پاکستانی معیشت کی ’خطرناک حد تک‘ پرواز، پابندیوں کی نوبت آن پہنچی

پاکستانی معیشت کی ’خطرناک حد تک‘ پرواز، پابندیوں کی نوبت آن پہنچی

سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بینکنگ سیکٹر پر نئی پالیسی کا اطلاق کیا ہے جس میں گاڑیوں کی درآمدات کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔

ایسے تمام افراد جو غیر ملکی یا عرف عام میں جاپانی گاڑی بینک سے قرضہ لے کر خریدنے کی خواہش رکھتے ہیں، اب انہیں کم سے کم ڈاؤن پیمنٹ 30 فیصد ادا کرنا ہوگی۔ پہلے یہ 15 فیصد پر تھی۔

غیر ملکی گاڑی بینک سے قسطوں پر خریدنے کی صورت میں ادائیگی کا زیادہ سے زیادہ دورانیہ پانچ سال ہوگا، جو پہلے سات سال تھا۔

بظاہر ملکی صنعت کو فروغ دینے کے لیے اس پالیسی کا اطلاق قومی سطح پر تیار یا اسمبل کی جانے والی ایک ہزار سی سی سے کم اور الیکٹرک گاڑیوں پر نہیں ہو گا۔ اسی طرح ’روشن اپنی کار سکیم‘ سے منسلک پراڈکٹس پر بھی اس پالیسی کا اطلاق نہیں ہو گا۔

سٹیٹ بینک کے مطابق اس پالیسی کی وجہ سے غیر ملکی گاڑیوں کی بینک سے قسطوں پر خریداری کافی حد تک کم ہو جائے گی، لیکن اگر کوئی شخص انفرادی طور پر مہنگی اور لگژری گاڑی درآمد کرنا چاہے تو کیا اس پر بھی پابندی ہوگی؟

اس بات کی وضاحت سٹیٹ بینک کے نوٹیفکیشن میں موجود نہیں ہے۔

بینک سے قسطوں پر گاڑی لینے کی نئی حدود

اب آٹو فنانس کے لیے کسی بھی شخص کی بینک سے قرضہ لینے کی حد کو ان کی ٹیکس ادا کرنے کے بعد سالانہ آمدنی کا 40 فیصد مقرر کیا ہے۔ یعنی تمام واجب الادا ٹیکسز دینے کے بعد اگر کوئی شخص سالانہ 10 لاکھ روپے کماتا ہے تو وہ بینک سے زیادہ سے زیادہ چار لاکھ روپے کا قرضہ لے سکتا ہے۔

 اسی طرح بینکوں سے لیے گئے قرضے کی ادائیگی کے لیے ماہانہ قسطوں کی بھی زیادہ سے زیادہ حد کو صارف کی کُل ماہانہ آمدنی کا 40 فیصد رکھا ہے۔

یہ حد پہلے 50 فیصد تک تھی۔ یعنی اگر ایک شخص ماہانہ ایک لاکھ روپے کماتا ہے تو قرضہ ادائیگی کے لیے اس کی ماہانہ قسط 40 ہزار روپے ہو گی۔

آٹو فنانس کی مد میں کسی بھی فرد پر بیک وقت ایک یا تمام بینکوں کا واجب الادا قرضہ 30 لاکھ روپے سے زیادہ نہیں ہوگا۔

البتہ ایسے افراد جن کی یہ حد پہلے ہی 30 لاکھ روپے سے زیادہ مقرر کی جا چکی ہے ان پر اس پالیسی کا اطلاق نہیں ہو گا۔

ذاتی قرض ادا کرنے کی نئی پالیسی

ذاتی ضروریات یا پرسنل لون کے لیے قرضہ جات کی واپسی کی زیادہ سے زیادہ میعاد کو پانچ سال سے کم کر کے چار سال کر دیا گیا ہے۔

تاہم تعلیمی اخراجات کی مد میں لیے جانے والے قرضے اس شرط سے آزاد ہوں گے۔

نئی پالیسیوں کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

بدھ کے روز وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران درآمدات کے بڑھنے کو ملکی معیشت کے بڑھنے کا ایک اشارہ قرار دیا تھا۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’میرا مسئلہ کچھ اور ہے۔ میرا مسئلہ یہ ہے کہ کہیں یہ معیشت ضرورت سے زیادہ نہ بڑھ جائے۔ ہم جو پانچ فیصد کی شرح نمو دکھا رہے ہیں کہیں یہ اتنی آگے جانا شروع ہو جائے کہ میرے لیے ترسیل زر یا ادائیگیوں میں توازن کا مسئلہ بن جائے۔ ہم اس کو سنبھال رہے ہیں اور یہ سنبھل جائے گی۔‘

ماہرین معیشت کیا کہتے ہیں؟

ماہر معیشت ڈاکٹر اشفاق حسن نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’حکومت کو یہ اقدامات بہت پہلے ہی لے لینے چاہیے تھے۔ ان اقدامات سے درآمدات کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی۔‘

ڈاکٹر فرخ سلیم نے سٹیٹ بینک کی نئی پالیسیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’سٹیٹ بینک ملک کی معاشی صورت حال میں بہتری کے لیے قابل تعریف کام کر رہا ہے مگر بظاہر ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ افراط زر کو کنٹرول کرنے کے لیے زیادہ دھیان گاڑیوں پر ہے۔ ملک میں اس وقت آٹو فنانس کی مد میں تین سو 60 ارب روپے کے قرضے ہیں۔ ملک میں موجود گاڑیوں کی تعداد دو کروڑ 20 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ ملک کی 95 فیصد آبادی ایسی ہے جس کا گاڑیاں خریدنے سے کسی قسم کا کوئی تعلق ہی نہیں۔‘

انڈپینڈنٹ اردو نے موقف جاننے اور چند ابہامات کی وضاحت کے لیے سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ترجمان عابد قمر سے رابطہ کیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ سالوں میں کمرشل بینکوں کی جانب سے کُل کتنی غیر ملکی گاڑیوں کو صارفین کے لیے قسطوں پر مہیا کیا گیا؟ امریکی ڈالرز میں ان کی لاگت کیا بنتی تھی؟

یہ جاننے کے لیے بھی سوال کیا گیا کہ اس پالیسی پر عمل درآمد کے بعد سٹیٹ بینک کے اندازوں کے مطابق غیر ملکی گاڑیوں کی درآمد میں سالانہ کتنی کمی متوقع ہے اور امریکی ڈالرز میں اس کی مالیت کیا ہو گی؟ تاہم اس خبر کی اشاعت تک ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

انڈیپینڈینٹ اردو

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: