طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ کہاں ہیں؟

طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ کہاں ہیں؟

افغان دارالحکومت کابل پر قبضے کے بعد ایک سوال جو سب کے ذہنوں میں ہے وہ یہ ہے کہ طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ اخوندزادہ کہاں ہیں؟

ٹوئٹر پر ایک ہیش ٹیگ #WhereIsHaibatullah? کے تحت لوگ یہی سوال پوچھ رہے ہیں اور اس پر بحث کا سلسلہ جاری ہے۔ 

 قطر سے ملا عبد الغنی برادر کی جانب سے طالبان کی فتح کا تہنیتی ویڈیو پیغام سامنے آگیا ہے، جس میں انہوں نے اس جیت پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’طالبان کو توقع سے بڑھ کر کامیابی ملی ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ان کی اصل آزمائش اب شروع ہوئی ہے۔‘

ملا برادر طالبان کے سینیئر رہنما اور ان کے مرکزی مذاکرات کار بھی ہیں، لیکن بہرحال وہ ملا ہبت اللہ کے ہوتے ہوئے نمبر ٹو ہیں اور اصولاً ملا ہبت اللہ کی جانب سے مبارک باد کا بیان آنا چاہیے تھا کیوں کہ وہی طالبان کے مذہبی، سیاسی اور فوجی سربراہ ہیں۔

ملا ہبت اللہ کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں۔ ان کا تعلق قندھار سے ہے اور وہ ملا عمر کے قریب رہے ہیں۔ بعض اخباری اداروں کی جانب سے ان کا نام ’ہیبت اللہ‘ بتایا جا رہا ہے، لیکن یہ غلط ہے۔ ان کا اصل ’ہبت اللہ‘ ہی ہے۔ ہبت عربی زبان کا لفظ ہے، جس کا مطلب ’تحفہ‘ ہے۔

ملا ہبت اللہ کا بطور جنگجو تجربہ کم ہے اور وہ کمانڈر سے زیادہ مذہبی رہنما کے طور پر زیادہ شہرت رکھتے ہیں، جن کی وجۂ شہرت یہی تھی ہے کہ وہ فتوے جاری کرکے طالبان کی کارروائیوں کا جواز فراہم کیا کرتے تھے۔ ان کی عمر کے بارے میں بھی صحیح معلومات نہیں ہیں اور ان کی عمر اندازاً 60 سال کے قریب بتائی جاتی ہے۔

ملا ہبت اللہ 2016 میں ملا منصور کے ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے کے بعد طالبان کے امیر مقرر ہوئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق ملا منصور نے انہیں اپنی وصیت میں اپنے بعد طالبان کا امیر مقرر کیا تھا۔

چونکہ طالبان کے رہنما ہمیشہ امریکی نشانے پر ہوتے ہیں اس لیے ملا ہبت اللہ نے اپنے آپ کو پسِ پردہ رکھا ہوا ہے اور غالباً اسی خدشے کے پیشِ نظر وہ ابھی تک منظرِعام پر نہیں آئے۔

موت کی اطلاعات

لیکن دوسری طرف ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ ملا ہبت اللہ زندہ ہی نہیں ہیں۔ ٹوئٹر پر گذشتہ روز پوہہ کے ہینڈل سے ایک ٹویٹ میں کہا گیا کہ ’میں شرط لگاتا/لگاتی ہوں کہ طالبان کے سربراہ زندہ نہیں ہیں، ورنہ طالبان ان کو اقتدار میں لے آتے۔‘

اس سال فروری میں افغان میڈیا میں خبر آئی تھی کہ ملا ہبت اللہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ایک بم دھماکے میں مارے گئے ہیں۔

’ہشت صبح‘ اخبار نے کہا تھا کہ ملا ہبت اللہ اپریل 2020 کو کوئٹہ میں اپنے دو سینیئر ساتھیوں سمیت مارے گئے ہیں، تاہم طالبان نے اس خبر کو بےبنیاد قرار دے کر اس کی تردید کر دی تھی۔

اخبار نے دعویٰ کیا تھا کہ چند ماہ قبل کوئٹہ شہر کے مضافات میں افغان طالبان کے ایک رہنما حافظ عبدالمجید کے گھر پر ہونے والے ایک مبینہ دھماکے میں ملا ہبت اللہ اخونزادہ اپنے دو ساتھیوں حافظ عبدالمجید اور ملا مطیع اللہ سمیت ہلاک ہوگئے ہیں جب کہ ان کے ایک اور ساتھی حافظ عبدالمجید نے دو تین دن بعد دم توڑا۔

اس کے بعد جون 2020 میں یہ خبریں بھی چلی تھیں کہ ملا ہبت اللہ کرونا وائرس کے باعث ہلاک ہوگئے ہیں۔ ’فارن پالیسی میگزین‘ نے طالبان ذرائع کے حوالے سے خبر دی تھی کہ ملا ہبت اللہ ملک سے باہر کرونا میں مبتلا ہو کر چل بسے ہیں۔

البتہ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دو جون کو اس خبر کی تردید کر دی تھی۔ انہوں نے ایک ٹویٹ میں فارن پالیسی میگزین پر الزام لگایا تھا کہ وہ بےبنیاد افواہیں پھیلا رہا ہے۔

تاہم معروف صحافی اور افغان امور کے ماہر طاہر خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کی بعض طالبان رہنماؤں سے بات ہوئی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ملا ہبت اللہ زندہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے طالبان کے کسی فرد سے یہ نہیں سنا کہ ملا ہبت اللہ چل بسے ہیں۔

البتہ طاہر خان نے مزید کہا کہ ملا ہبت اللہ کا خاصے عرصے سے کوئی آڈیو پیغام خود ان کی آواز میں نہیں آیا، بلکہ امریکی فوج کے انخلا کے بعد ان کا جو بیان آیا تھا جو بھی پڑھ کر سنایا گیا تھا۔

قندھار سے حکومت

000_9FC2UN.jpg

طالبان کی کامیابی کا پیغام ملا برادر نے قطر سے دیا (اے ایف پی)

اگر ملا ہبت اللہ زندہ ہیں تو زیادہ امکان ہے کہ وہ افغانستان کے دارالحکومت کابل کی بجائے قندھار سے حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے کو ترجیح دیں۔ ان کے پیش رو ملا عمر بھی قندھار ہی سے کاروبارِ حکومت چلاتے رہے ہیں، بلکہ ملا عمر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے دورِ اقتدار میں صرف دو بار کابل گئے تھے، ایک بار 1996 میں اور دوسری بار اپنی حکومت گرنے سے کچھ ہی عرصے قبل 2001 میں۔

’اقتدار پر مکمل قبضہ نہیں چاہتے‘

ملا ہبت اللہ نے پچھلے برس عید الاضحیٰ کے موقعے پر اپنے ایک پیغام میں کہا تھا کہ ان کی تحریک ’اسلامی نظام حکمرانی‘ کی راہ پر گامزن ہے اور وہ اقتدار پر مکمل قبضہ نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا، ’ہمارا جہاد قبضے کو ختم کرنے اور ایک خالص اسلامی نظام کے قیام کے لیے رہا ہے اور ہم اپنی مجاہد اور ناراض قوم کو یقین دلاتے ہیں کہ ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘

’ہمارا واضح پیغام یہ ہے کہ ہم اقتدار کی اجارہ داری نہیں چاہتے۔ افغانستان میں تمام نسلی گروہوں کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔ اسلامی نظام کا فروغ، آزادی اور طاقت کا انحصار افغان اتحاد پر ہے۔‘

انڈیپینڈینٹ اردو

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: