پولیٹیکل  ایف اے ٹی ایف؟

پولیٹیکل ایف اے ٹی ایف؟

تحریر عاصم اعجاز

گذشتہ ہفتے ایف اے ٹی ایف کا اجلاس ہوا۔ جس میں اس بات کو تو مانا گیا کہ پاکستان نے 27 میں سے 26 شرائط پر عمل کیا ہے لیکن ابھی پاکستان کو گرے لسٹ میں ہی رکھا جائے گا۔

اپنی پچھلی تحریر میں اس فقیر نے لکھا تھا کہ اگرچہ ایف اے ٹی ایف کے مطالبات کو پورا کرنے میں مالیاتی اداروں نے بے مثال کامیابی کیا ہے لیکن اس خدشے کا اظہارکیا تھا کہ بینکنگ کا نظام پہلے جیسا نہیں رہا۔ آپ کسی بڑی رقم کو نقدی کی صورت اپنے اکائونٹ میں جمع کروانا چاہیں تو مشکوک تصور ہوتے ہیں۔اس رقم کے حصول کا ذریعہ دستاویزی صورت میں فراہم کرنا ہوتا ہے۔ ممکنہ سوالات سے گھبرا کر عام کاروباری افراد کی کثیر تعداد نے بینکوں میں رقم جمع کرنے سے اجتناب برتناشروع کردیا۔اس کی بدولت ڈالر اور سونے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ کمال بات تو یہ ہے کہ ایک طرف ہر ٹرانزنکیشن کا دستاویزی ثبوت مانگا جا رہا ہے۔ دوسری طرف ہمارے ہاں زمینوں کی خریدوفروخت میں ان دنوں جو رونق نظر آرہی ہے اس کی بنیادی وجہ یہ فیصلہ ہے کہ جائیداد خریدنے والے سے فی الوقت کوئی سوال نہیں پوچھے جائیں گے۔ یہ رونق بھی تاہم وقتی ہے۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے باہر آنے کے لئے سوالات پوچھنالازمی ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے نئے ایکشن پلان کے تحت پاکستان چار غیر نامزد مالیاتی کاروبار اور پیشے (ڈی این ایف بی پی ایس) کی جانچ پڑتال کرنے کا پابند ہے، جس میں رئیل اسٹیٹ ایجنٹس، جیولرز، وکلا اور اکائونٹنٹس شامل ہیں جو متعلقہ صارفین سے متعلق مشتبہ ٹرانزیکشنز رپورٹس (ایس ٹی آرز) بناتے ہیں۔ اگر ایف اے ٹی ایف کے نئے ایکشن پلان پر عمل درآمد میں ناکام ہوئے تو دیگر سخت اقدامات بھی ہوسکتے ہیں۔ اب پاکستان کو موثر مانیٹرنگ کے ذریعے پابندیاں عائد کرنے کے لیے سخت اقدامات کا پابند بنایا گیا ہے، جو کہ جرمانوں کی صورت ہوگی۔ اس کے علاوہ جو ایف اے ٹی ایف شرائط پوری کرنے میں ناکام ہوئے انہیں نوٹسز جاری کرنے کے بعد ان کے کاروبار کو سیل کردیا جائے گا۔

ایس ٹی آرز ایسے صارفین کے خلاف جاری ہوں گے جو کسی اثاثے کو خریدنے کے لیے اپنی مالی حیثیت سے متعلق مطمئن کرنے میں ناکام ہوں گے۔ ایف بی آر پہلے ہی انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن (آئی اینڈ آئی)، ان لینڈ ریونیو سروس (آئی آر ایس) کے تحت ڈی این ایف بی پی ایس تشکیل دے چکا ہے اور اب تک 50 ہزار کے قریب رئیل اسٹیٹ ایجنٹوں، جیولرز، اکائونٹنٹس اور وکلا کو نوٹسز بھیجے جاچکے ہیں اور ان کی متعلقہ باڈیز سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ایف بی آر کی مشاورت سے ایسا طریقہ کار بنائیں جس سے ایف اے ٹی ایف کی شرائط پوری ہوسکیں۔ مارچ، 2021 میں رئیل اسٹیٹ ایجنٹوں کو بھیجے گئے تحریری نوٹسز میں کہا گیا تھا کہ آپ کو جو سوال نامہ بھجوایا گیا تھا اسے انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت بروقت جمع کرنے کا کہا گیا تھا لیکن آپ یاددہانی کے باوجود اسے جمع کرنے میں ناکام رہے۔ اب آپ کو آخری موقع دیا جارہا ہے، ناکامی کی صورت میں پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں۔ 

ایف اے ٹی ایف کے نئے مطالبات کو لے کر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا یہ کہنا تھا کہ یہ ایک سیاسی فیصلہ ہے۔ ان کا کہناتھا

کہ “دیکھنا ہو گا کہ اس فورم کو سیاسی مقاصد کے لیے تو استعمال نہیں کیا جا رہا۔”۔

دوسری طرف

یوروپی یونین نے کہا ہے کہ منی لانڈرنگ کے خلاف جنگ اپن اولین ترجیح ہے۔

یوروپی یونین کا کہنا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ پاکستان سمیت تمام ممالک کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ذریعہ بتائے گئے اقدامات پر عمل کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

یوروپی یونین کی جانب سے یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ان کے ترجمان سے سوال کیا گیا کہ 27 میں سے 26 نکات پر عمل درآمد کے باوجود پاکستان کو ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ میں کیوں رکھا گیا ہے۔

یوروپی کمیشن کے ترجمان ڈینیئل فیری نے کہا کہ دہشت گردی کی مالی اعانت اور منی لانڈرنگ کی روک تھام یورپی یونین کی اولین ترجیحات ہیں۔

انہوں نے کہا ، “آپ نے دیکھا ہوگا کہ حالیہ برسوں میں ہم نے جو اقدامات اٹھائے ہیں ان میں سے بیشتر اقدامات صرف یورپی یونین کے لئے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لئے بھی اہم ہیں۔”

ترجمان نے کہا کہ وہ ایف اے ٹی ایف کے اقدامات پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے ، لیکن یہ کہنا چاہتے ہیں کہ دہشت گردی کی مالی اعانت اور منی لانڈرنگ کے خلاف جنگ یورپی یونین کی اولین ترجیح ہے۔

یورپی یونین ہر ماہ یورپی یونین کی سرحدوں کے اندر منی لانڈرنگ روکنے کے لئے اپنے منی لانڈرنگ کے انسداد قوانین میں بہتری کے لئے مختلف فیصلے کرتی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ یوروپی یونین کے بہت سے ممبر ممالک سخت قوانین پر عمل نہیں کررہے ہیں اور جلد ہی اس پر عمل درآمد نہ کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا

پاکستان نے حال ہی میں اس بارے میں ایک سوال اٹھایا تھا کہ کیا ایف اے ٹی ایف تکنیکی یا سیاسی ادارہ ہے؟

یورپ میں مقیم ایک سفارت کار نے بتایا کہ اس طرح کا بیان دے کر پاکستان کی خدمت نہیں کی جارہی اور اسے یورپی دارالحکومتوں نے منفی طور پر قبول کیا ہے۔

اس سفارتکار نے پاکستان کو مشورہ دیا کہ وہ بین الاقوامی اداروں خصوصا اقوام متحدہ سے وابستہ اداروں جیسے ایف اے ٹی ایف کے خلاف بیان بازی کا بیان جاری نہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کے بیانات پاکستان کے مفاد کے لئے سخت نقصان دہ ہیں”۔

ایف اے ٹی ایف کا مسئلہ بہت سنجیدہ ہے اور اسے سنجیدگی سے اور تکنیکی طور پر ہی حل کرنا ہے ۔ کسی طرح کی سیاسی بیان بازی، بڑکوں سے آپ ہیڈ لائنز میں تو رہ سکتے ہیں لیکن اس سے ملکی مفاد کو درپیش مسائل میں اضافہ ہی ہوگا۔کمی نہیں۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: