طالبان کا مزار شریف پر بھی قبضہ، افغان فوج کا مارشل رشید دوستم فرار

طالبان کا مزار شریف پر بھی قبضہ، افغان فوج کا مارشل رشید دوستم فرار

طالبان نے شمالی افغانستان کے اہم صوبے بلخ کے دارالحکومت مزار شریف پر بھی قبضہ کرلیا جس کے بعد ایک ہی روز میں مزید 3 صوبائی دارالحکومتوں پر کنٹرول حاصل کرلیا۔

مزار شریف افغانستان کا چوتھا بڑا شہر ہے جس کے دفاع کا عزم افغان فورسز اور دو سابق جنگجوؤں نے کر رکھا تھا تاہم اب پہلی مرتبہ طالبان اس شہر پر بھی کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

مزار شریف پر قبضے کے بعد طالبان تقریباً پورے شمالی افغانستان پر قابض ہو چکے ہیں۔

‎صوبہ بلخ سے تعلق رکھنے والے قانون دان عباس ابراہیم زادہ نے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کو بتایا ہے کہ فوج نے پہلے ہتھیار ڈالے جس سے حکومت کے حامی ملیشیا اور دیگر قوتوں کا حوصلہ پست ہوگیااور پھر انہوں نے بھی طالبان کے سامنے ہار مان لی۔

‎ابراہیم زادہ نے کہا کہ ہزاروں جنگجوؤں کی کمان کرنے والے دو سابق جنگجو کمانڈر عبدالرشید دوستم اور عطا محمد نور صوبے سے فرار ہو گئے ہیں اور ان کا ٹھکانہ نامعلوم ہے۔

اس سے قبل طالبان نے آج مزید دو صوبائی دارالحکومتوں پر بھی قبضہ کیا۔

رپورٹس کے مطابق طالبان نے پاکستان کی سرحد سے ملحقہ پکتیکا کے دارالحکومت پر بھی قبضہ کر لیا۔

‎انہوں نے کہا کہ ہفتے کی صبح سویرےشرنہ میں لڑائی شروع ہوئی لیکن مقامی عمائدین نے مداخلت کرکے وہاں سے انخلاء پر بات چیت کی جس کے بعد گورنر اور دیگر حکام نے ہتھیار ڈال دیئے اور کابل روانہ ہو گئے۔

پڑوسی صوبے پکتیا سے تعلق رکھنے والے قانون دان سید حسین گردیزی نے اے پی کو بتایا کہ طالبان نے صوبائی دارالحکومت گردیز پر قبضہ کر لیا ہے لیکن حکومتی فورسز کے ساتھ لڑائی ابھی جاری ہے۔

دوسری جانب طالبان نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے گردیز شہر کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: