کیا طالبان لشکر گاہ پر قبضہ کر کے اسے برقرار رکھ سکیں گے؟

کیا طالبان لشکر گاہ پر قبضہ کر کے اسے برقرار رکھ سکیں گے؟

افغان صوبے ہلمند میں طالبان اور حکومتی فورسز کے درمیان جنگ نے کافی شدت اختیار کر لی ہے۔ طالبان صوبائی دارالحکومت لشکر گاہ میں داخل ہوچکے ہیں جہاں پر انہوں نے سرکاری ریڈیو ٹیلی وژن کے صوبائی دفتر پر قبضہ کر کے یہاں پر بیس سال بعد اپنی نشریات کا آغاز کیا ہے۔

اس کے علاوہ حکومتی فورسز اور طالبان کے درمیان گورنر ہاوس اور شہر کے دیگر حساس علاقوں میں شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ لشکر گاہ میں موجود مقامی افراد کا کہنا ہے کہ شہر کے جن علاقوں پر طالبان کا قبضہ ہے وہاں حکومتی ہوائی فورسز کی جانب سے شدید بمباری جاری ہے جس میں ایک یونیورسٹی کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

افغان طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ہفتے کے روز اپنے ٹوئٹر اکاونٹ سے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتی فورسز نے انڈین حکومت کے فراہم کردہ جنگی جہازوں سے لشکر گاہ کے بڑے ہسپتال کو نشانہ بنایا۔

نامور افغان صحافی بلال سروری کے مطابق منگل کی صبح امریکی ہوائی جنگی جہازوں نے بھی لشکر گاہ میں طالبان جنگجوں پر دو مرتبہ شدید بمباری کی۔

لشکر گاہ میں موجود طالبان ملٹی میڈیا کمیشن کے سربراہ اسد افغان نے راقم الحروف کو منگل کی تازہ صورتحال کے متعلق بتایا کہ طالبان نے لشکر گاہ میں گورنر ہاوس، مرکزی جیل، پولیس، انٹیلیجنس اور فوج کے صوبائی ہیڈکوارٹرز کے علاوہ دیگر تمام سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

مقامی افراد نے اسد افغان کی اس دعوے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ طالبان نے ان عمارتوں کا محاصرہ کر رکھا ہے جس سے حکومتی فورسز ایک دوسرے کی مدد کو نہیں پہنچا پا رہیں۔ اسد افغان نے دعویٰ کیا کہ طالبان نے لشکر گاہ میں واقع صوبے کے واحد ائیر پورٹ کا بھی مکمل محاصرہ کر رکھا ہے اور ان کے جنگجو کسی جہاز کو اڑنے یا اترنے نہیں دے رہے ہیں۔

صحافی بلال سروری نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ طالبان نے منگل کی صبح ایک موٹر بم حملے میں لشکر گاہ جیل کو نشانہ بنایا جس سے جیل کے ایک طرف کی دیوار منہدم ہوچکی ہے۔

بلال سروری نے مزید بتایا کہ شدید لڑائی کی وجہ سے مقامی لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے اور لوگ اپنے گھروں میں قید ہیں۔

ماضی قریب میں ہلمند کے دیگر اضلاع سے بھی اکثر لوگ طالبان کی پیش قدمی کے بعد صوبائی مرکز سے نقل مکانی کر چکے تھے جس کی وجہ سے اب شہر میں کھانے پینے کی اشیا کی شدید قلت ہے۔

شہر کے مرکزی بازار کے نصف حصہ پر حکومتی فورسز کا کنٹرول ہے اور باقی طالبان کے زیر قبضہ ہے۔ شدید لڑائی کی وجہ سے زخمیوں کو ہسپتال پہنچانا مشکل ہے۔

طالبان نے گذشتہ روز سوشل میڈیا پر کچھ ایسی ویڈیوز بھی نشر کیں جن میں دو درجن کے قریب ان افغان فوجیوں کو دکھایا گیا اور ان سے بات چیت کی گی جو ان کے بقول لشکر گاہ میں انھوں نے پکڑے تھے۔ بلال سروری کے مطابق پکڑے گیے فوجی اور حکومتی اہلکار طالبان کو دیگر فوجیوں اور حکومتی اہلکاروں کی نشاندہی کررہے ہیں جو لشکرگاہ سے فرار ہونے کی کوششوں میں ہے۔

افغانستان

لشکر گاہ کی اہمیت کیا ہے؟

طالبان کے قریب سمجھے جانے والے افغان صحافی نصیب زدران کے مطابق تاریخی لحاظ سے جس کا ہلمند پر کنٹرول رہا ہے، اسے افغانستان کے جنوبی اور مغربی صوبوں میں برتری حاصل رہتی ہے۔ زدران کے مطابق لشکرگاہ پر طالبان کے قبضہ سے افغانستان کے جنوبی اور مغربی صوبے خصوصاً ہرات اور قندھار مکمل طور پر طالبان کے کنٹرول میں آجائیں گے۔ اس لیے طالبان اور حکومت دونوں جانب سے لشکر گاہ پر قبضہ کی اس جنگ نے ایسی سخت شدت اختیار کی ہے۔

تین ماہ قبل یکم مئی کو جب افغان طالبان نے گذشتہ سال فروری میں امریکہ کے ساتھ کیے گئے دوحہ معاہدے کی جنگ بندی کے مدت کے اختتام پر اپنے حملوں کا آغاز کیا تو طالبان نے اس کی شروعات بھی ہلمند سے ہی کی تھی۔

طالبان نے صوبائی دارالحکومت لشکر گاہ کے علاوہ ناوا اور نہر السراج اضلاع پر شدید منظم حملے کیے جنہیں شروع میں حکومتی فورسز کے مقابلے میں کئی کامیابیاں ملیں مگر محض چند روز کے بعد حکومتی فورسز نے شدید فضائی بمباری کی مدد سے طالبان کو نہ صرف پیچھے دکھیل دیا بلکہ ان کو شدید نقصانات سے بھی دوچار کیا۔ مگر اب طالبان نے ہلمند کے تمام پندرہ اضلاع پر قبضہ کر لیا ہے۔

ہلمند افغانستان کے جنوب میں واقع ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے جس کی سرحدیں پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاوہ سات افغان صوبوں کے ساتھ ملتی ہیں جن میں قندھار، نیمروز، فراہ، غور، دایکندی، ارزگان اور زابل شامل ہیں۔

ہلمند افغان طالبان کا ایک تاریخی مضبوط گڑھ رہا ہے جو نائن الیون کے بعد ان افغان صوبوں میں شامل تھا جہاں پر طالبان نے جلد ہی اپنے قدم جمائے۔ یہ وہ صوبہ ہے کہ جہاں پر امریکہ اور اس کی اتحادی افواج کو طالبان کی تاریخی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ ہلمند کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ افیون کی کاشت اور پیداوار کی اہم جگہ ہے ۔

صحافی و تجزیہ کار ڈاکٹر داود اعظمی نے راقم الحروف کو بتایا کہ پچھلے بیس سالوں میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ طالبان نے لشکر گاہ کی اندرونی اہم جگہوں تک رسائی حاصل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ افغان زمینی فورسز کو بعض جگہوں ميں طالبان کے مقابلے میں ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے مگر ان کو فضائی بمباری کی مدد حاصل ہے جو ان کے خیال میں طالبان کی پیش قدمی آہستہ کر کے يا روک کر ان کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کرسکتی ہے۔

افغانستان میں انٹرنیشل کرائسز گروپ سے وابسطہ تجزیہ کار انڈریو واٹکنز کا کہنا ہے کہ لشکر گاہ کی صورتحال انتہائی خراب ہے، اس شہر کے باہر سے روابط بالکل کٹ چکے ہیں اور اگر طالبان کے حالیہ حملے سے اس کا دفاع کر لیا بھی جائے تو پھر بھی حکومتی فورسز اس صورتحال میں شاید زیادہ دیر تک اس پر اپنا قبضہ برقرار نہ رکھ سکیں۔

افغانستان

ان کے مطابق اگرچہ یہ یقینی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ آیا لشکر گاہ وہ پہلا صوبائی دارالحکومت اور بڑا شہر ہوگا جو طالبان کے قبضہ میں آجائے گا مگر یہ واضح ہے کہ اس شہر پر قبضہ طالبان کے اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

واٹکنز جو ماضی میں افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے سیاسی مشن کا بھی حصہ رہ چکے ہیں، انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ لشکر گاہ پر ممکنہ طالبان کا قبضہ ان کے ان حالیہ دعوں کی نفی کرتا ہے جس میں طالبان نے کہا تھا کہ وہ افغان عوام کو نقصانات سے بچانے کی خاطر فی الحال بڑے شہروں پر قبضہ کرنے کی کوشش نہیں کریں گے جو کہ ان کے بقول یہاں پر عوام کے شدید جانی نقصانات کا سبب بن سکتا ہے۔

واٹکنز کا کہنا کہ لشکر گاہ پر طالبان شاید فی الحال اپنی عسکری قوت دکھانے کے لیے چند دن کا علامتی قبضہ جمائیں اور اپنے جنگجوں کی حکومتی فورسز کی فضائی بمباری میں جانی نقصانات سے بچانے کے لیے شاید جلد ہی یہاں سے نکل جائیں۔

سابق افغان ڈپٹی منسٹر اور سفارتکار زردشت شمس کا کہنا ہے کہ حالیہ جنگوں میں طالبان کو ہوائی بمباری کی وجہ سے شدید جانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایسے صورتحال میں لشکرگاہ جیسے بڑے شہر کو حکومتی فضائی بمباری کی وجہ سے شائد وہ زیادہ دیر اپنے قبضہ میں نہ رکھ سکے۔

اس لیے شمس کو لگتا ہے کہ شائد طالبان لشکر گاہ پر قبضہ نہیں کریں گے بلکہ اپنے جنگی قوت کے اظہار کے لئے یہاں پر ایک مختصرا قبضہ کر کے حکومتی فورسز پر اپنی برتری دکھانا چاہتے ہیں جس کا مظاہرہ اس کے بقول چھ سال قبل طالبان نے قندوز میں کیا۔

مگر ان دو ماہرین کی رائے پر یہ سوال بھی ابھرتا ہے کہ شاید لشکر گاہ پر طالبان کے قبضہ کے بعد وہاں سے حکومتی فورسز کا ان کو نکال باہر کرنا دیگر صوبوں میں طالبان جنگجوں کے مورال کو نقصان پہنچائے کیونکہ افغان حکومت کے ارکان اور طالبان کے دیگر افغان مخالفین شروع سے یہ کہتے آرہے ہیں کہ طالبان نے اب تک جن اضلاع پر قبضہ کیا وہ دور افتادہ کم آبادی والے علاقے ہیں جبکہ بڑے شہروں میں ملک کی بیشتر آبادی آباد ہے، اس لیے حکومتی فورسز ان کے دفاع پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں اور طالبان کا ان پر قبضہ آسان نہیں۔

بی بی سی اردو

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: