نادرا نے بینکنگ کے لیے رابطے کے بغیر بائیو میٹرک تصدیق کی سروس کا آغاز کردیا

نادرا نے بینکنگ کے لیے رابطے کے بغیر بائیو میٹرک تصدیق کی سروس کا آغاز کردیا

اسلام آباد: نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے بینکنگ اور ادائیگیوں کی صنعت کے لیے کانٹیکٹ لیس بائیو میٹرک تصدیق کی خدمات کا آغاز کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سروس کا آغاز اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے گورنر ڈاکٹر رضا باقر نے نادرا ہیڈ کوارٹر کے دورے کے دوران کیا۔

بینک اسمارٹ فونز پر ڈیجیٹل ایپ کا استعمال کریں گے تاکہ ان کے گھروں سے ممکنہ اکاؤنٹ ہولڈرز کی بائیومیٹرک کیپچرنگ اور تصدیق کی جا سکے۔

اس ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے متعارف ہونے کے ساتھ بینکاری نظام ڈیجیٹل بینکنگ سسٹم میں ریموٹ بائیو میٹرک کیپچرنگ ٹیکنالوجی کو شامل کرتے ہوئے ایک مثالی تبدیلی لائے گا۔

اس سروس کو ابتدائی طور پر پانچ بینکوں تک محدود رکھا گیا ہے جنہیں اسٹیٹ بینک نے پائلٹ پروجیکٹ کے لیے نامزد کیا ہے۔

دیگر بینک اور مکمل طور پر اسٹیٹ بینک کے لائسنس یافتہ الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز (ای ایم آئیز) ضروری رسمی عمل مکمل ہونے کے بعد پائلٹ رن میں شامل ہوں گے۔

ایک بار پائلٹ رن مکمل ہونے کے بعد یہ سروس تمام بینکوں ای ایم آئیز تک بڑھا دی جائے گی۔

اسٹیٹ بینک کے گورنر نے کہا کہ ‘بینکوں اور الیکٹرانک منی انسٹیٹیوشنز کے لیے یہ نئی موبائل پر مبنی تصدیق سروس ایس بی پی کے مالی شمولیت کے اقدام کے مطابق ہے جبکہ ریموٹ شناخت اور ای کے وائی سی کی خصوصیات کے ذریعے تیزی سے آن بورڈنگ کے مواقع پیدا کرتی ہے’۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘اس نئی ٹکنالوجی کو جلد اپنانے سے بڑی آبادی تک پہنچنے کی لامتناہی صلاحیت ہوگی جبکہ یہ مالیاتی شعبے کو بہت زیادہ فائدہ پہنچاتا ہے کیونکہ اس سے آپریشنل اخراجات میں کمی آئے گی، بینکوں پر دباؤ جاری کرنے میں مدد ملے گی جو اس وبائی مرض کے دوران منفی طور پر متاثر ہوئے ہیں’۔

اپنے خطاب میں نادرا کے چیئرمین طارق ملک نے کہا کہ ‘ہم اس جاری وبائی مرض کے دوران وقت کی ضرورت پر توجہ دے رہے ہیں، یہ نئی ٹکنالوجی اسمارٹ موبائل فون کا استعمال کرتے ہوئے رابطے کے بغیر فنگر پرنٹ کے حصول اور مماثلت کو ممکن بناتی ہے جو ڈیجیٹل مالیاتی لین دین کے روایتی طریقوں کا متبادل فراہم کرتی ہے جس کے لیے مخصوص آلات یا بینک شاخوں/فرنچائزز کے دوروں کی ضرورت پڑسکتی تھی’۔

نادرا کی جانب سے گزشتہ ہفتے شروع کی گئی اس نئی سروس کو استعمال کرنے کے لیے بینکوں نے ترقیاتی کام شروع کر دیے ہیں۔

نادرا یہ سروس ای ایم آئیز کے ساتھ ساتھ برانچ لیس بینکنگ فراہم کرنے والوں کو بھی فراہم کرے گا۔

نادرا کی جدید مصنوعات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بینک اور ای ایم آئی اپنے صارفین کو نئی ڈیجیٹل بینکنگ سروسز کی پیشکش شروع کرنے کا امکان رکھتے ہیں جس کے تحت صارفین بینک اکاؤنٹ اور والٹ کھول سکیں گے اور اپنے موبائل فون کیمروں کا استعمال کرتے ہوئے گھروں پر بائیومیٹرک پر مبنی مالی لین دین کر سکیں گے۔

طارق ملک نے کہا کہ ‘یہ نہ صرف ملک میں بینکنگ اور ادائیگی کی سروسز میں انقلاب لائے گا بلکہ مالی شمولیت کی مہم کو بھی سراہے گا’۔

اس سے قبل بھی نادرا نے موبائل ویریفیکیشن سروس کے لیے اسی طرح کی آن لائن آئی ڈی سروسز (پاک آئی ڈی) متعارف کروائی تھی جسے وزیراعظم عمران خان نے یکم ستمبر 2021 کو لانچ کیا تھا۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: