پابندیوں کا بل: پاکستانی فضائی راستوں کے استعمال کے لیے’دباؤ کا حربہ‘

پابندیوں کا بل: پاکستانی فضائی راستوں کے استعمال کے لیے’دباؤ کا حربہ‘

امریکی سینیٹ میں حزب اختلاف رپبلکن پارٹی کے سینیٹرز نے ایک بل پیش کیا ہے، جس کے تحت افغانستان میں طالبان کو ان کی کامیابیوں میں مدد فراہم کرنے والے افراد اور ممالک پر پابندیاں عمل میں آ سکتی ہیں، جس پر پاکستان نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔  

مجوزہ بل کی منظوری کی صورت میں امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کو کانگریس کی کمیٹی کے سامنے ایک رپورٹ پیش کرنا ہوگی، جس میں 2001 سے 2021 کے دوران طالبان کو کسی بھی قسم کی مدد فراہم کرنے والے افراد اور ممالک کی تفصیل ہوگی اور اس سلسلے میں پاکستان کا ’مشکوک ملک‘ کی حیثیت سے ذکر بھی موجود ہے۔ 

مذکورہ بل پیش کرنے والے رپبلکن سینیٹر جیمز ریش کا کہنا تھا: ’انتظامیہ اور کانگریس کے لوگوں کے درمیان پہلے ہی طویل بحث ہو چکی ہے کہ مستقبل میں ہمارا افغانستان اور پاکستان میں کیا کردار ہو گا، ہمارا پاکستان کے ساتھ ایک طویل رشتہ ہے، یہ سب کچھ ہماری طرف سے خاص طور پر خوشگوار نہیں ہے، میں نے پاکستان میں انتظامیہ کے لوگوں سے ملاقاتیں کی ہیں اور ہم نے اتفاق کیا ہے کہ ہم دونوں اپنی اپنی سیاسی وجوہات کی بنا پر کچھ کام کرسکتے ہیں اور کچھ بالکل نہیں۔‘  

سینیٹر ریش نے مزید کہا کہ اس وقت امریکی انتظامیہ اندازہ لگا رہی ہے کہ اس نے کیا کرنا ہے، ’اور میرے خیال میں امریکی وزیر خارجہ اور پاکستانی حکام کے درمیان کچھ ملاقاتوں میں اندازہ لگایا جائے گا کہ ایسا کیا کیا جا سکتا ہے جو دونوں کے مفاد میں بہتر ہو۔‘ 

پاکستان پر اثرات 

پاکستان اور امریکی تعلقات پر نظر رکھنے والے اکثر ماہرین رپبلکن سینیٹرز کی جانب سے پیش کیے گئے بل کو امریکہ کی اندرونی سیاست کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض اسے پاکستان کے لیے خطرے کی تلوار سے تعبیر کر رہے ہیں۔ 

063_1343313175.jpg

مجوزہ بل کی منظوری کی صورت میں امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کو کانگریس کی کمیٹی کے سامنے ایک رپورٹ پیش کرنا ہو گی، جس میں 2001 سے 2021 کے دوران طالبان کو کسی بھی قسم کی مدد فراہم کرنے والے افراد اور ممالک کی تفصیل ہو گی (فائل فوٹو: اے ایف پی)

انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز اسلام آباد سے منسلک ریسرچ سکالر محمد علی بیگ مذکورہ بل کو پاکستان کے لیے ایک خطرہ تو قرار دیتے ہیں، تاہم ان کے خیال میں اس کا قانونی شکل اختیار کرنا بعید از قیاس ہے۔ 

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا: ’اس بل کو صرف 22 رپبلکن سینیٹرز کی حمایت حاصل ہے، اس لیے مجھے نہیں لگتا کہ یہ امریکی سینیٹ سے منظور ہوسکے گا۔‘ 

بین الاقوامی امور کے استاد پروفیسر ڈاکٹر رفعت حسین مذکورہ بل کو امریکی سیاسی جماعتوں – ڈیموکریٹک پارٹی اور رپبلکن پارٹی – کے درمیان جاری سیاست کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ 

ان کا کہنا تھا کہ اس بل کے قانون کی شکل اختیار کرنے کے امکانات بہت کم ہیں، تاہم واشنگٹن اسے اسلام آباد پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال ضرور کرے گا۔ 

ان کے خیال میں امریکہ افغانستان میں حملوں کی خاطر پاکستان کے فضائی راستے استعمال کرنا چاہتا ہے اور یہ مقصد رپبلکنز کے پیش کردہ بل کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ 

پروفیسر ڈاکٹر رفعت حسین نے کہا کہ چند دن میں امریکی خارجہ امور کی نائب سیکریٹری وینڈی روتھ شرمن اسی سلسلے میں پاکستان پہنچ رہی ہیں، جبکہ سی آئی اے کے سربراہ ولیم برنز کے حالیہ دورے کا مقصد بھی ہوائی راستوں کے استعمال سے متعلق پاکستانی حکام سے بات کرنا تھا۔ 

تاہم صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی کے خیال میں اگر امریکہ میں طالبان اور ان کے حمایتیوں کو سبق سکھانے کا فیصلہ ہو چکا ہے تو صدر بائیڈن کی ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز بھی اس کی حمایت کریں گے اور اسے ہر صورت منظور کروایا جائے گا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو افغانستان میں بہت بڑی خفت اٹھانا پڑی ہے اور اس کے لیے انہیں ہر صورت کسی کو مورد الزام ٹھہرانا پڑے گا اور طالبان اور پاکستان سرفہرست ہوں گے۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پر پابندیوں کی صورت میں اس کے اہم ریاستی اداروں کے بعض عہدیداروں پر سفری پابندیاں بھی لگ سکتی ہیں۔ 

نجم سیٹھی نے کہا: ’دوسرا امکان یہ ہے کہ پاکستان پر پابندیاں لگا دی جائیں لیکن ان کو صدارتی سرٹیفیکیٹ سے منسلک کر دیا جائے، جیسا کہ 90 کی دہائی میں اسلام آباد پر پابندیاں تو لگا دی گئیں لیکن ان کو اس وقت کے امریکی صدر کی سالانہ یقین دہانی سے منسلک کر دیا گیا تھا۔‘ 

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے ایسی صورت حال بھی مشکل ہو گی، کیونکہ وہ سب کچھ نہیں کر سکتا جو افغانستان کے حوالے سے اسلام آباد کو کرنے کا کہہ رہا ہے۔ 

دفاعی تجزیہ کار انعام الحق کے مطابق مذکورہ بل میں پاکستان کا نام شامل کیا جانا اسلام آباد اور طالبان کے لیے محتاط رہنے کا اشارہ بھی ہو سکتا ہے۔ ’یہ طالبان کے لیے پیغام ہو سکتا ہے کہ اگر انہیں لگتا ہے کہ وہ امریکی امداد کے بغیر زندہ رہ سکتے ہیں تو ان کے حامیوں کو بھی کاٹا جا سکتا ہے۔‘ 

ان کا مزید کہنا تھا کہ رپبلکن سینیٹرز کا پیش کردہ بل صرف پاکستان اور طالبان کے لیے نہیں بلکہ چین اور روس کے لیے بھی ایک پیغام ہو سکتا ہے۔ 

000_9LW43F.jpg

30 اگست کو کابل ایئرپورٹ سے ایک امریکی جہاز انخلا کرنے والوں کو لے کر محوِ پرواز ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

تاہم انہوں نے بھی مذکورہ بل کے پیش کیے جانے کے پیچھے امریکہ کی اندرونی سیاست کے عمل دخل کے امکان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’اس وقت امریکہ میں جذبات بہت منفی ہیں، نہ صرف عوام بلکہ حکومتی اہلکار اور ڈیپ سٹیٹ والے بھی ناراض ہیں، کیونکہ ایک سپر پاور کے لیے یہ شکست بہت بڑی رسوائی ہے اور ان کے لیے اس کے اثرات کو ختم کرنا بہت مشکل ہے۔‘ 

پروفیسر رسول بخش رئیس کا کہنا تھا کہ رپبلکنز کے پیش کردہ بل کی منظوری کی صورت میں اس خطے میں امریکہ اکیلا رہ جانے کی وجہ سے مسائل کا شکار ہوگا۔ ’اگر بل منظور ہوتا ہے اور امریکہ پاکستان پر پابندیاں لگاتا ہے تو ایسی صورت میں اس خطے میں صرف بھارت ہی واشنگٹن کا دوست رہ جائے گا۔‘  

پاکستان کا موقف 

اسلام آباد میں پاکستانی دفتر خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا: ’ہم دیکھ رہے ہیں کہ واشنگٹن میں میڈیا اور کیپیٹل ہل دونوں میں بحث جاری ہے کہ ان حالات پر غور کیا جائے اور ان حالات کا جائزہ لیا جائے جو افغانستان سے امریکی انخلا کا باعث بنے، امریکی سینیٹ میں رپبلکنز کے ایک گروہ کی جانب سے پیش کردہ قانون کا مسودہ اس بحث کا ردعمل لگتا ہے۔‘ 

دفتر خارجہ کے بیان میں مذکورہ بل میں پاکستان کے حوالے کو مکمل طور پر غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اسلام آباد کے ایسے تمام حوالہ جات پاکستان امریکہ تعلقات کی روح سے متضاد ہیں۔ 

بیان میں مزید کہا گیا: ’2001 سے افغانستان کے ساتھ تعاون، بشمول افغان امن عمل کی سہولت اور افغانستان سے امریکی اور دیگر شہریوں کے حالیہ انخلا کے دوران پاکستان نے مسلسل کہا ہے کہ افغانستان کے تنازعے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔‘  

دفتر خارجہ کے مطابق: ’پاکستان کہتا رہا ہے کہ افغانستان میں طویل مدتی پائیدار امن کے حصول کا واحد طریقہ انگیجمنٹ اور بات چیت ہے۔‘ 

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان پائیدار سکیورٹی تعاون خطے میں مستقبل میں دہشت گردی کے کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے اہم رہے گا اور اس طرح کی مجوزہ قانون سازی کے اقدامات غیر معقول اور غیر نتیجہ خیز ثابت ہوں گے۔ 

انڈیپینڈینٹ اردو

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: