ملک میں چھوٹی بڑی تمام گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

ملک میں چھوٹی بڑی تمام گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

حکومت نے ملک میں چھوٹی بڑی تمام گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا ہے جس کا اطلاق آئندہ چند دنوں میں ہو جائے گا۔

وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداور خسرو بختیار نے وزیر اطلاعات و نشریات فواد حسین چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس میں پاکستان کی نئی آٹو پالیسی کے اہم نکات بیان کیے۔

خسرو بختیار نے بتایا کہ پاکستان کی آٹو سیکٹر کی استعداد چار لاکھ 15 ہزار گاڑی بنانے کی ہے اور ہر گاڑی کے ساتھ پانچ نوکری پیدا ہوتی ہے لیکن پچھلے سال صرف ایک لاکھ 64 ہزار گاڑیاں بنیں، رواں سال طلب بڑھا کر پیداوار 3 لاکھ یونٹس تک پہنچانے کی کوشش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیمانڈ بڑھانے کے لیے قیمت کم کرنی پڑتی ہے، گاڑیوں میں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی جبکہ چھوٹی گاڑیوں کے لیے سیلز ٹیکس بھی ختم کردیا ہے۔

خسرو بختیار نے بتایا کہ ’660 سی سی گاڑیاں جن میں آلٹو کی ساری رینج شامل ہے، اس کی قیمت تقریباً ایک لاکھ پانچ ہزار کم ہوگی، 1000 سی سی کی گاڑیوں کی قیمت ایک لاکھ 45 ہزار، کلٹس اور اس طرح کی گاڑیوں کی ایک لاکھ 86 ہزار، ٹویوٹا یارس کی سوا لاکھ کے لگ بھگ قیمتیں کم ہوں گی اور سٹی کی قیمتیں بھی کم ہوں گی۔‘

انہوں نے کہا کہ اسی طرح گرینڈے، سپورٹیج  اور فورچیونر کی قیمتیں بھی کم ہوں گی، نئی قیمتوں کا اطلاق ایک دو دن میں ہوجائے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ قیمتیں کم ہونے سے یک دم طلب میں اضافہ ہوگا اور گاڑیوں کی پیداوار میں اضافہ ہوگا، گاڑیوں کی پیداوار بڑھنے سے اس سال تین لاکھ نئی نوکریاں بھی پیدا ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ اس سال پاکستان میں 26 لاکھ موٹر سائیکل بھی بنیں گے اور اگلے سال 30 لاکھ تک کا ہدف ہے، چار لاکھ اضافی موٹر سائیکل 75 ہزار نئی نوکریاں دیں گے۔

خسرو بختیار نے پہلی بار گاڑی خریدنے والوں کے لیے حکومت کی جانب سے پیدا کی جانے والی آسانی کا بھی ذکر کیا اور کہا: ’گاڑیوں کی اپ فرنٹ پیمنٹ کو 20 فیصد کردیا ہے، چھوٹی گاڑی کی قیمت کم کردی، آنے والے وقت میں لیز کا طریقہ کار بھی آسان کردیں گے تاکہ لوگ قسط وار طریقے سے اپنی گاڑی حاصل کرسکیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت میں استحکام حاصل کرنے کے لیے اپنی پیداوار کو بڑھانا ہوگا، نئی آٹو پالیسی میں مقامی سطح پر تیاری پر بہت توجہ دی گئی ہے، آٹو سیکٹر میں مقامی حصہ 30 سے 35 فیصد ہے جو سالانہ 10 فیصد کے حساب سے بڑھائیں گے۔

خسرو بختیار نے کہا: ’موٹر سائیکل کے بغیر بھی آٹو سیکٹر 1200 ارب روپے کا ہے جو 350 ارب ٹیکس دیتا ہے، اس سیکٹر کو صرف ڈومیسٹک مارکیٹ کے لیے نہیں ہونا چاہیے، یہ 70 فیصد مالیت کی چیزیں باہر سے منگواتے ہیں، اب ہمیں اسے ایکسپورٹ اوریئنٹڈ کرنا ہے، نئی پالیسی آٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی ہے، کمپنیوں پر لازم ہوگا کہ جتنی آپ امپورٹ کریں گے اس کا ایک خاص حصہ ایکسپورٹ بھی کرنا ہوگا۔‘

وفاقی وزیر نے کہا کہ ’گاڑیوں کی قیمتیں نیچے آئیں گی تو ڈیمانڈ بڑھے گی اور پھر ڈیلرز متحرک ہوجائیں گے، کچھ وقت کے لیے طلب و رسد کا فرق آئے گا کیوں کہ پیداور میں وقت لگتا ہے، گاڑی کی ملکیت کا جو مسئلہ ہے وہ زیادہ نمایاں ہوسکتا ہے اسے حل کرنے کے لیے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جو شخص گاڑی خریدنا چاہتا ہے اسی کے نام پر گاڑی کی بکنگ ہوگی یا جو گاڑی رجسٹر کرائے گا وہی گاڑی بک کروا سکتا ہے۔‘

انہوں نے کہا: ’اگر گاڑی بنانے والی کمپنی نے بکنگ کے بعد 60 دن سے اوپر تاخیر کی توKIBOR  لاگو ہوجائے گا جو یہ تاخیر کی مد میں ادا کریں گی، گاڑی کی آن لائن بکنگ ہوگی، ہر کسٹمر کو پتہ ہوگا کہ اس کی گاڑی اس وقت تیاری کے کس مرحلے میں ہے۔‘

خسرو بختیار نے کہا کہ گاڑیوں کی کوالٹی بھی بہتر بنانے پر فوکس ہے، پاکستان میں بننے والی گاڑیوں میں بھی عالمی معیار کے فیچرز ہونے چاہییں۔

انہوں نے کہا کہ ’ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں، الیکٹرک وہیکل کی ایکسپورٹ کو 25 فیصد سے 10 فیصد کر دیا ہے تاکہ پاکستان میں ای وہیکلز آئیں اور اس کا انفرا سٹرکچر بھی ڈویلپ ہوسکے، وزیراعظم کے وژن کے مطابق 25-2024 تک گاڑیوں کی پیداوار پانچ لاکھ کے قریب لے جانے کی کوشش کریں گے۔‘

خسرو بختیار نے کہا کہ نئی آٹو پالیسی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کے پاس ہے جسے جلد منظور کرلیا جائے گا۔

انڈیپینڈینٹ اردو

sharethis sharing button
Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: