طالبان گھر گھر جا کر مخالفین کو تلاش کر رہے ہیں: اقوام متحدہ

طالبان گھر گھر جا کر مخالفین کو تلاش کر رہے ہیں: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کی ایک انٹیلی جنس دستاویز کے مطابق افغانستان میں طالبان گھر گھر جا کر مخالفین اور ان کے اہل خانہ کی تلاش کر رہے ہیں۔

اس دستاویز کے سامنے آنے کے بعد ان خدشات کو مزید تقویت ملتی ہے کہ ملک کے نئے حکمران رواداری کے وعدوں سے انحراف کر رہے ہیں۔

اے ایف پی نے اقوام متحدہ کے سکیورٹی مشیروں کی یہ خفیہ دستاویز دیکھی ہے جس کے مطابق طالبان امریکی اور نیٹو افواج کے ساتھ کام کرنے والے لوگوں کے ’گھر گھر ٹارگٹڈ دورے‘ کر رہے ہیں

نارویجن سینٹر فار گلوبل اینالیسز کی لکھی گئی رپورٹ میں کہا گیا کہ عسکریت پسند کابل ہوائی اڈے کے راستے میں لوگوں کی سکریننگ بھی کر رہے ہیں۔ 

گروپ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کرسچن نیلیمین نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ ان لوگوں کے اہل خانہ کو نشانہ بنا رہے ہیں جو خود کو حوالے کرنے سے انکار کرتے ہیں اور انہیں ‘شرعی قانون کے مطابق’ سزا دے رہے ہیں۔

’ہمیں خدشہ ہے کہ اس سے قبل نیٹو/امریکی افواج اور ان کے اتحادیوں کے ساتھ کام کرنے والے افراد اور ان کے اہل خانہ کو تشدد اور پھانسی کا نشانہ بنایا جائے گا۔

طالبان ماضی میں اس طرح کے الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں اور کئی بار بیانات جاری کر چکے ہیں کہ جنگجوؤں کو نجی املاک میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔

طالبان نے کابل کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد عام معافی کا بھی اعلان کیا تھا۔

دستاویز میں مزید کہا گیا کہ طالبان نے تمام بڑے شہروں پر قبضہ کرنے سے پہلے کچھ لوگوں کو تلاش کرنے کا کام کیا اور یہ کہ وہ کچھ لوگوں کی روانگی پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں اور وہاں کی صورتحال نازک ہے۔

ادھر اقوام متحدہ کی مختلف تنظیموں کے سربراہوں نے جمعرات کو طالبان سے افغان شہریوں تک امدادی کارکنوں کی فوری اور محفوظ رسائی کو آسان بنانے کی اپیل کی ہے۔

اقوام متحدہ کے اہم امدادی اداروں کے سربراہوں نے طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان کے عوام کی مدد اور تحفظ جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔

انہوں نے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی انسانی امدادی تنظیموں کو اکٹھا کرنے والی بین الایجنسی قائمہ کمیٹی کے جاری کردہ بیان میں کہا کہ افغانستان کے عوام کو اب پہلے سے کہیں زیادہ امداد کی ضرورت ہے۔ 

اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے سربراہ مارٹن گریفتھس، حقوق کے سربراہ مشیل باشلے، پناہ گزین سربراہ فلپپو گرینڈی اور عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم گھبریسس سمیت دیگر نے اس بیان پر دستخط کیے ہیں۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: