نائن الیون حملوں کے ماسٹرمائنڈ کے خلاف مقدمہ دوبارہ شروع

نائن الیون حملوں کے ماسٹرمائنڈ کے خلاف مقدمہ دوبارہ شروع

11 ستمبر 2001 کو امریکہ میں حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد اور دیگر چار ملزمان کے خلاف مقدمے کی کارروائی منگل کو ان حملوں کی 20 ویں برسی سے کچھ دن قبل دوبارہ شروع ہوگئی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق خالد شیخ محمد اور دیگر چار ملزمان، جو کیوبا میں واقع گوانتاناموبے جیل میں تقریباً 15 سال سے قید ہیں، 2019 کے اوائل کے بعد پہلی بار یہاں کے فوجی ٹربیونل کے سامنے پیش ہوں گے

کرونا (کورونا) وائرس جیسے وبائی مرض کی وجہ سے 17 ماہ کے وقفے کے بعد اس مقدمے کی کارروائی وہیں سے شروع ہونے کا امکان ظاہر ہوا ہے جہاں اسے چھوڑا گیا تھا۔

اس مقدمے میں ملزمان کے وکیل سی آئی اے کی حراست میں مدعا علیہان پر ہونے والے تشدد کی وجہ سے حکومت کے بیشتر شواہد کو نااہل قرار دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

اتوار کو نئے فوجی جج اور اس مقدمے کے آٹھویں جج ایئر فورس کے کرنل میتھیو میک کال نے سست آغاز کا اشارہ دیا ہے اور یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ ان کی اپنی اہلیت کے بارے میں ابتدائی سماعت منگل کو ہوگی۔ فریقین کے وکلا کو جنگی جرائم ٹربیونل میں یہ اجازت دی گئی ہے کہ وہ ممکنہ تعصب کے خدشے کے پیش نظر نئے جج سے پوچھ گچھ کرسکتے ہیں۔

بقیہ ہفتے کے دوران زیادہ تر فوجی استغاثہ اور وکلائے صفائی کے درمیان ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

ملٹری پراسیکیوٹرز کے شواہد فراہم کرنے سے انکار کے خلاف کئی طرح کی تحاریک لگائی گئی ہیں اور دفاعی وکلا کا کہنا ہے کہ مقدمے سے پہلے کا مرحلہ آسانی سے ایک اور سال تک جاری رہ سکتا ہے، جس میں جیوری ٹرائل اور فیصلے کی کوئی امید نہیں ہے۔

جب یہ پوچھا گیا کہ کیا یہ مقدمہ کبھی اس مقام پر پہنچ سکتا ہے تو دفاعی وکیل جیمز کونیل کا کہنا تھا: ’مجھے نہیں معلوم‘۔

وکلا کا کہنا ہے کہ پانچ مدعی خالد شیخ محمد، عمار البلوچی، ولید بن عطش، رمزی بن الشیبہ اور مصطفیٰ الحوساوی سب لاغر ہیں اور 2002 سے 2006 کے درمیان سی آئی اے کی خفیہ ’سیاہ‘ قید خانوں میں دی جانے والی شدید اذیت کے دیرپا اثرات کا شکار ہیں۔

اس کے علاوہ وکیل کا کہنا تھا کہ ملزمان پر یہاں لائے جانے کے بعد سے 15 سالوں کے دوران سخت حالات اور الگ تھلگ رہنے کا مجموعی اثر ہے۔

وہ ایک انتہائی محفوظ اور ریزر وائرز سے گھرے ہوئے ملٹری کمیشن کے کمرہ عدالت میں پیش ہوں گے اور ہر ایک ملزم اپنی دفاعی ٹیم کے ساتھ ہوگا۔

حاضرین میں ان دو ہزار 976 افراد کے اہل خانہ ہوں گے، جن کے قتل کا الزام ملزمان پر لگایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ذرائع ابلاغ کے نامہ نگاروں کی ایک بڑی تعداد بھی موجود ہوگی۔

پانچوں ملزمان کو قتل اور دہشت گردی کے الزامات کے تحت جنگی جرائم کی ٹریبونل سے سزائے موت ہو چکی ہے۔

ملزمان کا دفاع فوج کے نامزد کردہ وکلا، نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے پروبونو وکلا اور غیر سرکاری تنظیمیں کر رہی ہیں۔

جب سے مقدمہ شروع ہوا ہے، ملزمان کا دفاع کرنے والے وکلا نے اسے سی آئی اے کی ظالمانہ تفتیش سے حاصل کی گئی معلومات پر مبنی ایک ’اوپن اینڈ شٹ‘ کیس قرار دیا ہے۔ 

اس کے بجائے، استغاثہ کا موقف ہے کہ 2007 میں پانچوں ملزمان کے گوانتاناموبے پہنچنے کے بعد ایف بی آئی کی جانب سے نام نہاد ’کلین ٹیم‘ تفتیش کے دوران نائن الیون حملوں میں سازش کے ٹھوس شواہد ملے۔

لیکن دفاعی وکلا کا کہنا ہے کہ 2007 کی پوچھ گچھ بمشکل ہی ’شفاف‘ تھی کیونکہ ایف بی آئی نے بھی سی آئی اے کے ٹارچر پروگرام میں حصہ لیا تھا اور ان کی پوچھ گچھ میں بھی تشدد کا عنصر نمایاں تھا۔

دفاعی وکلا کے مطابق مدعا علیہان، اس وقت بھی تشدد کے اثرات کو محسوس کر رہے تھے اور انہوں نے ایف بی آئی سے خوف کے تحت ہی بات کی۔

بلوچی کی نمائندگی کرنے والے وکیل کونل نے کہا: ’کوئی غلطی نہ ہو اور تشدد کو چھپایا جائے، یہی وجہ ہے کہ ان افراد کو امریکی وفاقی نظام انصاف کی بجائے گوانتاناموبے لایا گیا۔‘

ملزمان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’تشدد کی پردہ پوشی بھی ایک وجہ ہے کہ ہم سب نائن الیون فوجی کمیشن میں 42 ویں سماعت کے موقع پر گوانتاناموبے میں جمع ہیں۔‘

اپنے مقدمے کو ثابت کرنے کے لیے ملزمان کے وکلا بڑی تعداد میں موجود اس خفیہ مواد کا مطالبہ کر رہے ہیں جسے حکومت فراہم کرنے میں مزاحمت کر رہی ہے۔ اس مواد میں تشدد کے اصل پروگرام سے لے کر گوانتاناموبے کے حالات اور ملزمان کی صحت کے جائزے تک ہر چیز موجود ہے۔

ملزمان کے وکلا مزید درجنوں گواہان کا انٹرویو بھی کرنا چاہتے ہیں۔ اس مقدمے میں 12 گواہان پہلے ہی عدالت کے سامنے پیش ہوچکے ہیں جن میں سی آئی اے پروگرام کی نگرانی کرنے والے دو افراد بھی شامل ہیں۔

ان مطالبات کی وجہ سے مقدمے کی سماعتوں میں تاخیر ہوئی ہے لیکن ملزمان کے وکلا حکومت پر مقدمے سے منسلک مواد کو چھپانے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔

ملزمان کی ایک اور وکیل الکا پردھان کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت کو یہ تسلیم کرنے میں چھ سال لگے کہ ایف بی آئی نے سی آئی اے کے تشدد کے پروگرام میں حصہ لیا۔

انہوں نے کہا: ’یہ کیس آپ کو نیچا دکھاتا ہے۔ وہ ایسی چیزیں بھی چھپا رہے ہیں جو عدالت میں معمول کی کارروائی کی ہیں۔‘

انڈیپینڈینٹ اردو

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: