شوکت ترین کی مہارت اور بجٹ

شوکت ترین کی مہارت اور بجٹ

جب ان سے پوچھا گیا کہ سلک بینک تو آپ چلا نہیں سکے اب قومی معیشت کیسے چلائیں گے؟ تو ان کا جواب دو ٹوک تھا کہ سٹی بینک تو چلا، حبیب بینک کو ٹرن اراؤنڈ کیا، یونین بینک نے چھ سالوں میں 1800 فیصد ریٹرن دیا صرف اگر سلک بینک نہیں چلا تو اس میں کوئی مسئلہ ہوگا۔

بس اسی طرح کے شوکت ترین وزیر خزانہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسی رویے کے ساتھ جو مسائل ہیں ان کو حل کریں گے اور کبھی کچھ بہت ہی پیچیدہ نظر آئے گا تو شاید نہ ہو پائے۔

یہ کہا تو نہیں انہوں نے لیکن بہرحال جب ان سے یہ سوال پوچھا گیا ہمارے ٹی وی پروگرام میں تو انہوں نے اس کا جواب یہ دیا۔ ان کا بےدھڑک ایک الجھے ہوئے مسئلے کو سلجھانے کے لیے کود پڑنا کچھ یہی صورت حال اب ہے۔

نئے وزیر خزانہ نے بظاہر وزیر اعظم عمران خان کے کہنے پر اس معاملے کو اب سنبھال لیا ہے۔ یہ کچھ شوکت ترین کی شخصیت کی عکاسی کرتا ہے۔

شوکت ترین کو وزیر اعظم نے وزارت سنبھالنے سے قبل بھی اپنی ایک رسمی یا غیر رسمی مشاورت کا حصہ بنایا ہوا تھا۔ وہ آتے جاتے رہتے تھے۔

ان کے کچھ نیب کیسز تھے اور ان کا خیال یہ تھا جب یہ مسئلے حل ہوں گے تو وہ معیشت کو سنبھال لیں گے۔ یہ مسئلے بھی حل ہوگئے۔ دوسری جانب مشیر خزانہ حفیظ شیخ سینیٹ کی نشست جیت نہیں پائے تو شوکت ترین کا وزیر خزانہ بننے کا موقع بڑا واضح ہوگیا۔

وزیر اعظم کے لیے اقتصادی حالات کی پیچیدگیاں سلجھ نہیں رہی تھیں۔ ایک طرف کمر توڑ مہنگائی تو دوسری طرف شکایات کے انبار۔ چاہے سرکاری ملازمین ہیں، چاہے چھوٹے کاروباری لوگ یا بڑی بزنس کمیونٹی سب شکایت کر رہے تھے۔

000_Del242837.jpg

سب نظریں شوکت ترین کے 11 جون کے بجٹ پر ہیں

(اے ایف پی)

سٹیٹ بینک کی خودمختاری اور آئی ایم ایف سے ہداہات لینا بھی چل رہا تھا۔ آئی ایم ایف اس ملک کی مسائل میں گھری ہوئی معیشت کو چلارہی ہے۔

عمران خان اور ملک چلانے والوں نے یہی سوچا کہ شوکت ترین کو لایا جائے۔ مقتدر حلقے یعنی اسٹیبلشمنٹ بھی شوکت ترین کو پہلے سے جانتی تھی اس لیے انہوں نے بھی ان کے آنے کی حمایت کی۔

شوکت ترین خود بھی کاقی عرصے سے تمام سیاسی جماعتوں کو بہت قریب سے جانتے ہیں۔ وہ پیپلز پارٹی کی زرداری حکومت کے وزیر خزانہ رہے، اس کے بعد جب ان کا سلک بینک مشکل میں پھنسا تو انہوں نے کہا کہ انہیں اپنے بینک کو ٹھیک کرنا ہے لہذا وہ استعفیٰ دے کر چلے گئے۔

تاہم جب وہ پیپلز پارٹی کی حکومت میں تھے اس وقت انہوں نے آئی پی پیز کا ایشین ڈیویلپمنٹ بینک سے آڈٹ کروایا۔ اس وقت اسٹیبلشمنٹ بھی اس کے حق میں تھی۔

اس کے بعد اپنے ہی دود میں شوکت ترین نے یہ کہنا شروع کیا کہ ایک میثاق معیشت ہونا چاہیے جس پر سب کو متفق ہونا چاہیے۔ اس وقت اپوزیشن کے حوالے سے انہوں نے یہ بات کی کہ اپوزیشن کو معیشت کے معاملے پر آن بورڈ لینا چاہیے۔

پیپلزپارٹی کے بعد جب مسلم لیگ ن کی حکومت آئی تو این ایف سی ایوارڈ کے لیے انہوں نے باقاعدگی سے اس وقت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے ساتھ تعاون کیا۔ جب این ایف سی ایوارڈ منظور کر لیا گیا تو اسحاق ڈار نے ذاتی طور پر ان کا ذکر کیا اور مدد کا اعتراف اور ان کا شکریہ ادا کیا۔

یہ سب باتیں اپنی جگہ لیکن تحریک انصاف حکومت کا اصل امتحان 11 جون کو ہے جب یہ بجٹ پیش کرے گی۔ ایک طرف اسے مہنگائی کو کنٹرول کرنا ہے تو دوسری طرف ٹیکس بھی نہیں لگانے، ریونیو بھی بڑھانا ہے اور وعدہ بھی کر چکی کہ ترقیاتی بجٹ بڑھائیں گی۔

وہ یہ بھی کہہ چکی ہے کہ احساس پروگرام یا کامیاب نوجوان پروگرام ان کے لیے مزید پیسے رکھیں گے۔ ساتھ یہ بھی کہہ چکی ہے کہ وہ جو پہلے سے ٹیکس دے رہے ہیں ان پر مزید ٹیکس نہیں لگائے گی، سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بھی بڑھائے گی، کسانوں کو بھی سہولیات فراہم کرے گی اور ان کے لیے بھی اقتصادی طور پر حالات کو بہتر کرے گی۔

اخراجات کی ایک لمبی فہرست انہوں نے خود دی ہے۔ ان میں سی پیک کے منصوبے ہیں، پھر سٹریٹیجک ریزرو کی بھی بات کی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ کپاس، گندم، چاول، چینی کی کمی کو ختم کریں گے اور اپنا سٹریٹیجک ریزرو بنائیں گے تاکہ جب کوئی مارکیٹ میں مصنوعی طور پر ان چیزوں کا بحران پیدا کرتا ہے تو حکومت اپنے سٹریٹیجک ذخائر سے مارکیٹ میں یہ اشیا لے آئے گی۔ تو ایسے بہت سے وعدے کیے گئے ہیں۔

دوسری طرف جو اپوزیشن ہے اس نے تو یہ بھی کہہ دیا کہ 3.9 کی شرح نمو بھی درست نہیں ہے۔ کچھ ایسا لگتا ہے کہ شوکت ترین نے جھگڑا بھی مول لے لیا ہے۔

جب اپوزیشن نے کہا کہ یہ اعدادوشمار ٹھیک نہیں تو انہوں نے حزب اختلاف پر الزام عائد کیا کہ ان کی معلومات غلط ہیں۔ اس سے ان کی اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ اب تمام نظریں نئے بجٹ اور اس میں شوکت ترین کی مہارت پر ہیں۔

تحریر نسیم زہرہ

دی انڈی پینڈنٹ

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: