کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے بھوک میں بھی اضافہ

کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے بھوک میں بھی اضافہ

اقوام متحدہ کی سالانہ رپورٹ کے مطابق معیشت پر کورونا وائرس کے جو اثرات مرتب ہوئے ہیں اس کے سبب بھوک کا سامنا کرنے والے افراد کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کی  12 جولائی پیر کے روز شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس کورونا وائرس کی وبا نے عالمی سطح پر فاقہ کشی کا سامنا کرنے والے افراد کی تعداد میں بھی کافی اضافہ کر دیا ہے۔ اس کے مطابق گرچہ بھوک سے دوچار افراد کی تعداد میں عالمی سطح پراضافہ ہوا ہے تاہم جنگ زدہ علاقوں کے عوام سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کی کوشش ہے کہ سن 2030 تک عالمی سطح پر بھوک یا فاقہ کشی پر مکمل طور پر قابو پا لیا جائے اور ہر شخص کو پیٹ بھرنے کے لیے آسانی سے کھانا میسر ہو تاہم اس وبا کی وجہ سے 2020 میں اس میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا ہے اور اس طرح اس کی ان کوششوں کو بھی دھچکا لگا ہے۔

رپورٹ میں کیا کہا گیا ہے؟

اقوام متحدہ کی ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سن 2019 کے مقابلے میں سن 2020 میں عالمی سطح پر تقریباً پونے بارہ کروڑ مزید افراد کو فاقہ کشی کا سامنا کرنا پڑا اور اس طرح بھوک مری کی شرح میں تقریباً 18 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا۔

اس رپورٹ کے تخمینے کا اگر اوسط بھی لیا جائے تو مجموعی طور پر 768 ملین افراد فاقہ کشی سے دو چار ہوئے جو دنیا کی تقریباً دس فیصد آبادی کے برابر ہے۔ رپورٹ تیار کرنے والے ماہرین کے مطابق 2020 میں فاقہ کشی کی شرح نے شرح پیدائش کی شرح کو بھی پیچھے چھوڑ دیا

فوڈ سکیورٹی اور غذائیت سے متعلق سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سن، ”2020 میں دنیا بھر میں تقریباً ہر تین میں سے ایک شخص  (یعنی دو سو 37 کروڑ) لوگوں کو مناسب خوراک تک رسائی حاصل نہیں رہی اور جس میں گزشتہ صرف ایک برس کے اندر 320 ملین افراد کا اضافہ ہوا ہے۔”

اس رپورٹ کے مطابق خطہ افریقہ میں سب سے زیادہ فاقہ کشی  میں اضافہ دیکھنے میں آیا جہاں اس وقت تقریباً 21 فیصد آبادی کم غذائیت کا شکار ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق اس کی وجہ سے پانچ برس سے کم عمر کے تقریباً ڈیڑھ کروڑ بچوں میں جسمانی افزائش میں کمی پائی گئی جن کا قد ان کی عمر کے حساب سے کم ہے.

  اسی طرح سے ساڑھے چار کروڑ بچوں کا وزن ان کے قد کے لحاظ سے کم پا یا گیا۔

Madagaskar I Hunger

اقوام متحدہ کی ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ”زیادہ قیمتوں کی وجہ سے تین ارب بالغ افراد اور بچوں کو صحت مند غذاؤں تک رسائی حاصل نہیں ہو پاتی ہے۔” اس کے ساتھ ہی عالمی سطح پر تقریبا ًتین کروڑ نوے لاکھ بچوں کا وزن ان کے قد اور عمر کے لحاظ سے زیادہ پا یا گیا

کووڈ کے اثرات

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے معاشی صورت حال پر کیا اثرات مرتب ہوئے اس کا ابھی تک مکمل جائزہ نہیں لیا جا سکا ہے تاہم اس سے تقریباً تمام کم اور درمیانی آمدن والے ممالک متاثر ہوئے ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ نے بھوک کو ختم کرنے کے لیے سن 2030 تک جو ہدف مقرر کیا تھا وہ بھی متاثر ہوگا اور اب صورت حال یہ ہے کہ اس وقت تک بھی تقریبا ً66 ملین افراد بھوک کا سامنا کر رہے ہوں گے۔ رپورٹ کے مطابق اس کی ایک وجہ وبا کے اثرات ہیں جس سے پوری دنیا متاثر ہو رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس کے علاوہ بھی کئی عوامل اس صورت حال کے لیے ذمہ دار ہیں۔ ”مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران وبائی امراض نے ہمارے کھانے پینے کے کمزور نظام میں پائے جانے والے خطرات کو بھی بے نقاب کردیا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف تنازعات، آب و ہوا کے تغیر، انتہا پسندی، اور معاشی سست روی کے نتیجے میں بھی مندی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔”

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ کے تشویش ناک اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ”بھوک اور غذائیت سے نمٹنے کے لیے دیگر عالمی چیلنجوں سے الگ تھلگ نہیں کیا جا سکتا ہے۔

ڈی ڈبلیو نیوز

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: