جوہری جنگ جیتی نہیں جاسکتی اور یہ کبھی نہیں ہونی چاہئے‘:بائیڈن اور پوٹن کا اعتراف

جوہری جنگ جیتی نہیں جاسکتی اور یہ کبھی نہیں ہونی چاہئے‘:بائیڈن اور پوٹن کا اعتراف

امریکی صدر جو بائیڈن اورروسی صدر ولادیمیر پوٹن کے مابین متعدد اہم عالمی امور اور کئی اختلافی معاملات پر جنیوا میں اعلی سطحی بات چیت مکمل ہو گئی ہے۔

صدر جو بائیڈن اور صدر ولادیمیر پوٹن کے درمیان پہلی براہ راست ملاقات کو امریکی رہنما نے ‘کافی کامیاب‘ اور روسی رہنما نے ’تعمیری‘ قرار دیا۔ دونوں رہنماوں نے اپنے سفیروں کو ایک دوسرے کے ملکوں میں واپس بھجوانے پر اتفاق کیا۔

امریکا اور روس کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ایک جھیل کے کنارے واقع ولا میں تقریباً چار گھنٹے تک دونوں رہنماوں نے پہلی مرتبہ براہ راست بات چیت کی۔ حالانکہ بائیڈن کے مشیروں نے ملاقات کے اس سے زیادہ طویل ہونے کے امکانات ظاہر کیے تھے۔

میٹنگ کے بعد فریقین نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا۔ جس میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماوں نے متعدد عالمی اور باہمی امور کے علاوہ جوہری ہتھیاروں کے پھیلاو کے معاملے پر بھی بات کی اور وہ اس بات پر متفق تھے کہ ”جوہری جنگ جیتی نہیں جا سکتی اور یہ جنگ کبھی نہیں ہونی چاہیے۔”

مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے مابین کشیدگی کے باوجود مشترکہ اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ”امریکا اور روس مستقبل قریب میں ایک تفصیلی مربوط باہمی اسٹریٹیجک استحکام ڈائیلاگ منعقد کریں گے۔ اور مستقبل میں ہتھیاروں کے کنٹرول اور خطرات کو کم کرنے کے اقدامات کے لیے زمین ہموار کریں گے۔”

DW.com

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: