پاکستان ایف اے ٹی ایف پر انڈین اثر و رسوخ کا الزام کیوں عائد کرتا ہے؟

پاکستان ایف اے ٹی ایف پر انڈین اثر و رسوخ کا الزام کیوں عائد کرتا ہے؟

پاکستان کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ انڈین وزیر خارجہ کے پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں رکھنے کے کیلئے دباؤ ڈالنے سے متعلق بیان نے نہ صرف انڈیا کے ’اصل عزائم کو بے نقاب‘ کر دیا ہے بلکہ ’انڈیا کا ایف اے ٹی ایف میں منفی کردار‘ کے پاکستانی مؤقف کو بھی درست ثابت کیا ہے۔

ترجمان وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے انڈیا کے اس منفی کردار کا معاملہ ایف اے ٹی ایف کے صدر کے سامنے اٹھانے پر بھی غور شروع کیا ہے اور فورم سے درخواست کی ہے کہ وہ انڈیا کے ایف اے ٹی ایف میں بطور ‘شریک چیئر’ کردار پر بھی نظر ثانی کرے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ انڈین وزیر خارجہ کے اس بیان نے انڈیا کی پاکستان یا کسی دوسرے ملک کی کارکردگی کو منصفانہ طور پر جانچنے کی صلاحیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

انڈیا کے دباؤ پر پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا

انڈین وزیر خارجہ جے شنکر نے حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنماؤں کے لیے خارجہ پالیسی سے متعلق منعقد کیے گئے ایک ٹریننگ سیشن میں دعویٰ کیا تھا کہ ایف اے ٹی ایف نے انڈیا کے دباؤ پر پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جے شنکر کا کہنا تھا کہ انڈیا نے اپنے تمام ہمسائیوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی ہے تاہم اس بات کو بھی یقینی بنایا ہے کہ دہشت گردی کو ایک عالمی مسئلے کے طور پر دیکھا جائے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘ہم پاکستان پر دباؤ ڈالنے میں کامیاب رہے اور اسی وجہ سے پاکستان کے رویے میں تبدیلی آئی ہے۔’

ایف اے ٹی ایف کے رواں سال جون میں ہونے والے اجلاس اور پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ سامنے آنے سے ایک روز قبل ہی پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے دعویٰ کیا تھا کہ انڈیا ایف اے ٹی ایف کے فورم کو ‘سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے’ اور انڈیا کو اس فورم کے سیاسی استعمال کی اجازت نہیں ملنی چاہیے۔

پاکستانی وزیرِ خارجہ نے کہا تھا کہ ’ایف اے ٹی ایف ایک تکنیکی فورم ہے جسے سیاسی معاملات کو نمٹانے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔‘

پاکستان ایف ٹی ایف میں انڈین اثر و رسوخ کا الزام کیوں عائد کرتا ہے؟

ایف اے ٹی ایف
،تصویر کا کیپشن’انڈین وزیر خارجہ کے پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں رکھنے کے کیلئے دباؤ ڈالنے سے متعلق بیان نے انڈیا کے اصل عزائم کو بے نقاب کیا ہے‘

دنیا بھر میں منی لانڈرنگ اور شدت پسندوں کی مالی امداد روکنے کے لیے ایف اے ٹی ایف کی جانب سے 40 سفارشات مرتب کی گئی ہیں اور ان سفارشات پر عملدرآمد کو مدنظر رکھتے ہوئے رکن ممالک کو گرے یا بلیک لسٹ میں شامل کیا جاتا ہے۔

سنہ 2018 میں جب پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیا گیا تھا تو پاکستان کے مالی نظام اور قوانین کو ایف اے ٹی ایف کی 40 میں سے 13 سفارشات کے مطابق پایا گیا جبکہ باقی 27 سفارشات پر عمل درآمد کرنے کے لیے پاکستان کو وقت دیا گیا۔

پاکستان اب تک ان 27 میں سے 26 سفارشات پرعملدرآمد کر چکا ہے لیکن گذشتہ ماہ ہونے والے ایف ٹی ایف کے اجلاس میں پاکستان کو تمام سفارشات پر عملدرآمد مکمل ہونے تک گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جسے پاکستان کی جانب سے ’مایوس کُن‘ قرار دیا گیا۔

پاکستان کا دعویٰ ہے کہ دہشتگروں کو مالی معاونت اور منی لانڈرنگ روکنے کے خلاف متاثرکن کارکردگی کے باوجود پاکستان کو انڈیا کے دباؤ کی وجہ سے گرے لسٹ سے نہیں نکالا گیا۔

اسلام آباد کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے سربراہ اور انسداد دہشتگردی کے ماہر ڈاکٹر خرم اقبال کا کہنا ہے انڈیا کے دباؤ کی وجہ سے پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کے دعوے کے پیچھے چند ایسے شواہد ہیں جن کی بنیاد پر پاکستان مسلسل اس مؤقف کو دہراتا آیا ہے۔

’ایف اے ٹی ایف کے کئی تیکنیکی نکات ایسے ہیں جن پر بہت سے مملک عمل پیرا نہیں ہیں لیکن جب اس پر دیگر مملک کو کلین چٹ دی جاتی اور انھی معاملات پر پاکستان کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو پاکستان کے نزدیک یہ ایک واضح ثبوت ہے۔‘

گذشتہ ایک سال میں ایف اے ٹی ایف کی جانب سے منگولیا، گھانا اور بہاماس کو گرے لسٹ سے نکالا گیا ہے۔ ان ایف اے ٹی ایف وفود کی جانب سے منگولیا، گھانا اور بہاماس کا آن سائٹ ویزٹ کیا گیا جس کے بعد ان ممالک کو گرے لسٹ سے نکالا گیا جبکہ پاکستان نے بھی ننانوے فیصد ایکشن پوائنٹس مکمل ہونے پر آن سائٹ ویزٹ کی درخواست کی لیکن تاحال ایف اے ٹی ایف کی جانب سے اس ویزٹ کی کوئی تاریخ نہیں دی گئی۔

ایف اے ٹی ایف

ڈاکٹر خرم کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے بیشتر بین الاقوامی اداروں پر جو سب سے بڑی تنقید کی جاتی وہ یہی ہے کہ ان اداروں کو طاقتور ممالک نے ہمیشہ اپنے جُغرافیائی سیاسی (جیو پولیٹیکل) مفادات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی ادارے جیساکہ ایف اے ٹی ایف میں فیصلہ سازی ان ممالک پر زیادہ منحصر ہوتی ہے جو فورم کے مستقل رکن ہوتے ہیں اور یہ ممالک اپنے مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے بعض اوقات فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

ایف اے ٹی ایف کی فیصلہ سازی میں بھی 37 رکن ممالک شامل ہے جن میں انڈیا بھی ہے۔ اس کا علاوہ ایف اے ٹی ایف کے ذیلی ادارے ایشیا پیسفک گروپ، جو کہ گرے لسٹ میں شامل ایشائی ممالک کی کارکردگی اور ایکشن پلان پر پیش رفت پر رپورٹ مرتب کرتا ہے، کا شریک چیئر انڈیا ہے۔

ایف اے ٹی ایف کی جانب سے جس ایک سفارش پر کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیا گیا اس کے مطابق پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کا عملی مظاہرے کریں کہ وہ ان کالعدم دہشتگرد تنظیموں، جن کا نام اقوام متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل ہے، اور ان کے رہنماؤں اور ان تنظیموں کے لیے کام کرنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔

ڈاکٹر خرم کا کہنا ہے کہ ایف ٹی ایف کی جانب سے اس سفارش کے تحت حکومت پاکستان پر زور دیا جا رہا ہے کہ جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کے حوالے سے اب تک کیے گئے اقدامات تسلی بخش نہیں۔

یہ تمام وہ تنظیمیں اور افراد ہیں جن کے خلاف کارروائی کا مطالبہ انڈیا ماضی سے کرتا آیا ہے۔

ایف اے ٹی ایف کی جانب سے دباؤ کے باوجود کیا وجہ ہے کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی دہشتگردوں کی فہرست میں شامل افراد کے خلاف سخت ترین کاروائی نہیں کی؟ اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر خرم نے کہا کہ پاکستان میں بعض حلقوں کا ماننا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کو خوش کرنے کے لیے جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ سعید کے خلاف سخت کارروائی کے پاکستان کی داخلہ سکیورٹی پر منفی نتائج ہو سکتے ہیں اور شاید یہی ایک وجہ ہے کہ پاکستان اس حوالے سے وہ سب کچھ نہیں کر پا رہا جس کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

حافظ سعید
،تصویر کا کیپشنحافظ سعید

’جماعت الدعوۃ اور داعش دونوں ہی تنظیموں کا تعلق سلفی مکتب فکر سے ہے۔ لیکن جماعت الدعوۃ نے پاکستان کے قومی دھارے میں شامل ہونے پر رضامندی ظاہر کی تھی جس کی وجہ سے پاکستانی حکام جماعت الدعوۃ کے ذریعے داعش کے نظریے اور پاکستان میں اس جماعت پر قابو پانے میں بہت حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔‘

’اگر پاکستان جماعت الدعوۃ کے امیر کو سخت سزا دیتا ہے اور اس کے نتیجے میں جماعت الدعوۃ کی دھڑا بندی ہوتی ہے تو ہو سکتا ہے کہ داعش کی خطے میں حمایت کو تقویت ملے گی جس کے پاکستان کی داخلہ سکیورٹی کے لیے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔‘

ڈاکٹر خرم کا کہنا ہے کہ انڈیا کے مبینہ دباؤ کی وجہ سے ایف اے ٹی ایف پاکستان کو درپیش ان پیچیدگیوں کو سمجھنے سے قاصر ہے۔

’یہ ایک اچھا موقع ہے کہ پاکستان اور انڈیا بیٹھ کر جماعت الدعوۃ کے خلاف ایک مشترکہ پالیسی ترتیب دیں جس میں اس گروپ کو تشدد کو مکمل طور پر رد کر کے قومی دھارے میں شمولیت پر مجبور کریں۔‘

اگر پاکستان ایسا کر لیتا ہے تو نہ صرف پاکستان ایف اے ٹی ایف کا ایکشن پلان مکمل کر لے گا بلکہ انڈیا کے ساتھ موجود دہشتگری سے متعلق دیرینہ مسئلہ حل کر پائے گا۔

بی بی سی اردو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: