کیا طالبان مغربی ممالک کے پانچ مطالبات مان لیں گے؟

کیا طالبان مغربی ممالک کے پانچ مطالبات مان لیں گے؟

امریکی حکومت، یورپی یونین، نیٹو اور متعدد مغربی ممالک نے گذشتہ ہفتے افغان حکومت اور طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان میں مستقبل کی حکومت کے فریم ورک پر جلد اتفاق رائے کریں۔

روم میں ہونے والے اجلاس میں ان ممالک اور تنظیموں کے نمائندوں نے افغان حکومت اور طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر عبوری حکومت کے لیے کسی معاہدے کو حتمی شکل دیں۔

اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ آئندہ کسی بھی حکومت کو پانچ اہم اصولوں پر غور کرنا چاہیے اور انہیں یقینی بنانا ہوگا۔

بیان کے مطابق یہ پانچ سب سے زیادہ اہم اصول یہ ہیں ’(1) جامع حکمرانی؛ (2) سیاسی رہنماؤں کے انتخاب کا حق؛ (3) انسانی حقوق کے تحفظ بشمول خواتین، نوجوانوں اور اقلیتوں کے حقوق؛ (4) انسداد دہشت گردی سے متعلق وعدے بشمول اس بات کو یقینی بنانا کہ افغانستان دوبارہ دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ کے طور پر کام نہ کرے؛ اور (5) بین الاقوامی قوانین کی پاسداری بشمول بین الاقوامی انسانی قوانین۔ ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مستقبل کی کسی بھی حکومت کی بین الاقوامی حمایت کا انحصار کم از کم جزوی طور پر ان پانچ عناصر کی پاسداری پر ہوگا۔‘

افغان وزارت خارجہ نے اس اجلاس کا اگلے دن جواب دیا اور اس کا خیرمقدم کیا۔ وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ ’ہم اس اعلامیہ میں طے شدہ پانچ اصولوں پر کی تائید کرتے ہیں، جس سے عوام اور حکومت افغانستان کی حقیقی توقعات کا اظہار کیا گیا ہے تاکہ ملک میں پائیدار امن و استحکام کو یقینی بنایا جاسکے۔

’اسلامی جمہوریہ افغانستان کی حکومت طالبان، غیرملکی جنگجوؤں اور علاقائی اور بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں کے حملوں میں اضافے کی مذمت کرنے والے ممالک اور تنظیموں کے موقف کا بھی خیرمقدم کرتی ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2513 کے نفاذ پر زور دینے والے اس اعلامیے کی حمایت کرتی ہے۔‘

لیکن طالبان نے بظاہر روم اجلاس کے مطالبات پر توجہ دیے بغیر جواب دیا۔ ان کے ترجمان محمد نعیم نے میڈیا کو بتایا کہ ان کی تحریک قیام امن کے لیے پرعزم ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ دوحہ معاہدے پر عمل درآمد کے بعد ہی کسی قسم کی جنگ بندی کا آغاز ہو جائے گا۔

نعیم نے 7000 طالبان قیدیوں کی رہائی اور اس گروپ کے رہنماؤں کو اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ سے نکالنے سے متعلق دوحہ معاہدے کا حوالہ دیا ہے۔

لیکن روم سربراہی اجلاس میں طے پانے والے سب سے اہم پہلو پر طالبان نے بات نہیں کی ہے۔ نہ صرف عملی بلکہ زبانی طور پر بھی طالبان ان پانچ اصولوں کو قبول نہیں کرتے ہیں۔

مذاکراتی عمل کے آغاز ہی سے ہی طالبان نے اپنی تجویز دی کہ افغان حکومت کی قیادت ایک کونسل کی خواہشات پر مبنی ہونی چاہیے، یعنی متعدد علما اور بااثر افراد روایتی طور پر اکٹھے ہوکر ایک اجلاس میں اسے طے کریں۔

ایسے مجوزہ نظام میں عوام اور جمہوریت کا کردار مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے۔ طالبان بنیادی طور پر جمہوریت اور انتخابات کے مخالف ہیں اور اسے اپنے مذہبی خیالات کے منافی قرار دیتے ہیں۔

اس کے علاوہ طالبان رہنماؤں کے بیانات میں اشارے دیے گئے ہیں کہ موجودہ حکومت ختم کی جائے اور پھر اگر اس تحریک نے مناسب سمجھا تو دوسروں کے ساتھ اقتدار بانٹنے کا فیصلہ کرے گی۔

اس سلسلے میں تحریک کے سربراہ ملا ہیبت اللہ نے اپنے عید کے موقع پر پیغام میں حکومت اور دیگر سیاست دانوں سے کہا ہے کہ وہ ان کے سامنے ہتھیار ڈال دیں۔

طالبان کے زیر اثر علاقوں میں حقوق انسانی کی صورت حال واضع نہیں۔ سرحدی شہر سپن بولدک میں مبینہ طور پر سینکڑوں شہریوں کی ہلاکت اور جنگجوؤں سے خواتین کی زبردستی شادی جیسی افواہیں گردش میں ہیں۔

طالبان بظاہر اب صرف فوجی طور پر اقتدار پر قبضہ کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ بات اس حد تک بڑھی کہ امریکہ کو اس کا احساس ہوا اور انہوں نے طالبان کی پوزیشنوں پر اپنے حملے دوبارہ شروع کر دیے جو افغانستان سے فوجیوں کے انخلا کے دوران رکے گئے تھے۔

اگر روم سربراہی اجلاس کے مطالبات کو قبول کر لیا جائے تو وہ افغانستان میں استحکام اور سکون لا سکتے ہیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ طالبان ان مطالبات پر زیادہ توجہ نہیں دے رہے ہیں۔

ایسی صورت حال میں عالمی برادری کو طالبان پر مزید دباؤ بڑھانا ہوگا۔ تب ہی شاید طالبان عالمی برادری کے مطالبات پر عمل کرنے پر مجبور ہوں۔

انڈیپینڈینٹ اردو

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: