پاکستان اور ایف اے ٹی ایف- تحریر عاصم اعجاز

پاکستان اور ایف اے ٹی ایف- تحریر عاصم اعجاز

تحریر عاصم اعجاز

آج سے کچھ دن بعد ایف اے ٹی ایف کا اجلاس ہونے جارہا ہے

جس میں اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ پاکستان گرے لسٹ سے باہر آ پائے گا یا ابھی گرے لسٹ کا حصہ ہی رہے گا۔ اس بات کا فیصلہ آئندہ چند روز میں ہو جائے گا۔

آج سے کچھ روز پہلے ایف اے ٹی ایف کے ذیلی ادارے ایشین پیسفک گروپ کی ایک رپورٹ شائع ہوئی۔ اس رپورٹ  کے مطابق اے پی جی نے خاطر خواہ نتائج کے لیے پاکستان کو ’مزید بہتری پر مبنی فالو اپ‘ کیٹیگری میں رکھا ہے

میوچوئل ایویلویشن آف پاکستان سے متعلق دوسری فالو اپ رپورٹ میں ملک کو ایک کیٹیگری میں تنزلی کا شکار دکھایا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان نے 5 معاملات میں بہتری دکھائی، 15 دیگر معاملات میں ’غیر معمولی بہتری‘ کا مظاہرہ کیا جبکہ ایک معاملے میں ’جزوی طور پر ایف اے ٹی ایف کی ہدایت پر عمل‘ کیا۔

مجموعی طور پر پاکستان اب 7 سفارشات کی مکمل طور پر تعمیل کرچکا ہے اور 24 دیگر معاملات میں بڑی حد تک تعمیل کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان 7 سفارشات پر ’جزوی طور پر تعمیل‘ کر رہا ہے اور 40 میں سے 2 سفارشات پر بالکل عمل نہیں کر رہا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس اعتبار سے پاکستان، فیٹف کی 40 سفارشات میں سے 31 پر تعمیل کرچکا ہے یا کر رہا ہے۔

جائزہ لینے کی آئندہ تاریخ یکم اکتوبر 2020 ہے جس کا مطلب ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی سفارشات پر مزید کام کرکے ریٹنگ کو بہتر کرنے کا موقع ہے۔

اے پی جی نے کہا کہ پاکستان، انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی معالی معاونت سے متعلق اقدامات پر عمل درآمد میں بہتری لانے کے لیے گروپ کی وضع کردہ سفارشات کی تعمیل کے لیے تیزی سے کام کرر ہا ہے۔

پاکستان نے فروری 2021 میں اپنی تیسری پیشرفت رپورٹ پیش کی تھی جس کا جائزہ لینا ابھی باقی ہے

اے پی جی نے مزید کہا کہ مجموعی طور پر پاکستان نے میوچوئل ایویلویشن رپورٹ (ایم ای آر) میں تکنیکی بنیاد پر تعمیل کے حوالے سے خامیوں کا نشاندہی کی اور انہیں دور کرنے میں قابل ذکر پیشرفت کی ہے جس کی بنیاد پر اس کی 22 سفارشات پر دوبارہ درجہ بندی کی گئی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ رقم کی منتقلی کی سروسز، زیادہ رسک والے ممالک، مشکوک لین دین، خفیہ اطلاع اور رازداری اور سپروائزر کے اختیارات سے متعلق 14، 19، 20، 21 اور 27 سفارشات کی تعمیل کرنے پر دوبارہ درجہ بندی کی گئی

اے پی جی نے کہا کہ رسک کا اندازہ کرنا اور رسک کو دور کرنے کے لیے حکمت عملی اپنانا، دہشت گردی اور دہشت گردی کی مالی اعانت پر مالی پابندی سے متعلق 15 سفارشات 1، 6، 7، 8، 12، 17، 22، 23، 24، 25، 30، 31، 32، 35 اور 40 کی تعمیل کرنے

کی بنیاد پر دوبارہ درجہ بندی کی گئی۔

اگرچہ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو پورا کرنے کے لئے پاکستانی حکومت نے کئی اہم فیصلے کئے ۔بالخصوص پاکستانی مالیاتی اداروں نے جس طرح سے اپنے نظام کو بہتر کیا ہے ۔بے نامی اکاؤنٹس کی حوصلہ شکنی کی ہے،دہشت گردوں اور ان کے زیر انتظام چلنے والے اداروں کی بینکنگ چینلز تک رسائی کوکسی حد تک ناممکن بنایا یے۔ وہ بے مثال ہے۔ لیکن ابھی بھی مالیاتی نظام میں بہت بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ خصوصا قومی بچت کے ادارے میں جہاں کھربوں

روپے غیر شناخت شدہ شکل میں موجود ہیں۔

اگرچہ ایف ای ٹی ایف کی وجہ سے

بینکنگ کا نظام پہلے جیسا نہیں رہا۔ آپ کسی بڑی رقم کو نقدی کی صورت اپنے اکائونٹ میں جمع کروانا چاہیں تو مشکوک تصور ہوتے ہیں۔اس رقم کے حصول کا ذریعہ دستاویزی صورت میں فراہم کرنا ہوتا ہے۔ ممکنہ سوالات سے گھبرا کر عام کاروباری افراد کی کثیر تعداد نے بینکوں میں رقم جمع کرنے سے اجتناب برتناشروع کردیا۔اس کی بدولت ڈالر اور سونے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ کمال بات تو یہ ہے کہ ایک طرف ہر ٹرانزنکیشن کا دستاویزی ثبوت مانگا جا رہا ہے۔ دوسری طرف ہمارے ہاں زمینوں کی خریدوفروخت میں ان دنوں جو رونق نظر آرہی ہے اس کی بنیادی وجہ یہ فیصلہ ہے کہ جائیداد خریدنے والے سے فی الوقت کوئی سوال نہیں پوچھے جائیں گے۔ یہ رونق بھی تاہم وقتی ہے۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے باہر آنے کے لئے سوالات پوچھنالازمی ہے۔ جب ان سوالات کا سلسلہ شروع ہوگا تو پراپرٹی والے دھندے کی رونق دوبارہ ماند پڑنا شروع ہوجائے گی۔ اس کے بعد کیا ہوگا؟ اس کا فیصلہ آنے والے وقت ہی کرے گا۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: