طالبان کا کئی اضلاع پر ’قبضے‘ کا دعویٰ مگر کابل کا ’زوال‘ ضروری نہیں

طالبان کا کئی اضلاع پر ’قبضے‘ کا دعویٰ مگر کابل کا ’زوال‘ ضروری نہیں

امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان انخلا کے ایک سال کے اندر کابل پر قبصہ کر سکتے ہیں، لیکن اس کا زوال اٹل نہیں اور اس کا انحصار ایک بہتر افغان دفاعی فورس پر ہوگا۔

چونکہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ جنگ زدہ ملک میں ’باغی‘ دوبارہ اقتدار حاصل کرسکتے ہیں اس لیے افغان امور پر برسوں کا تجربہ رکھنے والے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ افغان سکیورٹی فورسز میں ناقص قیادت، بدعنوانی اور نسلی تقسیم نے طالبان کو فائدہ پہنچایا ہے۔

اس کے علاوہ اس سب کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ صدر اشرف غنی کی ’پریشان حال‘ حکومت کتنی دیر قائم رہ سکتی ہے۔

واشنگٹن کے ذریعے ستمبر کو انخلا کی آخری تاریخ طے کرنے کے بعد سے طالبان نے افغانستان کے 400 اضلاع کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ دوسری جانب جمعے کو اشرف غنی وہائٹ ​​ہاؤس میں امریکی ہم منصب جو بائیڈن سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

بدھ کو وال سٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا کہ امریکی انٹلیجنس کی ایک نئی رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ طالبان امریکی انخلا کے چھ سے 12 ماہ کے اندر اندر ملک کے دارالحکومت کا کنٹرول حاصل کرسکتے ہیں۔

’ایسا نہیں ہے کہ طالبان کو روکا نہیں جا سکتا‘

بین الاقوامی کرائسس گروپ کے اینڈریو واٹکنز نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ’واقعی حکومت کو جس طرح علاقائی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے اس کی شدت اور رفتار سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ عسکریت پسندوں نے جن اضلاع پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے وہ ’زیادہ تر ملک کے مضافات میں واقع ہیں جن کی فوجی اور تزویراتی اہمیت کم ہے۔ وہاں ان علاقوں میں فوری طور پر کوئی کارروائی کرنے یا پھر فوج بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے۔ چند علاقے ٹرانسپورٹ کے راستوں پر ہیں اور صوبائی دارالحکومتوں کے اطراف ہیں۔‘

اینڈریو واٹکنز نے بتایا ہے کہ ’طالبان ملک کے بڑے شہروں کے اطراف میں اپنے ٹھکانوں کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ ضروری نہیں ہے کہ وہ ماضی قریب میں ان شہروں پر قبضہ کرنے کی کوشش کریں۔‘

ان کے مطابق افغان سکیورٹی فورسز کی گذشتہ ایک سال کے دوران طالبان پر امریکی فضائی حملے کرنے والی مدد ختم ہو گئی ہے  اور ان کی اپنی فضائیہ کو کمزور کیا جاسکتا ہے اگر ہزاروں امریکی ٹھیکیدار جو افغان طیاروں کو اڑا رہے ہیں ستمبر میں امریکہ روانہ ہوجائیں۔

پینٹاگون کے سابق اہلکار اور سی این اے کنسلٹینسی میں افغان سکیورٹی امور کے ماہر کارٹر ملکاسیان نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ ’فوری طور پر ممکن نہیں ہے کہ طالبان کابل میں داخل ہوجائیں۔‘

Afghan Security forces.jpg

افغان سکیورٹی فورسز ایک کارروائی کے دوران گرفتار کیے جانے والے طالبان جنگجوؤں کو ذرائع ابلاغ کے سامنے پیش کر رہے ہیں (اے ایف پی)

البتہ ان کا کہنا ہے کہ ایسا ایک سال کے دوران آسانی سے سوچا جا سکتا ہے کیونکہ خطے کے دارالحکومتوں کو فی الحال کوئی خطرہ نہیں ہے۔

ملکاسیان کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ قندہار یا مزار شریف جیسے بڑے شہروں کے نقصانات کا جائزہ لیں تو میں کابل پر قبضے کے لیے فکر مند ہونا شروع ہوں گا۔‘

’ہدف حوصلے پست کرنا ہے‘

جیمس ڈوبنز افغانستان کے لئے امریکہ کے سابق نمائندے اور اب رینڈ کارپوریشن کے ماہر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ توقع کررہے ہیں کہ لڑائی بڑھتی جائے گی۔

انہوں نے کہا فی الحال ’طالبان کو کچھ برتری حاصل ہے لیکن اس کا فائدہ ان کو صرف ان دیہی علاقوں میں ہوگا جہاں ان کے حامی موجود ہیں۔‘

شہروں میں ان کو 1996 میں قبضہ کرنے کے مقابلے میں زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اب ملک میں زیادہ آبادی ہے، زیادہ جدت آگئی ہے، روابط زیادہ ہیں اور سب کو اپنے طریقے پر چلانا مشکل ہے۔

ان کے مطابق ’ان علاقوں میں طالبان کے زیادہ حمایتی نہیں ہیں جہاں انتظامی ڈھانچہ مضبوط ہے۔

’کابل اب 50 لاکھ افراد کا شہر ہے۔ یہ وہ شہر نہیں ہے جس پر طالبان نے احری بار قبضہ کیا تھا۔ اور میرے خیال میں اس کو قابو میں کرنے میں انہیں مشکل وقت سے گزرنا پڑے گا۔‘

بین الاقوامی کرائسس گروپ کے اینڈریو واٹکنز کا کہنا ہے کہ افغان فوج وہ کر رہی ہے جو اسے کرنا چاہیے۔ وہ اپنا کام سمیٹ کر زیادہ آبادی والے علاقوں کا دفاع کرنے پر توجہ دے رہی ہے اور اعلی عہدیداروں کی تبدیلی سے اس کی کارکردگی پر مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔

اپنا ہاتھ اوپر رکھنا

افغان سکیورٹی امور کے ماہر کارٹر ملکاسیان کا کہنا ہے کہ طالبان کی ساری توجہ عوام کا حکومت پر سے اعتبار ختم کرنے اور مورال گرانے پر مرکوز ہے۔ اس طرح وہ آئندہ حکومت سازی کے بارے میں مذاکرات میں اپنا ہاتھ اوپر رکھ رہے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ امن مذاکرات عسکریت پسندوں کے لیے کافی اہم ہیں تاکہ وہ اس کے ذریعے ساکھ بنا سکیں اور آخر کار حکومت میں آسکیں۔

’آپ سب کو مبارک ہو‘

افغان طالبان نے حالیہ چند واقعات کے بعد ایک بیان جاری کیا ہے جس میں ان کی جانب سے عام عوام سمیت افغان فوجیوں، پولیس اہلکاروں اور دیگر شہریوں کو مخاطب کیا گیا ہے۔

طالبان کی جانب سے جاری کیے گئے اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہمارے ملک کے لوگ جانتے ہیں کہ اسلامی امارات کے مجاہدین نے اللہ کی مدد اور لوگوں کی حمایت سے پڑا علاقہ، کئی اضلاع، اڈے، چیک پوسٹ اور سیگر مراکز دشمن سے خالی کرا لیے ہیں۔‘

000_9A94ZW.jpg

افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے سلسلے میں جرمنی کی مسلح افواج کا ہیلی کاپٹر افغانستان سے واپس لائے جانے کے بعد مشرقی جرمنی کے ہوائی اڈے پر کارگو پلین سے اتارا جا رہا ہے (اے ایف پی فائل)

’اس صورتحال میں جبکہ ابھی مزید کام ہو رہا ہے ہم اپنے مجاہدین اور عام عوام پر کچھ چیزیں واضح کرنا چاہتے ہیں۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ  واضح فتح تمام مسلمانوں اور مجاہد افغان قوم کی فتح ہے۔ ہم سب کو اس موقع پر مبارک باد دیتے ہیں اور مقدس جہاد کے مقاصد کو حاصل کرنے کی امید دلاتے ہیں۔‘

’چونکہ اسلام امارات مختلف قبلیوں، علاقوں اور گروہوں پر مشتمل ہے اور تمام عوام کی نمائندہ قوت ہے اس لیے ہم تمام شہریوں کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ کسی کے ساتھ بھی جارحانہ اور امتیازی رویہ نہیں اپنایا جائے گا۔‘

بین میں شہریوں، فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو مخطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’ہم پھر سے فوجیوں، پولیس اہلکاروں، ملیشیا اور دشمن کی صفوں میں موجود ارکان کو دعوت دیتے ہیں کہ اسلام امارات کی جانب آجائیں۔ ہم ان کا خیرمقدم کریں گے اور انہیں ان کے خاندان والوں کے پاس بھیجنے کی مکمل یقین دہانی کراتے ہیں۔‘

’وہ تمام سابق حکام اور سپاہی جو مخالفت چھوڑ کر مجاہدین کی پناہ میں ہیں، اعتماد کے ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں

انڈیپینڈنٹ اردو

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: