ڈالر کے غبن کا الزام عائد کیا تھا۔

سکاب سعودی ہولڈنگ کا کہنا تھا کہ سعد الجبری نے مبینہ طور پر اس وقت یہ دھوکہ دیا جب وہ شہزادہ محمد بن نائف کی سربراہی میں وزارت داخلہ میں کام کر رہے تھے۔

کمپنی نے میساچوسیٹس عدالت میں دائر اپنی درخواست میں عدالت سے سعد الجبری کی 29 لاکھ ڈالر کی بوسٹن کی جائیداد ضبط کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

شاہ سلمان نے بھتیجے کو ولی عہد کے منصب سے ہٹا کر اپنے بیٹے کو ولی عہد بنا دیا ہے

اس واقعے سے چند ہفتے قبل دیگر سعودی کمپنیوں نے ٹورنٹو کی ایک عدالت میں الجبری کے خلاف اسی طرح کے الزامات عائد کیے۔ اس کے بعد ٹورنٹو کی ایک عدالت نے سعد الجبری کی دنیا بھر میں پھیلی ہوئی جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم دے دیا۔

سعد الجبری کی قانونی ٹیم کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل نے کوئی مالی کرپشن نہیں کی اور انھیں محمد بن سلمان اور محمد بن نائف کی دشمنی میں پھنسایا جا رہا ہے۔

عدالت میں دائر دستاویزات کے مطابق سکاب سعودی ہولڈنگ کا قیام محمد بن نائف کے دور میں سنہ 2008 میں ہوا تھا۔

یہ کمپنی ان کمپنیوں کے نیٹ ورک کا حصہ تھی جو امریکہ کے ساتھ انٹیلیجنس سکیورٹی آپریشن انجام دینے کے محاذ کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ سعد الجبری کے وکلاء کا کہنا ہے کہ اگر عدالت سکاب سعودی ہولڈنگ کے مالی لین دین کی تحقیقات کرتی ہے تو اس سے ان کے مؤکل کی بے گناہی ثابت ہو گی۔

تاہم سعد الجبری کی قانونی ٹیم کے ایک رکن نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ’سعد الجبری کبھی بھی خفیہ انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے بارے میں کوئی معلومات عام نہیں کرتے۔ ان کارروائیوں میں ہزاروں جانیں بچائی گئیں ہیں جن میں امریکی عوام بھی شامل ہیں۔

’لیکن بدقسمتی سے محمد بن سلمان کی دشمنی ڈاکٹر سعد الجبری کو اس مقام پر لے آئی ہے جہاں وہ عدالت میں اپنا دفاع کرنے کے لیے ایسا کرنے پر مجبور ہیں۔‘

بی بی سی اردو

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: