لوگ آف شور کمپنیاں کیوں بناتے ہیں؟

لوگ آف شور کمپنیاں کیوں بناتے ہیں؟

2016 کے ’پاناما پیپرز‘ اور اب گذشتہ روز جاری ہونے والے ’پنڈورا پیپرز‘ کے ساتھ ہی مختلف ملکی اور بین الاقوامی شخصیات کی آف شور کمپنیوں کی گونج ہر طرف سنائی دے رہی ہے۔

بڑے بڑے کاروباری، سیاسی اور بااثر شخصیات کی ان ’خفیہ کمپنیوں‘ کے بارے میں بڑے بڑے انکشافات بھی سامنے آرہے ہیں لیکن ایک عام آدمی اب بھی شاید یہ سمجھنے اور جاننے کی کوشش میں مصروف ہے کہ آخر یہ آف شور کمپنیاں ہوتی کیا ہیں اور کام کیسے کرتی ہیں۔

ان سطور میں ان ہی سوالوں کے جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

آف شور کمپنی ہے کیا؟

ویب سائٹ ’آف شور پروٹیکشن ڈاٹ کام‘ کے مطابق آف شور ایک ایسی کمپنی ہے، جو کسی ایسے ملک یا دائرہ اختیار میں قائم کی گئی ہو، جس کے مالک کی رہائش کہیں اور ہو۔ دوسرے لفظوں میں آف شور کمپنی کسی بھی شخص کی بیرون ملک میں واقع کمپنی کو کہہ سکتے ہیں۔

لیکن آف شور کمپنی کی یہ تعریف اتنی سادہ نہیں ہے اور مختلف حالات اور صورت حال کے تناظر میں اس کی مختلف تعریفیں ہوسکتی ہیں۔

ایک ’آن شور کمپنی‘ کسی ملکی میں موجود کمپنی ہے، جو اس ملک کی سرحدوں کے اندر موجود اور کام کرتی ہے۔ اس کے مقابلے میں آف شور ایک ایسی کمپنی ہوتی ہے، جس کا تمام لین دین اس ملک کی سرحدوں سے باہر ہوتا ہے، جہاں اسے قائم کیا گیا ہو۔

اور چونکہ اس کی ملکیت کسی ایسے شخص کے پاس ہوتی ہے، جو اس ملک کا رہائشی نہیں ہوتا، لہذا اس کمپنی پر مقامی ٹیکس قوانین لاگو نہیں ہوتے۔

لوگ آف شور کمپنیاں کیوں بناتے ہیں؟

بیرون ملک آف شور کمپنیاں بنانے کی پانچ بڑی وجوہات یہ ہیں۔

۔ ٹیکس بچانا

آف شور کمپنی بنانے کا روایتی مقصد ٹیکس بچانا ہے۔ اگر آپ کسی ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں مثال کے طور پر ٹیکس کی شرح دس فیصد ہے تو اثاثے کسی ایسے ملک میں منتقل کرنا انتہائی سودمند ہو سکتا ہے جہاں مثال کے طور پر ٹیکس کی شرح پانچ فیصد ہو۔

کچھ ملک ایسے ہیں جو صفر ٹیکس کی سہولت دیتے ہیں، ان میں کیمن آئی لینڈ سرِ فہرست ہے جہاں نہ کوئی انکم ٹیکس ہے، نہ پراپرٹی ٹیکس، نہ کیپیٹل گین ٹیکس۔ اس لیے بہت سے لوگ وہاں آف شور کمپنی بنا لیتے ہیں۔

۔ اثاثوں کا تحفظ 

آف شور کمپنی بنانے کا ایک اور اہم مقصد اثاثوں کا تحفظ ہے، چاہے وہ اثاثے آپ نے قانونی طریقے سے کمائے ہیں یا غیر قانونی طریقے سے۔ 

کئی ملک ایسے ہیں جہاں سیاسی صورتِ حال تغیر کا شکار رہتی ہے اور مالدار لوگوں کو خدشہ ہوتا ہے کہ ان کے مخالفوں کی حکومت آ گئی یا مارشل لا لگ گیا تو ان کی ملکی بینکوں میں رکھی گئی دولت ضبط ہو جائے گی، اس لیے وہ رقم آف شور کمپنیوں میں رکھتے ہیں۔ 

۔ رقم کی آسان بین الاقوامی منتقلی

بعض ملکوں سے سرمایہ نکال کر دنیا کے کسی اور ملک میں منتقل کرنے کا عمل بےحد پیچیدہ ہوتا ہے، جس کے لیے طرح طرح کے اداروں کے سامنے جوابدہ ہونا پڑتا ہے اور لمبے چوڑے قانونی تقاضے پورے کرنے پڑتے ہیں جن میں مہینے یا سالہا سال لگ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ کا پیسہ کسی آف شور کمپنی میں پڑا ہے اور اگر آپ کو لندن، دبئی یا کینیڈا وغیرہ میں کاروبار شروع کرنے کے لیے سرمایہ درکار ہے یا کوئی جائیداد خریدنی ہے تو آف شور کمپنی سے بڑی آسانی سے رقم دنیا میں کسی بھی جگہ منتقل کی جا سکتی ہے۔

۔ قانونی پیچیدگیوں سے بچاؤ

فرض کیا آپ کسی بڑے کاروبار کے مالک ہیں جہاں بہت سے اثاثے آپ کے نام ہیں، لیکن اچانک آپ کی کمپنی کے خلاف مقدمہ، احتساب یا تحقیقات شروع ہو جاتی ہیں۔ عین ممکن ہے کہ مقدمے کا فیصلہ آنے تک کمپنی کے اثاثوں کے علاوہ آپ کے ذاتی اکاؤنٹ منجمد کر دیے جائیں کیوں کہ آپ کمپنی کے مالک ہیں، چاہے آپ نے کچھ غلط کیا ہے یا نہیں۔ 
اس لیے بہت سے لوگوں کے لیے یہ بات سمجھ داری کی ہوتی ہے کہ وہ کاروبار چلانے کے لیے درکار رقم چھوڑ کر اپنا خالص منافع کسی آف شور کمپنی میں منتقل کر دیں، تاکہ اس پر آپ کے ملک کی عدالتوں کے فیصلے اثر انداز نہ ہو سکیں۔

۔ بہتر بینکنگ سہولیات

کئی ملک نہایت آسانی سے آف شور کمپنی بنانے کی سہولت دیتے ہیں، جس میں کسی لمبے چوڑے پیپر ورک کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ ملک بہت عمدہ بینکنگ سروس بھی دیتے ہیں، جس میں بہتر شرحِ سود کے علاوہ عمدہ کریڈٹ سروس، سرمایہ کاری کے لیے پروفیشنل ٹیم کے مشورے اور ہدایات وغیرہ شامل ہیں۔ 
یہ وہ سروسز ہیں جو عام بینک فراہم نہیں کرتے، اس لیے بعض لوگ صرف اس وجہ سے آف شور کمپنی بنانے کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق آف شور کمپنی بنانا یا رکھنا غیر قانونی عمل نہیں ہے، تاہم بعض اوقات ایسی کمپنیاں غیر قانونی طریقے سے کمائے گئے پیسے خفیہ رکھنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں، اور یہی وہ عمل ہے جو اس سارے عمل کو غیر قانونی بنا دیتا ہے۔ 

آف شور کمپنیاں کیسے کام کرتی ہیں؟

ایک آف شور کمپنی ایک کارپوریٹ ادارے کے طور پر کام کرتی ہے، جسے قانونی طور پر اپنے دائرہ اختیار، یعنی جہاں اسے قائم کیا گیا ہے، سے باہر تجارت کرنے، اثاثے رکھنے اور عام کاروباری سرگرمیاں کرنے کی اجازت ہے۔

ممالک ان کمپنیوں کو ٹیکس میں چھوٹ دیتے ہیں، جو اپنے لین دین اور معاملات کو ملک کی سرحدوں سے باہر تک محدود رکھتی ہیں۔

ایسی آف شور دائرہ اختیارات میں بننے والی کمپنیاں غیر رہائشی کہلاتی ہیں کیونکہ وہ اس ملک کی حدود میں کوئی مالی لین دین نہیں کرتیں اور کسی غیر رہائشی فرد کی ملکیت ہوتی ہیں۔

جن ممالک میں یہ آف شور کمپنیاں قائم کی جاتی ہیں، انہیں ’ٹیکس ہیون‘ کہا جاتا ہے، خصوصاً مملکت پاناما اس کی سب سے زیادہ زد میں آیا تھا جب 2016 میں پاناما پیپرز کا ڈھنڈورا مچا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ پانامہ حکومت کو خدشہ ہے کہ ان کاملک ایک بار پھر عالمی ٹیکس ہیون سکینڈل کا مرکز بن جائے گا جیسا کہ 2016 میں نٹرنیشنل کنسورشیم آف انوسٹی گیٹیو جرنلٹس (آئی سی آئی جے) کے ’پاناما پیپرز‘ کے انکشاف کے بعد ہوا تھا۔

وہ پانچ ممالک جو آف شور کمپنیوں کے لیے بہترین ہیں؟

۔ پاناما

۔نیوس

۔ کُک آئی لینڈز

۔سکاٹ لینڈ

۔ برطانیہ

انڈیپینڈینٹ اردو

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: