عراق میں ایران نواز ملیشیاؤں کو نشانہ بنانے کے لیے امریکی صدر پر دباؤ

عراق میں ایران نواز ملیشیاؤں کو نشانہ بنانے کے لیے امریکی صدر پر دباؤ

عراق اور شام میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کی جانب سے امریکیوں کے خلاف سلسلہ وار حملوں نے امریکی صدر جو بائیڈن پر دباؤ بڑھا دیا ہے کہ وہ ایران کی آلہ کار ملیشیاؤں کو منہ توڑ جواب دیں۔ بعض ریپبلکنز اور فوجی ماہرین نے ایران کے ساتھ نمٹنے کے طریقہ کار کو نا کافی اور غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے بائیڈن پر تنقید کی ہے۔

صرف حالیہ ایک ہفتے میں عراق اور شام میں امریکی فوج اور سفارت کاروں کو راکٹوں اور ڈرون طیاروں کے ذریعے چھ حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اس میں 14 راکٹ بدھ کے روز عراق میں ایک امریکی فوجی اڈے پر گرے۔ اس کے نتیجے میں امریکی سروس کے 2 اہل کار زخمی ہو گئے۔

موجودہ صورت حال نے جو بائیڈن کو ایک بار پھر کڑے امتحان میں ڈال دیا ہے جو مشرق وسطی میں کسی نئی جنگ سے دور رہ کر کرونا وائرس کی وبا کے خاتمے اور روس اور چین سے نمٹنے پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔

ریپبلکن ارکان کانگریس کا کہنا ہے کہ جو بائیڈن کی انتظامیہ آخری دو حملوں میں ایران کی ایجنٹ ملیشیاؤں کو سبق سکھانے میں ناکام رہی ہے۔

مسلح افواج کی کمیٹی کے رکن ریپبلکن سینیٹر جم اینہوف نے پولیٹیکو ویب سائٹ کو دیے گئے ایک بیان میں کہا کہ “عراق میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کی جانب سے امریکیوں پر مسلسل حملوں سے درگزر نہیں کیا جا سکتا۔ صدر بائیڈن کو چاہیے کہ وہ ان حملوں کو ختم کرنے کے لیے حقیقی حکمت عملی وضع کریں۔ صدر کی حالیہ روش نے عراق اور شام میں امریکیوں کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا ہے”۔

دوسری جانب بائیڈن کے ڈیموکریٹک حلیفوں نے اس بات پر اعتراض کیا ہے کہ صدر کے پاس ایران نواز ملیشیاؤں پر حملوں کے لیے اختیارات نہیں ہیں ،،، اس مقصد کے لیے انہیں پہلے کانگریس سے منظوری حاصل کرنا لازم ہے۔

بائیڈن نے اپنے محدود اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے عراق اور شام میں دو مرتبہ ایران نواز ملیشیاؤں کے ٹھکانوں پر حملوں کا حکم دیا۔ ان میں پہلی مرتبہ فروری میں اور دوسری مرتبہ جون کے اواخر میں عسکری کارروائی کی گئی۔

پینٹاگان کے ترجمان جون کیربی نے جمعرات کے روز کہا تھا کہ وزارت دفاع کو شام اور عراق میں ان حملوں کے حوالے سے “گہری تشویش” ہے۔

توقع ہے کہ امریکی سینیٹ میں خارجہ تعلقات کی کمیٹی آئندہ ہفتے ایک قانون کی منظوری دے گی جو عراق کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کے حوالے سے صدر کو تفویض کردہ اختیارات منسوخ کر دے گا۔

ریپبلکن سینیٹر ٹیڈ کروز نے “پولیٹیکو” اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ ہفتے مذکورہ قانون کے حوالے سے ترمیم پیش کریں گے۔ اس کا مقصد ہے ایران اور اس کے ایجنٹوں پر حملے کے لیے صدر بائیڈن کی صلاحیت برقرار رکھنا ہے۔

العربیہ نیوز

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: