کرپٹو کرنسی: کالا دھن سفید کرنے کا وہ طریقہ جس سے سائبر کرمنلز گرفتاری سے بچ سکتے ہیں

کرپٹو کرنسی: کالا دھن سفید کرنے کا وہ طریقہ جس سے سائبر کرمنلز گرفتاری سے بچ سکتے ہیں

انٹرنیٹ کی دنیا میں سائبر مجرمان اور حکام کے درمیان ایک ان دیکھی جنگ، برسوں سے جاری ہے۔ ’فالو دی منی‘ یعنی کے پیسے کا پیچھا کرنا وہ بنیادی اصول ہے جس کی تفتیشی حکام جرائم کو بے نقاب کرنے میں ہمیشہ پاسداری کرتے ہیں۔

حالانکہ کرپٹو کرنسی کی نوعیت ایسی ہے کہ اس میں چھان بین اتنی آسان نہیں ہے لیکن اس کے باوجود درجنوں کی تعداد میں سائبر مجرمان کو گرفتار کیا جاتا رہا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ کرپٹو کرنسی کا سراغ لگانے کے نت نئے طریقے موجود ہیں جو حکام استعمال کر رہے ہیں۔ جیسا کہ کسی ایک والٹ (اکاؤنٹ) سے کسی دوسرے والٹ میں منتقل کی جانے والی کرپٹو کرنسی کی تعداد کا پتا لگانا، یہ معلومات عام طور پر انٹرنیٹ پر بھی موجود ہیں۔

کیا حالات بدل رہے ہیں؟

ڈارک ویب پر ایک نئی سروس شروع کی گئی ہے جو کہ صارفین کو یہ بتاتی ہے کہ ان کے والٹ میں موجود رقم کے ذرائع کیا ہیں۔ مطلب یہ کہ اس میں غیر قانونی ذرائع سے حاصل کی گئی رقم کی شرح کتنی ہے۔

کرپٹو کرنسی سے متعلق تجزیے کرنے والی کمپنی ایلپٹک کے چیف سائنٹسٹ ڈاکٹر ٹام رابنسن کو حال ہی میں اس حوالے سے سروس مہیا کرنے والی ویب سائٹ ملی جو کہ اپنی نوعیت کی پہلی سروس ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘ہم دیکھ رہے ہیں کہ مجرم بلاک چین (کرپٹو) سے متعلق تحقیق کے ذریعے کی گئی کارروائیوں سے بچنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔’

‘اس ویب سائٹ کا نام اینٹی اینیلسس ہے اور یہاں صرف تین ڈالر خرچ کر کے مجرم اپنے بٹ کوائن والٹ کو چیک کر رہے ہیں تاکہ یہ پتا چل سکے کہ انھیں حکام کسی جرم کے ساتھ منسلک تو نہیں کر سکتے۔’

ایلپٹک کمپنی کا کہنا ہے کہ ‘اس تحقیق سے یہ پتا چلتا ہے کہ سائبر کرائم نیٹ ورک کیسے پیچیدہ اور جامع طریقے کار اختیار کر رہے ہیں۔ اور یہ بھی کہ انھیں پکڑے جانے کا کتنا ڈر ہے۔‘

‘یہ ایک بہت ہی قیمتی تکنیک ہے۔ اگر آپ کی دولت صاف نہیں ہے تو آپ مزید منی لانڈرنگ کا استعمال کر کے اس دولت کو اس سے منسلک جرائم سے پاک نہیں کر سکتے۔‘

ڈاکٹر رابنسن کہتے ہیں کہ ’یہ نئی روایت پریشان کن ہے کیونکہ اس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے مزید مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’خوش قسمتی سے ان کی کمپنی کے محققین نے جب اس سروس کی جانچ کی تو یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ بھی پوری طرح سے درست نتائج نہیں دے رہی۔

تاہم وقت کے ساتھ ساتھ اس میں بہتری آتی جائے گی جس سے یہ مجرموں کے لیے ایک بہت بڑا ہتھیار ثابت ہو گا۔‘

چین، برطانیہ اور متحدہ عرب امارات سمیت دنیا بھر میں حکومتیں کرپٹو کرنسی کے ذریعے ہونے والی منی لانڈرنگ کے مسئلے کو حل کرنے میں لگی ہوئی ہیں۔

اس حوالے سے چند اہم گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں، حال ہی میں امریکی نوعمر لڑکے گراہم ایون کلارک خاصا مشہور ہوا تھا، جو سوشل میڈیا کی تاریخ کی سب سے بڑی ہیکنگ کرنے پر سزا کاٹ رہے ہیں۔

کلارک نے معروف شخصیات کے ٹوئٹر اکاؤنٹ ہیک کرنے کا طریقہ کار ڈھونڈ نکالا تھا۔ اسے استعمال کرتے ہوئے انھوں نے کم کرڈیشیئن، ایلون مسک، بل گیٹس اور امریکی صدر جو بائیڈن کے اکاؤنٹ ہیک کیے تھے۔

کلارک اور ان کی ہیکر ٹیم نے ہیک کیے ہوئے اکاؤنٹس سے ٹویٹ کیں کہ وہ عوام کو مفت کرپٹو دے رہے ہیں

اس جعلی ٹویٹ اور پیشکش کے بعد ان ہیکرز نے صرف دو گھنٹے میں ایک لاکھ ڈالر جمع کر لیے اور پھر اس رقم کو منتقل کرنے کا عمل شروع کیا۔

لیکن یہ اس میں کامیاب نہیں ہو پائے۔ امریکی محکمہ انصاف نے اپنی چارج شیٹ میں کہا کہ حکام نے بلاک چین اور پوشیدہ بٹ کوائن ٹرانزیکشنز کو بے نقاب کیا اور ان ہیکرز کا سراغ لگا لیا۔

کلارک جن کی عمر اب 18 برس ہے، فلوریڈا کے ایک جیل میں تین برس کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

پرائیویسی کوائن کی مقبولیت

ایک اور نیا ٹرینڈ جو حکام کو پریشان کر رہا ہے وہ پرائیویسی کوائن کا استعمال ہے۔

مونیرو اور ایکس آر پی جیسی کرپٹو کرنسیز کا بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیز کے مقابلے میں سراغ لگانا مشکل ہے۔ حال ہی میں تاوان کے کچھ کیسوں میں ہیکروں نے نشانہ بنانے والوں کو ان کرپٹو کرنسی میں رقم ادا کرنے کا کہا اور اس کے بدلے انھیں ڈسکاؤنٹ کی بھی پیشکش کی ہے۔

کرپٹو کرنسی کی تحقیق کرنے والی ایک کمپنی چین اینییلیسز کے ڈائریکٹر کم گرور کے مطابق یہ ٹرینڈ بھی ابھی پوری طرح سے مارکیٹ میں مقبول نہیں ہوا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’پرائیویسی کوائن اس حد تک نہیں اپنائے گئے ہیں جس کی توقع تھی۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ انھیں کیش کرنا اتنا آسان نہیں جتنا کہ بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیز کو ہے۔‘

‘کرپٹو کرنسی تب ہی آپ کے کام کی ہے جب آپ اس سے کچھ خرید سکیں یا اسے بیچ سکیں۔ یا پھر اسے استعمال کر کے کیش نکال لیں۔ پرائویسی کوائن کے ساتھ ایسا کرنا مشکل ہے۔‘

بی بی سی

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: