ڈرامہ پھانس- تبصرہ

ڈرامہ پھانس- تبصرہ

تحریر عاصم اعجاز

اس جمعہ ڈرامہ سیریل پھانس کی آخری قسط پیش کی گئی۔ جب یہ ڈرامہ شروع ہوا تو خیال یہی تھا کہ یہ سپرہٹ ہوگا لیکن جیسے جیسے اس کی اقساط نشر ہونا شروع ہوئیں ویسے ویسے ناظرین کی دلچسپی کم ہوتی گئی اور ایک عام روایتی ڈرامہ ثابت ہوا۔

اس ڈرامے کی واحد خوبی شہزاد شیخ کی اداکاری تھی جس کے کئی شیڈز تھے۔ ایک دماغی طور پر معذور بچہ جس پر اس کے گھر کی ملازمہ زارا نور زیادتی کا الزام عائد کرتی ہے لیکن کوئی بھی اس معذور بچے کی معصومیت کی وجہ سے اس پر عائد جنسی زیادتی کے الزام کو ملازمہ زارا نور کے پیسے اینٹھنے کی سازش سمجھتے ہیں۔ جب کہ یہ بچہ ایک حقیقی طور پر ایک تندرست نارمل مرد ہے،جس نے ذہنی مریض کا بھیس اس لئے اوڑھ رکھا ہے تاکہ وہ اپنے گھناؤنے عزائم کو پورا کرتا رہے۔

گھریلو ملازماوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتا رہے اور کوئی اس پر شک نہ کرے۔ اسے اس کام میں اس کے باپ کی سرپرستی حاصل ہے جو ان ملازماوں کو اپنی دولت کے گھمنڈ میں ڈرا،دھمکا کر خاموش کروادیتا ہے۔محض اس لئے کہ اس کا بیٹا ذہنی طور پر معذور ہے۔

شہزاد شیخ کا گھناونا کام اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک وہ زارا نور کو اپنی ہوس کا نشانہ نہیں بنالیتا اور زارا نور دوسری لڑکیوں کی طرح خاموش نہیں رہتی اور حصول انصاف کے لئے اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔

زارا نور اپنے لئے انصاف کی تلاش میں دربدر کی ٹھوکریں کھاتی ہیں لیکن علی طاہر(جس نے شہزاد شییخ کے والد کا کردار ادا کیاہے) کے پیسے کی طاقت کی وجہ سے انصاف حاصل نہیں کر پاتی۔

زارا نور کی انصاف کے حصول کے لئے یہ جنگ اس وقت تک جاری رہتی ہے جب تک کہ شہزاد شیخ کا اصل چہرہ اس کی ماں کے سامنے نہیں آجاتا۔ جس کے بعد وہ فیصلہ کرتی ہے کہ اسے زارا کا ساتھ دینا ہے باوجود اس کے کہ اس کا شوہر ابھی بھی اس کے بیٹے کے ساتھ کھڑا ہے۔

آخری قسط میں شہزاد شیخ کا اصل چہرہ سب کے سامنے کھلا اور اسے عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ زارا نور عباس اور شہزاد شیخ کی کارکردگی اتنی اچھی تھی جتنی ہوسکتی ہے۔ لیکن اس قسط کی خاص بات شہزاد شیخ کی ماں کی

تقریر تھی جس میں وہ اپنے بیٹے کی تربیت میں کمی کا اعتراف

کرتی ہے ۔

اس ڈرامہ سیریل کا پیغام بہت اہم تھا کہ والدین لڑکوں کی تربیت لڑکیوں کی طرح کریں ۔ اور لڑکیاں اپنے خلاف ہونے والی زیادتیوں پر خاموش مت رہیں اور اس کا جواب دیں ، لیکن یہ سیریل محض اپنی طوالت کی وجہ سے یہ پیغام اپنے ناظرین تک نہ پہنچا سکی۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: