پاکستان کے مختصرقرضوں کی واپسی کی مدت میں کمی، رپورٹ

پاکستان کے مختصرقرضوں کی واپسی کی مدت میں کمی، رپورٹ

اسلام آباد: وزارت مالیات نے جمعے کے روز جاری ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے گزشتہ مالی سال کے دوران قرضوں کی واپسی کی مدت میں مزید کمی واقع ہوئی ہے اور اس کی وجہ حکومت کا مختصر مدت کے قرضوں پر انحصار کرنا ہے۔ 

رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف حکومت کی جانب سے گزشتہ مالی سال کے دوران مختصر مدت کے قرضوں پر زیادہ انحصار کیا گیا جس کی وجہ سے ان قرضوں کی مدت جلد ختم ہوجاتی ہے اور حکومت کو ان کی ادائیگی کے لیے نئے قرض لینے پڑے جس کے باعث بڑھتے ہوئے افراط زر کے نتیجے میں شرح سود میں اضافہ کرنا پڑا۔

رپورٹ کے مطابق کرنسی کی قدر سے متعلق اشاریوں میں بہتری رہی جس کی وجہ بیرونی قرضہ جات میں کمی اور مجموعی قومی پیداوار کے مقابلے میں مجموعی قرضہ جات میں بھی کمی واقع ہونا ہے۔

رپورٹ میں درمیانیے مدت کے قرضہ جات کی انتظام کاری، مجموعی حکومتی قرض اور حکومت کی جانب سے مختلف قرضہ جات کے بدلے میں دی جانے والی ضمانتوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے مقامی قرضہ جات کی واپسی کی مدت چار سال ایک ماہ سے کم ہو کر ساڑھے تین سال رہ گئی ہے جبکہ حکومت کا ہدف ہے کہ اس مدت کو کم از کم چار سال پر رکھا جائے۔ اسی طرح بیرونی قرضہ جات کی واپسی کی مدت بھی کم ہوئی ہے جو پہلے سات سال تھی مگر اب وہ کم ہوکر چھ سال آٹھ ماہ رہ گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران قرض سے متعلق جو اہداف مقرر کیے گئے تھے  وہ مکمل طور پر حاصل نہیں کیے جاسکے جن کی وجوہات میں وفاقی سطح پر مالیاتی خسارہ، مقررہ ہدف سے کم تعداد میں سکوک بانڈز کا جاری کرنا اور دیگر وجوہات شامل تھیں۔

قرضہ جات کی مدت میں کمی ایک ایسے وقت واقع ہوئی ہے جب مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں اضافہ کیا گیا اور اس بات کے امکانات ہیں کہ اس میں مزید اضافہ ہوگا اور حکومت کو ان مختصر مدت کے قرضوں سے نجات کے لیے مزید مہنگے قرضہ جات حاصل کرنا ہوں گے۔

رپورٹ کا کہنا ہے کہ کہ مقامی طور پر حاصل کیے گئے قرضہ جات میں سے نصف قرضہ جات حکومتی سیکورٹیز کی مد میں نجی بینکوں نے حاصل کیے ہیں اور حکومت کو اس مد میں نجی بینکوں کو 12 کھرب 80 ارب روپے ادا کرنا ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حاصل کردہ مجموعی حکومتی قرض کے نصف کی مدت اگلے تین سال میں مکمل ہورہی ہے اور یہ مقامی قرضہ جات کے 37 فیصد کے مساوی ہے۔

ایکسپریس نیوز

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: