گاڑیوں کی قیمتیں 2023 تک تیزی سے بڑھتے رہنے کا امکان؟

گاڑیوں کی قیمتیں 2023 تک تیزی سے بڑھتے رہنے کا امکان؟

گذشتہ سال کمپیوٹر چپس کی وہ قلت جس کی وجہ سے گاڑیوں کی قیمتیں بڑھ گئی تھیں، بالآخر ختم ہوتے دکھائی دی اور صارفین کے لیے کچھ سہولت نظر آنے لگی لیکن اب یہ امید ماند پڑ چکی ہے۔

گاڑیوں میں استعمال ہونے والی کمپیوٹر چپس  بنانے  والے متعدد بڑے ایشیائی ملکوں میں کرونا وائرس ڈیلٹا ویرینٹ کیس بڑھنے سے کمپیوٹر چپس قلت کی صورت حال مزید بگڑ رہی ہے۔ یہ قلت گاڑیوں کی پیداوار کی معمول پر واپسی میں مزید تاخیر کا سبب بن رہی ہے جب کہ گاڑیوں کی قیمتوں کو مصنوعی طور پر کم رکھا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی ریکارڈ زیادہ قیمتیں، چاہے وہ نئی ہوں یا پرانی یا کرائے پر لی جانے والی کاریں، اگلےسال بھی برقرار رہیں گی اور ہو سکتا ہے کہ 2023 تک ان میں کمی نہ آئے۔

عالمی سطح پر گاڑیوں کے پرزہ جات کی قلت کمپیوٹر چپس تک ہی محدود نہیں رہی۔ کار ساز کمپنیوں کو تاروں، پلاسٹک اور شیشے کی کمی کا سامنا بھی  شروع ہو چکا ہے۔

گاڑیوں کے علاوہ زرعی آلات اور صنعتی مشینری سے لے کر کھیلوں کے ملبوسات اور باورچی خانے کے لوازمات کی تیاری کے لیے لازمی اجزا دنیا بھر کی بندرگاہوں پر پڑے ہیں ہیں جب کہ کرونا وائرس کی دوبارہ آنے والی لہر نے رسد کے مقابلے میں طلب  میں اضافہ کر دیا ہے۔

امریکی ریاست اوہائیو کے علاقے کینٹن میں چار کار ساز کمپنیوں کے ڈیلر گلین میئرز کے مطابق: ’ایسا لگتا ہے کہ آسانی سے پہلے مشکل بڑھے گی۔‘

پرزہ جات کی قلت کی وجہ سے جنرل موٹرز اور فورڈ نے شمالی امریکہ میں اپنے کئی کارخانے ایک یا دو ہفتے کے لیے بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

ان کارخانوں میں سے بعض میں گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کے بے حد مقبول بڑے پک اپ ٹرک بنائے جاتے ہیں۔ گذشتہ ماہ سیمی کنڈکٹرز (نیم موصل) کی قلت اتنی زیادہ ہو گئی کہ ٹویوٹا کمپنی کو اعلان کرنا پڑا کہ وہ جاپان اور شمالی امریکہ میں دو ماہ کے لیے اپنی پیداوار میں کم از کم 40 فیصد کمی کر دے گی۔

پیدوار میں اس کمی کا مطلب ہے کہ ستمبر میں دنیا بھر میں تین لاکھ 60 ہزار کم گاڑیاں بنیں گی۔ ٹویوٹا کمپنی جو گاہے بگاہے کارخانے بند کرنے سے گریز کرتی رہی ہے، اب وہ اکتوبر میں پیدواری خسارہ دیکھ رہی ہے۔ اس سال وقتاًفوقتاً کارخانوں کی بندش سے ٹویوٹا کی حریف کمپنیوں کو تباہ کر کے رکھ دیا۔

آٹو کمپنی نسان، جس نے اگست کے وسط میں اعلان کیا تھا کہ وہ کمپیوٹر چپس کی قلت کی وجہ سے امریکی ریاست ٹینیسی کے علاقے سمرنا میں واقع اپنی بڑی فیکٹری کو 30 اگست تک بند رکھنے پر مجبور ہو جائے گی، اب اس کا کہنا ہے کہ کارخانہ 13 ستمبر تک بند رہے گا۔

ہونڈا کے ڈیلرز کم شپمنٹس کی تیاری کر رہے ہیں۔ ہونڈا کے ترجمان کرس ایبروزاسی کہتے ہیں کہ’یہ ایک عارضی صورت حال جو عالمی سطح پر پوری صنعت کے رسد کے نظام کو متاثر کر رہی ہے اور ہم ضرورت کے مطابق پیدوار میں تبدیلیاں کر رہے ہیں۔‘

موجودہ صورت کا نتیجہ یہ ہے کہ گاڑیوں کے خریدار قیمتوں میں مسلسل اور ایسے اضافے کا سامنا کر رہے ہیں جس کے بارے میں کبھی سوچنا بھی ناممکن تھا۔ اگست میں امریکہ میں ایک نئی گاڑی 41 ہزار ڈالر کی اوسط قیمت پر فروخت ہوئی جو ایک ریکارڈ قیمت ہے۔ قیمتوں پر نظر رکھنے والے ادارے جے ڈی پاور کے اندازے کے مطابق صرف دو سال پہلے کے مقابلے میں قیمت میں یہ اضافہ تقریباً 8200 ڈالر ہے۔

گاڑیوں کی طلب اب بھی زیادہ ہے اور گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں قیمتوں میں کمی کے لیے کسی حد تک دباؤ محسوس کر رہی ہیں۔ قلت کا شکار کمپیوٹر چپس کو بچانے کے لیے کمپنیاں ان کا مہنگی گاڑیوں میں استعمال پر مجبور ہو گئی ہیں جس کی مثال پک اپ ٹرکس اور بڑی سپورٹ یوٹیلٹی وہیکلز (ایس یو ویز) ہیں۔ اس طرح ان گاڑیوں کی اوسط قیمت بڑھی ہے۔

آٹو اور دوسری صنعتوں کو بری طرح متاثر کرنے والی کمپیوٹر چپس کی قلت کا سبب گذشتہ سال کے شروع میں کرونا وائرس کی وبا ہے۔ وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے امریکی کار ساز کمپنیوں کو آٹھ ہفتے تک کارخانے بند کرنے پڑے۔

فاضل پرزے بنانے والی بعض کمپنیوں نے سیمی کنڈکٹرز کے آرڈرز منسوخ کر دیے۔ اس کے ساتھ ہی کروڑوں لوگ گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے اور لیپ ٹاپس، ٹیبلٹس اور گیمنگ کنسولز کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔

جب گاڑیوں کی پیداوار دوبارہ شروع ہوئی تو طلب بہت بڑھ چکی تھی لیکن کمپیوٹر چپس بنانے والوں نے اپنی توجہ صارفین کے استعمال میں آنے والے سامان کی طرف منتقل کر دی اور اس طرح موسم کے مقابلے کی صلاحیت رکھنے والی گاڑیوں میں استعمال ہونے کے لائق کمپیوٹر چپس کی قلت پیدا ہو گئی۔

اس کے بعد جب گذشتہ موسم بہارکے آخر میں آٹو چپس کی تیاری دوبارہ شروع ہوئی تو کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے والے ڈیلٹا ویرینٹ نے ملائشیا اور دوسرے ایشیائی ممالک کو لپیٹ میں لے لیا جہاں کمپیوٹر چپس کی تیاری کا آخری مرحلہ مکمل ہوتا ہے اور آٹو پارٹس تیار کیے جاتے ہیں۔

انڈیپینڈینٹ اردو

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: